تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 18

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡعَاجِلَۃَ عَجَّلۡنَا لَہٗ فِیۡہَا مَا نَشَآءُ لِمَنۡ نُّرِیۡدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَہٗ جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلٰىہَا مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ﴿۱۸﴾
جو شخص اس جلدی والی (دنیا) کا ارادہ رکھتا ہو ہم اس کو اس میں جلدی دے دیں گے جو چاہیں گے، جس کے لیے چاہیں گے، پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنا رکھی ہے، اس میں داخل ہوگا، مذمت کیا ہوا، دھتکارا ہوا۔ En
جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں۔ پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے۔ جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا
En
جس کا اراده صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائده) کا ہی ہو اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لئے چاہیں سردست دیتے ہیں بالﺂخر اس کے لئے ہم جہنم مقرر کردیتے ہیں جہاں وه برے حالوں دھتکارا ہوا داخل ہوگا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔ ﴿ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو۔ یعنی جو کوئی ختم اور زائل ہو جانے والی دنیا چاہتا ہے وہ اس کے لیے عمل اور کوشش کرتا ہے، اس کی ابتدا یا انتہا کو فراموش کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلدی سے دنیا کے وہ ٹکڑے اور اس کا مال و متاع اسے عطا کر دیتا ہے، جسے وہ چاہتا تھا اور اس کا ارادہ رکھتا تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا۔ مگر یہ متاع دنیا فائدہ دینے والی ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے، پھر آخرت میں اس کے لیے ﴿جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰ٘ىهَا جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا یعنی اس کے عذاب میں ڈالا جائے گا۔ ﴿ مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا مذموم اور راندہ ہوکر۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کی طرف سے مذمت، رسوائی اور فضیحت کی حالت میں ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہت دور ہو گا، اس کے لیے رسوائی اور عذاب کو جمع کر دیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أن {مَن كان يريدُ}: الدنيا {العاجلة} المنقضية الزائلة، فعمل لها وسعى، ونسي المبتدأ أو المنتهى: أنَّ الله يعجِّل له من حطامها ومتاعها ما يشاؤه ويريده، مما كَتَبَ الله له في اللوح المحفوظ، ولكنَّه متاعٌ غير نافع ولا دائم له، ثم يجعل له في الآخرة {جهنَّم يَصْلاها}؛ أي: يباشر عذابها، {مذموماً مدحوراً}؛ أي: في حالة الخِزْي والفضيحة والذمِّ من الله ومن خلقِهِ والبعد عن رحمةِ الله، فيجمعُ له بين العذاب والفضيحة.