تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 20

کُلًّا نُّمِدُّ ہٰۤؤُلَآءِ وَ ہٰۤؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّکَ ؕ وَ مَا کَانَ عَطَـآءُ رَبِّکَ مَحۡظُوۡرًا ﴿۲۰﴾
ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں، ان کی اور ان کی بھی، تیرے رب کی بخشش سے اور تیرے رب کی بخشش کبھی بند کی ہوئی نہیں۔ En
ہم اُن کو اور ان کو سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں
En
ہر ایک کو ہم بہم پہنچائے جاتے ہیں انہیں بھی اور ا نہیں بھی تیرے پروردگار کے انعامات میں سے۔ تیرے پروردگار کی بخشش رکی ہوئی نہیں ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے حصے سے بھی محروم نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سامان زیست عطا کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی عطا اور اس کا فضل و احسان ہے ﴿وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا اور تیرے رب کی عطا و بخشش رکی ہوئی نہیں۔ یعنی اللہ کی عطا کسی کے لیے ممنوع نہیں بلکہ تمام مخلوق اس کے فضل و کرم سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومع هذا؛ فلا يفوتُهم نصيبُهم من الدُّنيا؛ فكلًّا يُمِدُّه الله منها؛ لأنَّه عطاؤه وإحسانه. {وما كان عطاءُ ربِّك محظوراً}؛ أي: ممنوعاً من أحدٍ، بل جميعُ الخلق راتِعون بفضلِهِ وإحسانِهِ.