تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 55

وَ رَبُّکَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ لَقَدۡ فَضَّلۡنَا بَعۡضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا ﴿۵۵﴾
اور تیرا رب ان کو زیادہ جاننے والا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور بلاشبہ یقینا ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت بخشی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔ En
اور جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں تمہارا پروردگار ان سے خوب واقف ہے۔ اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت بخشی اور داؤد کو زبور عنایت کی
En
آسمانوں وزمین میں جو بھی ہے آپ کا رب سب کو بخوبی جانتا ہے۔ ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر بہتری اور برتری دی ہے اور داؤد کو زبور ہم نے عطا فرمائی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں یعنی وہ تمام مخلوق کو جانتا ہے۔ پس ان میں سے جو کوئی جس چیز کا مستحق ہے اور اس کی حکمت جس کا تقاضا کرتی ہے اسے وہی عطا کرتا ہے اور وہ تمام حسی اور معنوی خصائل میں ان کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا کرتا ہے۔ جیسے اس نے بعض انبیاء علیہم السلام کو وحی میں ان کے اشتراک کے باوجود بعض فضائل اور خصائص میں، جو محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، بعض پر فضیلت دی ہے، مثلاً:اوصاف ممدوحہ، اخلاق جمیلہ، اعمال صالحہ، کثرت متبعین اور ان میں سے بعض پر کتابوں کا نزول جو عقائد اور احکام شریعت پر مشتمل ہیں، جیسا کہ داؤد علیہ السلام پر زبور نازل فرمائی جو کہ ایک معروف آسمانی کتاب ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا کی ہے اور ان میں سے بعض کو کتاب شریعت عطا کی تو پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے کفار اس کتاب اور نبوت کا کیوں انکار کرتے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی اور اس فضیلت کا کیوں انکار کرتے ہیں جو آپ کو عطا کی گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وربُّك أعلمُ بمن في السمواتِ والأرض}: من جميع أصناف الخلائق، فيعطي كلاًّ منهم ما يستحقُّه وتقتضيه حكمتُه، ويفضِّل بعضَهم على بعض في جميع الخصال الحسيَّة والمعنويَّة؛ كما فضَّل بعض النبيِّين المشتركين بوحيه على بعضٍ، بالفضائل والخصائص الرَّاجعة إلى ما مَنَّ به عليهم، من الأوصاف الممدوحة، والأخلاق المرضيَّة والأعمال الصالحة وكَثْرة الأتباع ونزول الكتب على بعضهم، المشتملة على الأحكام الشرعيَّة والعقائد المرضيَّة؛ كما أنزل على داود زَبوراً، وهو الكتاب المعروف؛ فإذا كان تعالى قد فضَّل بعضَهم على بعضٍ وآتى بعضهم كتباً؛ فِلمَ ينكِرُ المكذِّبون لمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم - ما أنزله الله عليه وما فضَّله به من النبوَّة والكتاب؟