پاک ہے وہ جو رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو حرمت والی مسجد سے بہت دور کی اس مسجد تک لے گیا جس کے اردگرد کو ہم نے بہت برکت دی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
En
وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
پاک ہے وه اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ذات مقدس کی تنزیہ و تعظیم بیان کرتا ہے کیونکہ اس کے افعال بہت عظیم اور اس کے احسانات بہت جسیم ہیں۔ اس کے جملہ افعال و احسانات میں سے ایک یہ ہے ﴿اَسْرٰؔىبِعَبْدِهٖلَیْلًا ﴾”وہ رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو لے گیا۔“ یعنی وہ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو راتوں رات لے گیا ﴿ مِّنَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ﴾”مسجد حرام سے“ جو علی الاطلاق تمام مساجد میں جلیل ترین مسجد ہے۔ ﴿ اِلَىالْمَسْجِدِالْاَقْصَا ﴾”مسجد اقصیٰ تک“ جو فضیلت والی مسجدوں میں شمار ہوتی ہے اور وہ انبیاء کرام کی سرزمین ہے۔
جناب نبی مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی رات میں بہت دور مسافت تک لے جایا گیا پھر اسی رات واپس لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانیاں دکھائیں جن سے ہدایت، بصیرت، ثبات اور قوت تفریق و امتیاز میں اضافہ ہوا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی آپ پر عنایت اور لطف و کرم ہے کہ اس نے تمام امور میں آپ کے لیے بھلائی کو آسان فرما دیا اور آپ کو ایسی ایسی نعمتوں سے نوازا جن کی بنا پر آپ نے تمام اولین و آخرین پر فوقیت حاصل کی۔ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ”اسراء“ کا یہ واقعہ رات کے ابتدائی حصے میں پیش آیا اور سفر مسجد حرام سے شروع ہوا مگر صحیح حدیث میں آتا ہے کہ آپ کو حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سے رات کے اس سفر پر لے جایا گیا۔(تفسیر طبری:9؍5) اس سے ظاہر ہوا کہ مسجد حرام کو جو فضیلت حاصل ہے، وہ تمام حرم کے لیے ہے۔ حرم میں عبادات کا ثواب اسی طرح کئی گنا بڑھ جاتا ہے جس طرح مسجد حرام میں عبادت کا ثواب کئی گنا ہو جاتا ہے، نیز یہ ”اسراء“ (معراج) کا واقعہ آپ کو بیک وقت جسم اور روح کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اگر آپ کو معراج جسم اور روح کے ساتھ نہ ہوئی ہوتی تو اس میں ”آیت کبریٰ“ کا کوئی مفہوم ہے نہ کسی بڑی منقبت کا کوئی پہلو ہے۔(صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم تنام عینہ… الخ، حدیث:3570)
معراج کے واقعہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی صحیح احادیث منقول ہیں ان میں ان تمام امور کی تفاصیل مذکور ہیں جن کا آپ نے مشاہدہ کیا۔ آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا حتیٰ کہ آپ تمام آسمانوں کے اوپر چلے گئے۔ وہاں آپ نے جنت، جہنم اور تمام انبیاء کرام کو ان کے مراتب کے مطابق دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر پچاس نمازیں فرض کیں، پھر آپ موسیٰ علیہ السلام کے مشورے سے بار بار اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے رہے حتیٰ کہ وہ بالفعل پانچ ہو گئیں مگر ان کا ثواب، پچاس نمازوں کا ہے۔ اس رات آپ کو اور آپ کی امت کو بہت سے مفاخر عطا كيے گئے جن کی مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں، قرآن مجید کو نازل کرنے کے ذکر کے مقام پر (سورۂ فرقان میں) اور جہاں قرآن کی بابت چیلنج کیا گیا (سورۂ بقرہ میں)،ان تینوں مقامات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت عبودیت (آپ کے بندے ہونے کی خوبی) کو بیان فرمایا، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مقامات بلند اپنے رب کی عبودیت کی تکمیل کی وجہ ہی سے حاصل كيے ہیں۔
﴿ الَّذِیْبٰرَؔكْنَاحَوْلَهٗ ﴾”وہ جس کے گرد ہم نے برکت رکھی ہے“ یعنی درختوں، دریاؤں اور سدا بہار شادابی کے ذریعے سے برکت عطا کی اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی برکت ہی ہے کہ مسجد اقصیٰ کو مسجد حرام اور مسجد نبوی کے سوا دیگر تمام مسجدوں پر فضیلت عطا کی گئی، نیز مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے اور نماز پڑھنے کے لیے دور سے سفر کر کے جانا مطلوب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو اپنے نبیوں اور چنے ہوئے بندوں کے رہنے کے لیے مختص فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ينزِّه تعالى نفسه المقدَّسة ويعظِّمها لأنَّ له الأفعال العظيمة والمنن الجسيمة التي من جملتها أنه {أسرى بعبدِهِ}: ورسوله محمد - صلى الله عليه وسلم -، {من المسجد الحرام}: الذي هو أجلُّ المساجد على الإطلاق، {إلى المسجد الأقصى}: الذي هو من المساجد الفاضلة، وهو محلُّ الأنبياء، فأسرى به في ليلة واحدةٍ إلى مسافة بعيدةٍ جدًّا، ورجع في ليلته، وأراه الله من آياته ما ازداد به هدىً وبصيرةً وثباتاً وفرقاناً، وهذا من اعتنائه تعالى به ولطفه؛ حيث يسَّره لليسرى في جميع أموره، وخوَّله نعماً فاق بها الأوَّلين والآخرين. وظاهر الآية أنَّ الإسراء كان في أول الليل، وأنَّه من نفس المسجد الحرام، لكن ثبت في الصحيح أنه أُسْرِيَ به من بيت أم هانئ ؛ فعلى هذا تكون الفضيلة في المسجد الحرام لسائر الحرم؛ فكلُّه تضاعف فيه العبادة كتضاعفها في نفس المسجد، وأنَّ الإسراء بروحه وجسده معاً، وإلاَّ لم يكن في ذلك آيةٌ كبرى ومنقبةٌ عظيمة.
وقد تكاثرت الأحاديث الثابتة عن النبي - صلى الله عليه وسلم - في الإسراء وذكر تفاصيل ما رأى، وأنه أُسْرِيَ به إلى بيت المقدس، ثم عُرِج به من هناك إلى السماوات حتى وصل إلى ما فوق السماوات العُلى، ورأى الجنة والنار، والأنبياء على مراتبهم، وفُرِضَ عليه الصلواتُ خمسين، ثم ما زال يراجِعُ ربَّه بإشارة موسى الكليم حتى صارت خمساً في الفعل وخمسين في الأجر والثواب، وحاز من المفاخر تلك الليلة هو وأمتُه ما لا يعلم مقدارَه إلاَّ الله عز وجل. وذَكَرَهُ هنا وفي مقام الإنزال للقرآن ومقام التحدِّي بصفة العبوديَّة؛ لأنَّه نال هذه المقامات الكبار بتكميله لعبوديَّة ربه.
وقوله: {الذي بارَكْنا حوله}؛ أي: بكثرة الأشجار والأنهار والخصب الدائم، ومن بركته تفضيله على غيره من المساجد سوى المسجد الحرام ومسجد المدينة، وأنه يُطْلَبُ شدُّ الرحل إليه للعبادة والصلاة فيه، وأنَّ الله اختصَّه محلاًّ لكثيرٍ من أنبيائه وأصفيائه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔