تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 58

وَ اِنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا نَحۡنُ مُہۡلِکُوۡہَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡہَا عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ کَانَ ذٰلِکَ فِی الۡکِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا ﴿۵۸﴾
اور کوئی بھی بستی نہیں مگر ہم قیامت کے دن سے پہلے اسے ہلاک کرنے والے ہیں، یا اسے عذاب دینے والے ہیں، بہت سخت عذاب۔ یہ (بات) ہمیشہ سے کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ En
اور (کفر کرنے والوں کی) کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلاک کردیں گے یا سخت عذاب سے معذب کریں گے۔ یہ کتاب (یعنی تقدیر) میں لکھا جاچکا ہے
En
جتنی بھی بستیاں ہیں ہم قیامت کے دن سے پہلے پہلے یا تو انہیں ہلاک کردینے والے ہیں یا سخت تر سزا دینے والے ہیں۔ یہ تو کتاب میں لکھا جاچکا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلانے والی کوئی بستی ایسی نہیں جسے روز قیامت سے پہلے ہلاکت یا عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور اس کی مقرر کردہ تقدیر ہے جس کا وقوع لازمی ہے، لہٰذا اس سے قبل کہ عذاب کا حکم آ جائے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہو جائے تکذیب کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اس کے رسولوں کی تصدیق کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ما من قريةٍ من القُرى المكذِّبة للرسل إلاَّ لا بدَّ أن يصيبهم هلاكٌ قبل يوم القيامة أو عذابٌ شديدٌ، كتابٌ كتبه الله وقضاءٌ أبرمه لا بدَّ من وقوعه؛ فليبادر المكذِّبون بالإنابة إلى الله وتصديق رُسُلِهِ قبل أن تتمَّ عليهم كلمةُ العذاب ويحقَّ عليهم القول.