تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 104

وَّ قُلۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ لِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اسۡکُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ جِئۡنَا بِکُمۡ لَفِیۡفًا ﴿۱۰۴﴾ؕ
اور ہم نے اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس سرزمین میں رہو، پھر جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تمھیں اکٹھا کر کے لے آئیں گے۔ En
اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کرکے لے آئیں گے
En
اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اس سرزمین پر تم رہو سہو۔ ہاں جب آخرت کا وعده آئے گا ہم تم سب کو سمیٹ اور لپیٹ کر لے آئیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کی تفسیر آیت 103 میں تا آیت 105 میں گزر چکی ہے۔