تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 38

کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ عِنۡدَ رَبِّکَ مَکۡرُوۡہًا ﴿۳۸﴾
یہ سب کام، ان کا برا تیرے رب کے ہاں ہمیشہ سے ناپسندیدہ ہے۔ En
ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے
En
ان سب کاموں کی برائی تیرے رب کے نزدیک (سخت) ناپسند ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ كُ٘لُّ ذٰلِكَ مذکورہ تمام امور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے جن کا ذکر گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ میں گزر چکا ہے، نیز والدین کی نافرمانی وغیرہ۔ ﴿كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ اس کی برائی آپ کے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے یعنی ان میں سے ہر برائی کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ یہ برائی برا سلوک کرے گی اور ان کو نقصان پہنچائے گی اور اللہ تعالیٰ اس برائی کو ناپسند کرتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{كل ذلك}: المذكور الذي نهى الله عنه فيما تقدَّم من قوله: {لا تَجْعَلْ مع الله إلهاً آخر}، والنهي عن عقوق الوالدين، وما عُطِف على ذلك، {كان سَيِّئُهُ عند ربِّك مكروهاً}؛ أي: كل ذلك يسوء العاملين ويضرُّهم والله تعالى يكرهه ويأباه.