تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے حصے سے بھی محروم نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سامان زیست عطا کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی عطا اور اس کا فضل و احسان ہے ﴿وَمَاكَانَعَطَآءُرَبِّكَمَحْظُوْرًا ﴾”اور تیرے رب کی عطا و بخشش رکی ہوئی نہیں۔“ یعنی اللہ کی عطا کسی کے لیے ممنوع نہیں بلکہ تمام مخلوق اس کے فضل و کرم سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومع هذا؛ فلا يفوتُهم نصيبُهم من الدُّنيا؛ فكلًّا يُمِدُّه الله منها؛ لأنَّه عطاؤه وإحسانه. {وما كان عطاءُ ربِّك محظوراً}؛ أي: ممنوعاً من أحدٍ، بل جميعُ الخلق راتِعون بفضلِهِ وإحسانِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔