تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 30

اِنَّ رَبَّکَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿٪۳۰﴾
بے شک تیرا رب رزق فراخ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بے شک وہ ہمیشہ سے اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔ En
بےشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے
En
یقیناً تیرا رب جس کے لئے چاہے روزی کشاده کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ۔ یقیناً وه اپنے بندوں سے باخبر اور خوب دیکھنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ بے شک آپ کا رب جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے ﴿ وَیَقْدِرُؔ اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق تنگ کر دیتا ہے۔ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا وہ اپنے بندوں کو خوب جاننے والا دیکھنے والا ہے۔ پس جو اس کے علم کے مطابق ان کے لیے درست ہے، اس پر انھیں جزا دے گا اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أخبر تعالى: أنَّ اللهَ {يبسُطُ الرزق لمن يشاء}: من عباده ويقدِرُه ويضيِّقه على من يشاء حكمةً منه. {إنَّه كان بعبادِهِ خبيراً بصيراً}: فيَجْزيهم على ما يعلمُهُ صالحاً لهم، ويدبِّرهم بلطفه وكرمه.