اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، پھر ہم نے رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا، تاکہ تم اپنے رب کا کچھ فضل تلاش کرو اور تا کہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو۔ اور ہر چیز، ہم نے اسے کھول کر بیان کیا ہے، خوب کھول کر بیان کرنا۔
En
اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن۔ تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی) روزی تلاش کرو اور برسوں کا شمار اور حساب جانو۔ اور ہم نے ہر چیز کو (بخوبی) تفصیل کردی ہے
ہم نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی نشانیاں بنائی ہیں، رات کی نشانی کو تو ہم نے بےنور کردیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن بنایا ہے تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور اس لئے بھی کہ برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرسکو اور ہر ہر چیز کو ہم نے خوب تفصیل سے بیان فرما دیا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَجَعَلْنَاالَّیْلَوَالنَّهَارَاٰیَتَیْنِ ﴾”اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا۔“ یعنی یہ دن رات اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور بے پایاں رحمت پر دلالت کرتے ہیں، نیز یہ کہ صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ ﴿ فَمَحَوْنَاۤاٰیَةَالَّیْلِ ﴾”پھر مٹا دیا ہم نے رات کی نشانی کو“ یعنی ہم نے رات کو تاریک بنایا تاکہ لوگ اس میں سکون اور راحت حاصل کریں ﴿ وَجَعَلْنَاۤاٰیَةَالنَّهَارِمُبْصِرَةً ﴾”اور بنایا دن کی نشانی کو دکھلانے والی“ یعنی روشن ﴿ لِّتَبْتَغُوْافَضْلًامِّنْرَّبِّكُمْ﴾”تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ اپنی معاش، اپنی صنعت و حرفت، اپنی تجارت اور اپنے سفر میں اللہ کا فضل تلاش کرو۔ ﴿ وَلِتَعْلَمُوْا ﴾”اور تاکہ تم جان لو“ رات اور دن کے پے درپے آنے جانے اور چاند کے گھٹنے بڑھنے سے ﴿ عَدَدَالسِّنِیْنَوَالْحِسَابَ﴾”برسوں کا شمار اور حساب“ پس تم جیسے چاہتے ہو دنوں کے اس حساب و کتاب پر اپنے مصالح کی بنیاد رکھتے ہو۔ ﴿ وَؔكُ٘لَّشَیْءٍفَصَّلْنٰهُتَفْصِیْلًا ﴾”اور ہر چیز کو ہم نے کھول کر بیان کر دیا ہے“ یعنی ہم نے آیات کو واضح کر کے ان کو مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے تاکہ چیزیں ایک دوسرے سے ممتاز ہوں اور باطل میں سے حق نمایاں اور واضح ہو جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ مَافَرَّطْنَافِیالْكِتٰبِمِنْشَیْءٍ ﴾ (الانعام: 6؍38) ”ہم نے نوشتۂ تقدیر میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {وجعلنا الليلَ والنهار آيتينِ}؛ أي: دالَّتين على كمال قدرة الله وسَعَة رحمته وأنَّه الذي لا تنبغي العبادة إلاَّ له. {فَمَحَوْنا آية الليل}؛ أي: جعلناه مظلماً للسكون فيه والراحة. {وجعلنا آيةَ النهارِ مبصرةً}؛ أي: مضيئة، {لتبتغوا فَضْلاً من ربِّكم}: في معايشكم وصنائعكم وتجاراتكم وأسفاركم، {ولتعلموا}: بتوالي الليل والنهار واختلاف القمر {عَدَدَ السنين والحسابَ}: فتبنون عليها ما تشاؤون من مصالحكم. {وكلَّ شيءٍ فصَّلْناه تفصيلاً}؛ أي: بيَّنَّا الآيات، وصرَّفناه لتتميز الأشياء، ويتبيَّن الحقُّ من الباطل؛ كما قال تعالى: {ما فرَّطْنا في الكتاب من شيءٍ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔