اور ماپ کو پورا کرو، جب ماپو اور سیدھی ترازو کے ساتھ وزن کرو۔ یہ بہترین ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت زیادہ اچھا ہے۔
En
اور جب (کوئی چیز) ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کر دو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عدل اور ناپ تول کو بغیر کسی کمی کے انصاف کے ساتھ پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ آیت کے عمومی معنی سے دھوکہ دہی، اندازے سے قیمت لگانے، کسی چیز کی قیمت طے ہونے کے بعد کسی دوسرے شخص کی طرف سے قیمت لگانے کی ممانعت اور معاملات میں خیرخواہی اور صداقت مستنبط ہوتی ہے۔ ﴿ذٰلِكَخَیْرٌ ﴾”یہ بہتر ہے“ اس کے نہ ہونے سے ﴿ وَّاَحْسَنُتَاْوِیْلًا﴾”اور اس کا انجام اچھا ہے“ یعنی یہ عدل انجام کے اعتبار سے بہتر ہے، بندہ تاوان اور نقصان سے محفوظ رہتا ہے اور عدل و انصاف اور ناپ تول پورا کرنے سے برکت نازل ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا أمرٌ بالعدل وإيفاء المكاييل والموازين بالقسط من غير بخسٍ ولا نقص. ويؤخذ من عموم المعنى، النهي عن كلِّ غشٍّ في ثمنٍ أو مثمَّنٍ أو معقودٍ عليه، والأمر بالنُّصح والصدق في المعاملة. {ذلك خيرٌ}: من عدمه، {وأحسنُ تأويلاً}؛ أي: أحسن عاقبة، به يسلم العبد من التَّبِعات، وبه تنزل البركة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔