تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلَاتَ٘مْشِفِیالْاَرْضِمَرَحًا﴾”اور زمین میں اتراتا ہوا مت چل“ یعنی تکبر، غرور، اتراہٹ، حق کے سامنے استکبار اور تکبر کے ساتھ مخلوق سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے زمین پر مت چلو۔ ﴿اِنَّكَ ﴾”بے شک تو“﴿ لَ٘نْتَخْرِقَالْاَرْضَوَلَ٘نْتَبْلُ٘غَالْجِبَالَطُوْلًا﴾”بے شک تو پھاڑ نہ ڈالے گا زمین کو اور نہ پہنچے گا پہاڑوں کو لمبا ہو کر“ بلکہ اس کے برعکس تو اللہ تعالیٰ کے سامنے بہت حقیر ہوگا اور مخلوق کے نزدیک بہت ذلیل، ناپسندیدہ اور مذموم ہوگا۔ بلاشبہ جن چیزوں کا تونے قصد کیا ہے ان میں بغیر سوچے سمجھے تو نے بدترین اور رذیل ترین اخلاق کا اکتساب کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {ولا تمشِ في الأرض مَرَحاً}؛ أي: كبراً وتيهاً وبطراً متكبِّراً على الحقِّ ومتعاظماً على الخلق. {إنَّك}: في فعلك ذلك {لن تَخْرِقَ الأرض ولن تبلُغَ الجبال طولاً}: في تكبُّرك بل تكون حقيراً عند الله، ومحتقراً عند الخلق، مبغوضاً، ممقوتاً، قد اكتسبت شرَّ الأخلاق، واكتسيت بأرذلها، من غير إدراك لبعض ما تروم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔