تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 19

وَ مَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ وَ سَعٰی لَہَا سَعۡیَہَا وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعۡیُہُمۡ مَّشۡکُوۡرًا ﴿۱۹﴾
اور جس نے آخرت کا ارادہ کیا اور اس کے لیے کوشش کی، جو اس کے لائق کوشش ہے، جب کہ وہ مومن ہو تو یہی لوگ ہیں جن کی کوشش ہمیشہ سے قدرکی ہوئی ہے۔ En
اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہوا اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے
En
اور جس کا اراده آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہیئے، وه کرتا بھی ہو اور وه باایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ جو آخرت چاہتا ہے اس پر راضی ہے اور اسے دنیا کے مال و متاع پر ترجیح دیتا ہے ﴿ وَسَعٰى لَهَا سَعْیَهَا اور اس کے لیے اتنی کوشش کرتا ہے جتنی اسے لائق ہے۔ یعنی جس کی طرف تمام کتب سماوی اور آثار نبوت نے دعوت دی ہے اور امکان بھر اس کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ مُؤْمِنٌ اور وہ مومن بھی ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں نشوونما پا کر جمع ہوتی رہے گی۔ ان کا اجروثواب ان کے رب کے پاس ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ومن أراد الآخرةَ}: فرضِيَها وآثرها على الدُّنيا، {وسعى لها سَعْيَها}: الذي دعت إليه الكتب السماويَّة والآثار النبويَّة، فعمل بذلك على قدر إمكانه، {وهو مؤمنٌ}: بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر. {فأولئك كان سعيُهم مشكوراً}؛ أي: مقبولاً منمًّى مدَّخراً، لهم أجرهم وثوابهم عند ربهم.