تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ مشرک کہا کرتے تھے کہ ہم فرشتوں، مسیح اور عزیر کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کے معبود تو خود اللہ کی نزدیکی کی جستجو میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ { جن جنات کی یہ مشرکین پرستش کرتے تھے وہ خود مسلمان ہو گئے تھے لیکن یہ اب تک اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4714]
اس لیے انہیں خبردار کیا گیا کہ تمہارے معبود خود اللہ کی طرف جھک گئے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ جن فرشتوں کی ایک قسم سے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام، مریم علیہا السلام، عزیر علیہ السلام، سورج چاند، فرشتے سب قرب الٰہی کی تلاش میں ہیں۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک مطلب یہ ہے کہ جن جنوں کو یہ پوجتے تھے آیت میں وہی مراد ہیں کیونکہ مسیح علیہ السلام وغیرہ کا زمانہ تو گزر چکا تھا اور فرشتے پہلے ہی سے عابد الٰہی تھے تو مراد یہاں بھی جنات ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر أيضاً أنَّ الذين يعبُدونهم من دون الله في شغل شاغل عنهم باهتمامهم بالافتقار إلى الله وابتغاء الوسيلة إليه؛ فقال: {أولئك الذين يَدْعونَ}: من الأنبياء والصالحين والملائكة، {يَبْتَغون إلى ربِّهم الوسيلةَ أيُّهم أقربُ}؛ أي: يتنافسون في القرب من ربِّهم، ويبذُلون ما يقدرون عليه من الأعمال الصالحة المقرِّبة إلى الله تعالى وإلى رحمتِه، {ويخافون عذابَه}: فيجتنبون كلَّ ما يوصِلُ إلى العذاب. {إنَّ عذاب ربِّك كان محذوراً}؛ أي: هو الذي ينبغي شدَّة الحذر منه والتوقِّي من أسبابه. وهذه الأمور الثلاثةُ الخوف والرجاء والمحبَّة التي وَصَفَ الله بها هؤلاء المقرَّبين عنده هي الأصل والمادَّة في كلِّ خير؛ فمن تَمَّتْ له؛ تَمَّتْ له أموره، وإذا خلا القلبُ منها؛ ترحَّلت عنه الخيرات، وأحاطت به الشرور.
وعلامة المحبَّة ما ذَكَرَهُ الله أن يجتهد العبدُ في كلِّ عَمَلٍ يقرِّبُه إلى الله، وينافس في قربه بإخلاص الأعمال كلِّها لله، والنُّصح فيها وإيقاعها في أكمل الوجوه المقدور عليها؛ فمن زعم أنه يحبُّ الله بغير ذلك؛ فهو كاذب.