تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 108

وَّ یَقُوۡلُوۡنَ سُبۡحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنۡ کَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا لَمَفۡعُوۡلًا ﴿۱۰۸﴾
اور کہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہمارے رب کا وعدہ یقینا ہمیشہ پورا کیا ہوا ہے۔ En
اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بےشک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو کر رہا
En
اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، ہمارے رب کا وعده بلاشک وشبہ پورا ہو کر رہنے واﻻ ہی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّیَقُوْلُوْنَ سُبْحٰؔنَ رَبِّنَاۤ اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں اور جو مشرکین نے ان کی طرف منسوب کر رکھی ہیں ﴿ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا اور بے شک ہمارے رب کا وعدہ یعنی اس نے زندگی بعد موت اور اعمال کی جزا کا جو وعدہ کر رکھا ہے۔ ﴿ لَمَفْعُوْلًا ہونے والا ہے اس میں کوئی وعدہ خلافی ہے نہ اس میں کوئی شک ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويقولون سبحانَ ربِّنا}: عما لا يَليقُ بجلالِهِ مما نَسَبَهُ إليه المشركون. {إنْ كان وعدُ ربِّنا}: بالبعث والجزاء بالأعمال، {لَمَفْعولاً}: لا خُلْفَ فيه ولا شكَّ.