تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 29

وَ لَا تَجۡعَلۡ یَدَکَ مَغۡلُوۡلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبۡسُطۡہَا کُلَّ الۡبَسۡطِ فَتَقۡعُدَ مَلُوۡمًا مَّحۡسُوۡرًا ﴿۲۹﴾
اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا کرلے اور نہ اسے کھول دے، پورا کھول دینا، ورنہ ملامت کیا ہوا، تھکا ہارا ہو کر بیٹھ رہے گا۔ En
اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل کھول ہی دو (کہ سبھی دے ڈالو اور انجام یہ ہو) کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ
En
اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ اسے بالکل ہی کھول دے کہ پھر ملامت کیا ہوا درمانده بیٹھ جائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور یہاں فرمایا: ﴿ وَلَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ اور نہ رکھ اپنا ہاتھ بندھا ہوا اپنی گردن کے ساتھ یہ بخل اور خرچ نہ کرنے کے لیے کنایہ ہے۔ ﴿ وَلَا تَبْسُطْهَا كُ٘لَّ الْبَسْطِ اور نہ کھول اسے بالکل کھول دینا ایسا نہ ہو کہ تم ان معاملات میں خرچ کرنے لگو جہاں خرچ کرنا مناسب نہیں یا جتنا خرچ کرنا ہو اس سے زیادہ خرچ کرنے لگو۔ ﴿ فَتَقْعُدَ پس تو بیٹھ رہے گا اگر تو نے یہ کام کیا ﴿ مَلُوْمًا الزام کھایا ہوا یعنی اپنے كيے پر ملامت زدہ ہو کر ﴿مَّحْسُوْرًؔا ہارا ہوا یعنی تم خالی ہاتھ ہوکر رہ جاؤ گے، تمھارے ہاتھ میں مال باقی بچے گا نہ اس کے پیچھے مدح و ثنا…
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقال هنا: {ولا تجعل يَدَكَ مغلولةً إلى عنقك}: كناية عن شدة الإمساك والبخل، {ولا تَبْسُطْها كلَّ البسط}: فتنفق فيما لا ينبغي أو زيادة على ما ينبغي، {فتقعدَ}: إن فعلت ذلك {مَلوماً}؛ أي: تُلام على ما فعلتَ، {مَحْسوراً}؛ أي: حاسر اليد فارغها؛ فلا بقي ما في يدك من المال، ولا خَلَفَه مدحٌ وثناءٌ.