تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں۔ اس لیے یہاں فرمایا: ﴿ وَاٰتَیْنَامُوْسَىالْكِتٰبَ ﴾”اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب“ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلْنٰهُهُدًىلِّبَنِیْۤاِسْرَآءِیْلَ ﴾”اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے“ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا:﴿ اَلَّاتَتَّؔخِذُوْامِنْدُوْنِیْوَؔكِیْلًا﴾”تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا“ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
كثيراً ما يَقْرِنُ الباري بين نبوَّة محمد - صلى الله عليه وسلم - ونبوَّة موسى - صلى الله عليه وسلم - وبين كتابيهما وشريعتيهما؛ لأنَّ كتابيهما أفضل الكتب، وشريعتيهما أكمل الشرائع، ونبوَّتيهما أعلى النبوَّات، وأتباعهما أكثر المؤمنين، ولهذا قال هنا: {وآتينا موسى الكتابَ}: الذي هو التوراة، {وجَعَلْناه هدىً لبني إسرائيل}: يهتدونَ به في ظُلُمات الجهل إلى العلم بالحقِّ. {ألاَّ تتَّخذوا مِن دوني وكيلاً}؛ أي: وقلنا لهم ذلك، وأنزلنا إليهم الكتاب لذلك؛ ليعبدوا الله وحده، ويُنيبوا إليه، ويتَّخذوه وحدَه وكيلاً ومدبراً لهم في أمر دينهم ودُنياهم، ولا يتعلَّقوا بغيره من المخلوقين الذين لا يملكون شيئاً ولا ينفعونَهم بشيءٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔