(آیت 52) ➊ {يَوْمَيَدْعُوْكُمْفَتَسْتَجِيْبُوْنَبِحَمْدِهٖ:} یعنی اس کے بلانے پر تم اس کے مطیع و فرماں بردار بن کر اور اس کی حمد کرتے ہوئے قبروں سے اٹھ آؤ گے۔ دنیا کی طرح کسی قسم کی سرکشی اور انکار کے بجائے اللہ کی حمد کرو گے اور اس کے سامنے مکمل اطاعت کا اظہار کرو گے۔ (دیکھیے نحل: ۸۷) یا یہ مطلب ہے کہ تم اس کے بلانے پر حاضر ہو جاؤ گے۔ {”بِحَمْدِهٖ“} کا معنی {”وَلِلّٰهِالْحَمْدُ“} ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے بلانے پر تمھارا قبروں سے اٹھ کر حاضر ہو جانا صرف اللہ تعالیٰ ہی کی خوبی ہے، جس پر صرف وہی مستحق حمد و ثنا ہے۔ ➋ { يَوْمَيَدْعُوْكُمْفَتَسْتَجِيْبُوْنَبِحَمْدِهٖ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس کی آیت (۴۵) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
52۔ 1 ' بلائے گا ' کا مطلب ہے قبروں سے زندہ کر کے اپنی بارگاہ میں حاضر کرے گا، تم اس کی حمد کرتے ہوئے تعمیل ارشاد کرو گے یا اسے پہچانتے ہوئے اس کے پاس حاضر ہوجاؤ گے۔ 52۔ 2 وہاں یہ دنیا کی زندگی بالکل تھوڑی معلوم ہوگی۔ کانھم یوم یرونھا لم یلبثوا الا عشیۃ او ضحہا۔ النازعات۔ جب قیامت کو دیکھ لیں گے، تو دنیا کی زندگی انھیں ایسے لگے گی گویا اس میں ایک شام یا ایک صبح رہے ہیں ' اسی مضمون کو دیگر مقامات میں بھی بیان کیا گیا ہے بعض کہتے ہیں کہ پہلا صور پھونکیں گے تو سب مردے قبروں میں زندہ ہوجائیں گے۔ پھر دوسرے صور پر میدان محشر میں حساب کتاب کے لئے اکٹھے ہونگے۔ دونوں صور کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہوگا اور اس فاصلے میں انھیں کوئی عذاب نہیں دیا جائے گا، وہ سو جائیں گے۔ دوسرے صور پر اٹھیں گے تو کہیں گے ' افسوس، ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا؟ ' (قَالُوْايٰوَيْلَنَامَنْۢبَعَثَنَامِنْمَّرْقَدِنَاۆھٰذَامَاوَعَدَالرَّحْمٰنُوَصَدَقَالْمُرْسَلُوْنَ) 36۔ یس:52) (فتح القدیر) پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
52۔ جس دن وہ تمہیں بلائے گا تو تم اس کی تعریف کرتے ہوئے [63] پکار کے جواب میں حاضر ہو جاؤ گے اور یہ خیال کر رہے ہو گے کہ تم (دنیا میں) تھوڑی ہی دیر ٹھہرے تھے۔
[63] یعنی جب قیامت آگئی اور اللہ نے تمہیں زندہ کر کے اٹھ کھڑا ہونے اور اپنے پاس حاضر ہونے کا حکم دے دیا تو تم بلا چون و چرا اس کے سامنے از خود حاضر ہو جاؤ گے اور یہ سب باتیں تمہیں بھول جائیں گی۔ پھر اس دن چونکہ سب حجابات اٹھ جائیں گے اور ہر انسان یہ دیکھ رہا ہو گا کہ قادر مطلق تو صرف ایک اللہ کی ذات ہے لہٰذا تم صرف اللہ کی پکار پر حاضر ہی نہ ہو گے بلکہ اس کی تعریف کے گن گاتے حاضر ہو گے اور اس دن یہ دنیا کی زندگی تمہیں بس ایک سہانا خواب ہی معلوم ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ یَوْمَیَدْعُوْؔكُمْ ﴾”جس دن وہ تم کو پکارے گا“ جب موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ تمھیں پکارے گا اور صور پھونکا جائے گا۔ ﴿فَتَسْتَجِیْبُوْنَبِحَمْدِهٖ ﴾”پس تم اس کی خوبی بیان کرتے ہوئے چلے آؤ گے“ یعنی تم اس کے حکم کی تعمیل کرو گے اور تم اس کی نافرمانی نہیں کر سکو گے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بِحَمْدِهٖ ﴾سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فعل پر قابل ستائش ہے۔ جب وہ اپنے بندوں کو قیامت کے روز اکٹھا کرے گا تو ان کو جزا دے گا۔ ﴿ وَتَظُنُّوْنَاِنْلَّبِثْتُمْاِلَّاقَلِیْلًا﴾”اور تم خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) تھوڑا ہی عرصہ ٹھہرے ہو“ یعنی قیامت کے نہایت سرعت کے ساتھ واقع ہونے کی بنا پر اور جو نعمتیں تمھیں حاصل رہی ہیں۔ گویا کہ یہ سب کچھ واقع ہوا ہی نہیں۔ پس وہ لوگ جو قیامت کا انکار کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿مَتٰىهُوَ﴾”قیامت کا دن کب ہو گا؟“ وہ قیامت کے ورود کے وقت بہت نادم ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا: ﴿ هٰؔذَاالَّذِیْكُنْتُمْبِهٖتُكَذِّبُوْنَ﴾ (المطففین: 83؍17) ”یہ وہی دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يوم يدعوكم}: للبعث والنُّشور وينفُخ في الصور، {فتستجيبونَ بحمدِهِ}؛ أي: تنقادون لأمرِهِ ولا تستعصونَ عليه. وقوله: {بحمده}؛ أي: هو المحمود تعالى على فعله، ويجزي به العباد إذا جمعهم ليوم التَّنادِ، {وتظنُّونَ إن لَبِثْتُم إلاَّ قليلاً}: من سرعة وقوعه، وأنَّ الذي مرَّ عليكم من النعيم كأنَّه ما كان؛ فهذا الذي يقول عنه المنكرون: متى هو؟ يندمون غاية الندم عند ورودِهِ، ويُقال لهم: هذا الذي كنتُم به تكذِّبون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔