کہہ دے اللہ کو پکارو، یا رحمان کو پکارو، تم جس کو بھی پکارو گے سو یہ بہترین نام اسی کے ہیں اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھ اور نہ اسے پست کر اور اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کر۔
En
کہہ دو کہ تم (خدا کو) الله (کے نام سے) پکارو یا رحمٰن (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب اچھے نام ہیں۔ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو
کہہ دیجئیے کہ اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔ نہ تو تو اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھ اور نہ بالکل پوشیده بلکہ اس کے درمیان کا راستہ تلاش کرلے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے: ﴿ادْعُوااللّٰهَاَوِادْعُواالرَّحْمٰنَ﴾”تم پکارو اللہ کو یا پکارو رحمن کو“ یعنی ان دونوں ناموں میں سے چاہے جس نام سے پکارو ﴿ اَیًّامَّاتَدْعُوْافَلَهُالْاَسْمَآءُالْحُسْنٰؔى ﴾”جو کہہ کر پکارو گے، پس اسی کے ہیں سب نام اچھے“ یعنی اس کا کوئی اسم مبارک ایسا نہیں جو اچھا نہ ہو اور اس کو اس نام سے پکارنے سے روکا گیا ہو۔ تم جس نام سے بھی اسے پکارو گے اس سے مقصد حاصل ہو جائے گا۔ مگر مناسب یہی ہے کہ اسے ہر مطلوب کی مناسبت سے، مطلوب کے مطابق نام سے پکارا جائے۔ ﴿ وَلَاتَجْهَرْبِصَلَاتِكَ ﴾”اور پکار کر نہ پڑھیں اپنی نماز“ یعنی بہت بلند آواز سے قراء ت نہ کیجیے ﴿وَلَاتُخَافِتْبِهَا ﴾”اور نہ چپکے سے پڑھیں “ یعنی ان دونوں امور سے بچا جانا چاہیے۔ زیادہ بلند آواز میں قراء ت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ مشرکین قرآن مجید سن کر برا بھلا کہیں گے اور قرآن لانے والے کو سب و شتم کا نشانہ بنائیں گے اور بہت نیچی آواز میں قرآن پڑھنے سے اس شخص کا مقصد پورا نہ ہو سکے گا جو دھیمی آواز میں قرآن سننا چاہتا ہے۔ ﴿ وَابْتَغِبَیْنَذٰلِكَسَبِیْلًا﴾”اور ڈھونڈ لیں اس کے درمیان راستہ“ یعنی بہت زیادہ بلند آواز اور بہت زیادہ پست آواز کے بین بین اور ان دونوں کے درمیان متوسط راہ اختیار کیجیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لعباده: {ادعوا الله أوِ ادْعوا الرحمن}؛ أي: أيهما شئتم. {أيًّا ما تدعوا فله الأسماءُ الحسنى}؛ أي: ليس له اسمٌ غير حسنٍ؛ أي: حتى ينهى عن دعائه به؛ [بل] أيُّ اسم دعوتُموه به؛ حَصَلَ به المقصودُ، والذي ينبغي أن يُدعى في كلِّ مطلوب بما يناسِبُ ذلك الاسم. {ولا تَجْهَرْ بصلاتك}؛ أي: قراءتك، {ولا تُخافِتْ بها}؛ فإنَّ في كلٍّ من الأمرين محذوراً، أمّا الجهرُ؛ فإنَّ المشركين المكذِّبين به إذا سمعوه، سبُّوه، وسبُّوا مَنْ جاء به. وأما المخافتةُ؛ فإنَّه لا يحصُلُ المقصود لمن أراد استماعَه مع الإخفاء. {وابتغ بينَ ذلك}؛ أي: بين الجهر والإخفات {سبيلاً}؛ أي: تتوسَّط فيما بينهما.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔