تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 4

وَ قَضَیۡنَاۤ اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ فِی الۡکِتٰبِ لَتُفۡسِدُنَّ فِی الۡاَرۡضِ مَرَّتَیۡنِ وَ لَتَعۡلُنَّ عُلُوًّا کَبِیۡرًا ﴿۴﴾
اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں فیصلہ سنا دیا تھا کہ بے شک تم زمین میں ضرور دو بار فساد کرو گے اور بے شک تم ضرور سرکشی کرو گے، بہت بڑی سرکشی۔ En
اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے
En
ہم نے بنی اسرائیل کے لئے ان کی کتاب میں صاف فیصلہ کردیا تھا کہ تم زمین میں دوبار فساد برپا کرو گے اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کرو گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ آئیں اور نصیحت پکڑیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقَضَيْنا إلى بني إسرائيل}؛ أي: تقدَّمنا وعَهِدْنا إليهم وأخبرناهم في كتابهم أنهم لا بدَّ أن يقعَ: منهم إفسادٌ في الأرض مرتين بعمل المعاصي والبَطَر لنعم الله والعلوِّ في الأرض والتكبُّر فيها، وأنَّه إذا وقع واحدةٌ منهما؛ سلَّطَ الله عليهم الأعداء وانتقم منهم، وهذا تحذيرٌ لهم وإنذارٌ لعلَّهم يرجعون فيتذكَّرون.