اور اگر کبھی تو ان سے بے توجہی کر ہی لے، اپنے رب کی کسی رحمت کی تلاش کی وجہ سے، جس کی تو امید رکھتا ہو تو ان سے وہ بات کہہ جس میں آسانی ہو۔
En
اور اگر تم نے اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو اُن سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا یہ حکم صرف قدرت اور غنا کی صورت میں ہے۔ رہی تنگدستی اور اخراجات میں عدم گنجائش تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کو نہایت اچھے طریقے سے جواب دیا جائے، پس فرمایا: ﴿ وَاِمَّاتُعْرِضَنَّعَنْهُمُابْتِغَآءَرَحْمَةٍمِّنْرَّبِّكَتَرْجُوْهَا ﴾”اگر تو اعراض کرے ان سے اپنے رب کی مہربانی کے انتظار میں جس کی تجھ کو امید ہے“ یعنی اگر تم ان کو عطا نہیں کرتے اور تم اس کو کسی ایسے وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہو جب اللہ تمھیں خوشحالی عطا کرے۔ ﴿ فَقُلْلَّهُمْقَوْلًامَّیْسُوْرًؔا ﴾”تو کہہ ان کو نرم بات“ یعنی ان سے نرم لہجے میں بات کرو اور اچھا وعدہ کہ جب بھی گنجائش ہوئی تو ان کو عطا کیا جائے گا اور اس وقت عطا کرنا ممکن نہ ہونے پر ان سے معذرت کرے تاکہ جب وہ تمھارے پاس سے واپس جائیں تو ان کے دل مطمئن ہوں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَوْلٌمَّعْرُوْفٌوَّمَغْفِرَةٌخَیْرٌمِّنْصَدَقَةٍیَّتْبَعُهَاۤاَذًى ﴾ (البقرۃ:2؍263) ”صدقہ دینے کے بعد ایذا پہنچانے سے تو یہ بہتر ہے کہ نرم بات کہہ دی جائے اور کسی ناگوار بات پر چشم پوشی کی جائے۔“ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو رحمت اور رزق کا انتظار کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ انتظار عبادت ہے۔ اسی طرح ضرورت مندوں کے ساتھ گنجائش اور فراخدستی کے وقت عطا کرنے کا وعدہ کرنا بھی عبادت ہے کیونکہ نیک کام کا ارادہ بھی نیکی ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ مقدور بھر نیکی کرتا رہے اور جس نیک کام پر اسے قدرت نہیں اسے کرنے کی نیت رکھے تاکہ اسے ثواب ملتا رہے اور شاید اللہ تعالیٰ اس کی امید کے سبب سے اس کے لیے آسانی پیدا کر دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا الأمر بإيتاء ذي القربى مع القدرة والغنى، فأمَّا مع العُدْم أو تعسُّر النفقة الحاضرة؛ فأمر تعالى أن يُردُّوا ردًّا جميلاً، فقال: {وإمَّا تعرضَنَّ عنهم ابتغاءَ رحمةٍ من ربِّك ترجوها}؛ أي: تعرض عن إعطائِهِم إلى وقت آخر ترجو فيه من الله تيسير الأمر. {فقُلْ لهم قولاً ميسوراً}؛ أي: لطيفاً برفقٍ ووعد بالجميل عند سُنوح الفرصة واعتذارٍ بعدم الإمكان في الوقت الحاضر؛ لينقلبوا عنك مطمئنَّة خواطرهم؛ كما قال تعالى: {قولٌ معروفٌ ومغفرةٌ خيرٌ من صدقةٍ يَتْبَعُها أذى}: وهذا أيضاً من لطف الله تعالى بالعباد، أمرهم بانتظار الرحمة والرزق منه؛ لأنَّ انتظار ذلك عبادة، وكذلك وعدُهم بالصدقة والمعروف عند التيسُّر عبادةٌ حاضرةٌ؛ لأنَّ الهمَّ بفعل الحسنة حسنةٌ، ولهذا ينبغي للإنسان أن يفعل ما يَقْدِرُ عليه من الخير، وينوي فعل ما لم يقدِرْ عليه لِيُثاب على ذلك، ولعلَّ الله ييسِّر له بسبب رجائه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔