وہ لوگ جنھیں یہ پکارتے ہیں، وہ (خود) اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں، جوان میں سے زیادہ قریب ہیں اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک تیرے رب کا عذاب وہ ہے جس سے ہمیشہ ڈرا جاتا ہے۔
En
یہ لوگ جن کو (خدا کے سوا) پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب ہوتا ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔ بےشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے
جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وه اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیاده نزدیک ہوجائے وه خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوفزده رہتے ہیں، (بات بھی یہی ہے) کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مشرکین اللہ کے سوا جن لوگوں کی عبادت کرتے ہیں وہ ان سے بے خبر ہیں، وہ خود اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اوراس کی طرف وسیلہ کے متلاشی ہیں۔ فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَالَّذِیْنَیَدْعُوْنَ﴾”وہ لوگ جن کو یہ پکارتے ہیں “ یعنی انبیاء و صالحین اور فرشتے ﴿ یَبْتَغُوْنَاِلٰىرَبِّهِمُالْوَسِیْلَةَاَیُّهُمْاَ٘قْ٘رَبُ ﴾”وہ ڈھونڈھتے ہیں اپنے رب کی طرف وسیلہ کہ کون زیادہ نزدیک ہے“ یعنی اپنے رب کے قرب کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور مقدور بھر ایسے اعمال میں اپنی پوری کوشش صرف کرتے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ہیں ﴿وَیَرْجُوْنَرَحْمَتَهٗوَیَخَافُوْنَعَذَابَهٗ﴾”اور اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔“ پس وہ ہر اس کام سے اجتناب کرتے ہیں جو عذاب کا موجب ہے۔ ﴿ اِنَّعَذَابَرَبِّكَكَانَمَحْذُوْرًؔا﴾”آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کے لائق ہے“ اس لیے ضروری ہے کہ ان تمام اسباب سے بچا جائے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں۔
خوف، امید اور محبت، یہ تین امور جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مقربین کا وصف قرار دیا ہے، ہر بھلائی کی اساس ہیں۔ جس نے ان تینوں امور کی تکمیل کر لی، اس کے تمام امور مکمل ہو گئے اور اگر قلب ان امور سے خالی ہے تو وہ تمام بھلائیوں سے محروم ہو جائے گا اور برائیاں اس کو گھیر لیں گی اور اللہ تعالیٰ نے محبت الٰہی کی علامت یہ بتائی ہے کہ بندہ ہر اس کام میں جدوجہد کرتا ہے جو قرب الٰہی کا ذریعہ ہے اور اپنے تمام اعمال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، خیرخواہی اور حتی المقدور ان کو بہترین طریقے سے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر کے اس کے قرب کے حصول کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ ان تمام امور کے بغیر اگر کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر أيضاً أنَّ الذين يعبُدونهم من دون الله في شغل شاغل عنهم باهتمامهم بالافتقار إلى الله وابتغاء الوسيلة إليه؛ فقال: {أولئك الذين يَدْعونَ}: من الأنبياء والصالحين والملائكة، {يَبْتَغون إلى ربِّهم الوسيلةَ أيُّهم أقربُ}؛ أي: يتنافسون في القرب من ربِّهم، ويبذُلون ما يقدرون عليه من الأعمال الصالحة المقرِّبة إلى الله تعالى وإلى رحمتِه، {ويخافون عذابَه}: فيجتنبون كلَّ ما يوصِلُ إلى العذاب. {إنَّ عذاب ربِّك كان محذوراً}؛ أي: هو الذي ينبغي شدَّة الحذر منه والتوقِّي من أسبابه. وهذه الأمور الثلاثةُ الخوف والرجاء والمحبَّة التي وَصَفَ الله بها هؤلاء المقرَّبين عنده هي الأصل والمادَّة في كلِّ خير؛ فمن تَمَّتْ له؛ تَمَّتْ له أموره، وإذا خلا القلبُ منها؛ ترحَّلت عنه الخيرات، وأحاطت به الشرور.
وعلامة المحبَّة ما ذَكَرَهُ الله أن يجتهد العبدُ في كلِّ عَمَلٍ يقرِّبُه إلى الله، وينافس في قربه بإخلاص الأعمال كلِّها لله، والنُّصح فيها وإيقاعها في أكمل الوجوه المقدور عليها؛ فمن زعم أنه يحبُّ الله بغير ذلك؛ فهو كاذب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔