کہہ دے تم اس پر ایمان لاؤ، یا ایمان نہ لاؤ، بے شک جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا، جب ان کے سامنے اسے پڑھا جاتا ہے وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہیں۔
En
کہہ دو کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (یہ فی نفسہ حق ہے) جن لوگوں کو اس سے پہلے علم (کتاب) دیا ہے۔ جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ تھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں
کہہ دیجئیے! تم اس پر ایمان ﻻؤ یا نہ ﻻؤ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان کے پاس تو جب بھی اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وه ٹھوڑیوں کے بل سجده میں گر پڑتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس جب حق واضح ہو جائے جس میں کسی بھی پہلو سے کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ قُ٘لْ ﴾ تو ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا ﴿ اٰمِنُوْابِهٖۤاَوْلَاتُؤْمِنُوْا﴾”تم اس کے ساتھ ایمان لاؤ یا نہ لاؤ“ اللہ تعالیٰ کو تمھاری کوئی حاجت نہیں اور تم اللہ تعالیٰ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس تکذیب کا نقصان تمھیں ہی پہنچے گا کیونکہ تمھارے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اور بھی بندے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم نافع عطا کیا ہے۔ ﴿ اِذَایُتْ٘لٰىعَلَیْهِمْیَخِرُّوْنَلِلْاَذْقَانِسُجَّدًا﴾”جب پڑھا جاتا ہے ان پر تو وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں پر سجدہ کرتے ہوئے“ یعنی اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس کے سامنے نہایت عاجزی سے سرافگندہ ہوتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فإذا تبيَّن أنَّه الحقُّ الذي لا شكَّ فيه ولا ريب بوجهٍ من الوجوه، فَـ {قُلْ} لمن كَذَّب به وأعرض عنه: {آمِنوا به أو لا تُؤمنوا}: فليس لله حاجةٌ فيكم ولستُم بضارِّيه شيئاً، وإنَّما ضرر ذلك عليكُم؛ فإنَّ لله عباداً غيركم، وهم الذين آتاهُمُ الله العلم النافع؛ {إذا يُتْلَى عَلَيْهِم يَخِرُّونَ للأذقَانِ سُجَّداً}؛ أي: يتأثرون به غاية التأثر ويخضعون له.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔