تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ مہائمی رحمہ اللہ نے اس کا ایک اور مفہوم بیان کیا ہے کہ اگر تم مذکورہ لوگوں سے اعراض اس وجہ سے کرو کہ ان سے اعراض کرنے میں تمھیں رب تعالیٰ کی رحمت کے حصول کی امید ہو، مثلاً تمھیں معلوم ہو کہ اگر اسے مال دیا تو یہ اسے نشے پر، زنا پر یا کسی گناہ پر صرف کرے گا تو تب بھی نرمی اور خوش اسلوبی سے اس سے معذرت کرو۔ آیت کے الفاظ میں اس مفہوم کی بھی گنجائش ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا الأمر بإيتاء ذي القربى مع القدرة والغنى، فأمَّا مع العُدْم أو تعسُّر النفقة الحاضرة؛ فأمر تعالى أن يُردُّوا ردًّا جميلاً، فقال: {وإمَّا تعرضَنَّ عنهم ابتغاءَ رحمةٍ من ربِّك ترجوها}؛ أي: تعرض عن إعطائِهِم إلى وقت آخر ترجو فيه من الله تيسير الأمر. {فقُلْ لهم قولاً ميسوراً}؛ أي: لطيفاً برفقٍ ووعد بالجميل عند سُنوح الفرصة واعتذارٍ بعدم الإمكان في الوقت الحاضر؛ لينقلبوا عنك مطمئنَّة خواطرهم؛ كما قال تعالى: {قولٌ معروفٌ ومغفرةٌ خيرٌ من صدقةٍ يَتْبَعُها أذى}: وهذا أيضاً من لطف الله تعالى بالعباد، أمرهم بانتظار الرحمة والرزق منه؛ لأنَّ انتظار ذلك عبادة، وكذلك وعدُهم بالصدقة والمعروف عند التيسُّر عبادةٌ حاضرةٌ؛ لأنَّ الهمَّ بفعل الحسنة حسنةٌ، ولهذا ينبغي للإنسان أن يفعل ما يَقْدِرُ عليه من الخير، وينوي فعل ما لم يقدِرْ عليه لِيُثاب على ذلك، ولعلَّ الله ييسِّر له بسبب رجائه.