تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 3

ذُرِّیَّۃَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَبۡدًا شَکُوۡرًا ﴿۳﴾
اے ان لوگوں کی اولاد جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا! بے شک وہ بہت شکر گزار بندہ تھا۔ En
اے اُن لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا۔ بےشک نوح (ہمارے) شکرگزار بندے تھے
En
اے ان لوگوں کی اوﻻد! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کردیا تھا، وه ہمارا بڑا ہی شکرگزار بنده تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا اس میں نوح علیہ السلام کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوح علیہ السلام کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنا مع نوح}؛ أي: يا ذُرِّيَّة مَنْ مَنَنَّا عليهم وحملناهم مع نوح. {إنَّه كان عبداً شكوراً}: ففيه التنويه بالثناء على نوح عليه السلام بقيامه بشكر الله واتِّصافه بذلك، والحثِّ لذُرِّيَّتِهِ أن يقتدوا به في شكره ويتابعوه عليه، وأن يتذكَّروا نعمةَ الله عليهم إذْ أبقاهم، واستخلفهم في الأرض، وأغرق غيرهم.