تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 36

وَ لَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾
اور اس چیز کا پیچھا نہ کر جس کا تجھے کوئی علم نہیں۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک، اس کے متعلق سوال ہوگا۔ En
اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی
En
جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ۔ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اس چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمھیں علم نہیں بلکہ تم جو کچھ کہتے یا کرتے ہو، اس کے بارے میں پوری تحقیق کر لیا کرو اور یہ خیال نہ کرو کہ تمھارا قول و فعل یوں ہی ختم ہو جائے گا، تمھیں اس کا کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہوگا۔ ﴿اِنَّ السَّمْعَ وَالْ٘بَصَرَ وَالْفُؤَادَؔ كُ٘لُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا بے شک کان، آنکھ اور دل ان سب کی اس سے پوچھ ہوگی پس جو بندہ یہ جانتا ہے کہ اس سے اس کے قول و فعل کے بارے میں پوچھا جائے گا اور اس بارے میں اسے جواب دہی کرنی ہو گی کہ اس نے اپنے ان اعضاء کو کہاں کہاں استعمال کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے… اس پر لازم ہے کہ وہ اس سوال کا جواب تیار کر لے۔ ان امور کا جواب اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اس نے ان اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں استعمال نہ کیا ہو، دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص نہ کیا ہو اور ان باتوں سے باز نہ رہا ہو جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ولا تتَّبع ما ليس لك به علم، بل تثبَّت في كلِّ ما تقوله وتفعله؛ فلا تظنَّ ذلك يذهب لا لك ولا عليك. {إنَّ السمع والبصر والفؤاد كلُّ أولئك كان عنه مسؤولاً}: فحقيق بالعبد الذي يعرف أنه مسؤول عما قاله وفعله وعما استعمل به جوارحه التي خلقها الله لعبادته أن يُعِدَّ للسؤال جواباً، وذلك لا يكون إلاَّ باستعمالها بعبوديَّة الله، وإخلاص الدِّين له، وكفِّها عما يكرهه الله تعالى.