تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 11

وَ یَدۡعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَہٗ بِالۡخَیۡرِ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ﴿۱۱﴾
اور انسان برائی کی دعا کرتا ہے اپنے بھلائی کی دعا کرنے کی طرح اور انسان ہمیشہ سے بہت جلد باز ہے۔ En
اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے۔ اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے
En
اور انسان برائی کی دعائیں مانگنے لگتا ہے بالکل اس کی اپنی بھلائی کی دعا کی طرح، انسان ہے ہی بڑا جلد باز En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ انسان کی جہالت اور عجلت پسندی ہے کہ وہ غیظ و غضب کے وقت اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے بددعا کرنے میں جلدی کرتا ہے جس طرح اچھی دعا کرنے میں جلدی کرتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ وہ اس کی اچھی دعا کو تو قبول کر لیتا ہے اور بددعا کو قبول نہیں کرتا۔ ﴿ وَلَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ۠ بِالْخَیْرِ لَ٘قُ٘ضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ (یونس: 10؍11) اگر اللہ ان کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں اتنی ہی جلدی کرتا جیسے کہ وہ جلدی خیر مانگتے ہیں تو ان کی مدت مقررہ کے خاتمے کا فیصلہ کر دیا جاتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من جهل الإنسان وعجلته؛ حيث يدعو على نفسه وأولاده بالشرِّ عند الغضب، ويبادِرُ بذلك الدعاء كما يبادِرُ بالدُّعاء في الخير، ولكنَّ الله من لطفه يستجيبُ له في الخير ولا يستجيبُ له بالشر، ولو يُعَجِّلُ الله للناس الشرَّ استعجالهم بالخير لَقُضي إليهم أجلهم.