تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 109

وَ یَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ یَبۡکُوۡنَ وَ یَزِیۡدُہُمۡ خُشُوۡعًا ﴿۱۰۹﴾ٛ
اور وہ ٹھوڑیوں کے بل گر جاتے ہیں، روتے ہیں اور وہ (قرآن) انھیں عاجزی میں زیادہ کر دیتا ہے۔ En
اور وہ تھوڑیوں کے بل گر پڑتے ہیں (اور) روتے جاتے ہیں اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے
En
وه اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجده میں گر پڑ تے ہیں اور یہ قرآن ان کی عاجزی اور خشوع اور خضوع بڑھا دیتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَیَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ اور گرتے ہیں وہ ٹھوڑیوں پر یعنی منہ کے بل ﴿ یَبْكُوْنَ وَیَزِیْدُهُمْ روتے ہوئے اور زیادہ کرتا ہے ان کو یعنی قرآن ﴿ خُشُوْعًا خشوع خضوع میں۔ یہ اہل کتاب کے ان مومنین کی مانند ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور اس کے بعد ایمان لائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويخرون للأذقانِ}؛ أي: على وجوههم، {يبكونَ ويزيدُهُم}: القرآن {خشوعاً}: وهؤلاء كالذين منَّ الله عليهم من مؤمني أهل الكتاب؛ كعبد الله بن سلام، وغيره ممَّن أسلم في وقت النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - وبعد ذلك.