تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 105

وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿۱۰۵﴾ۘ
اور ہم نے اسے حق ہی کے ساتھ نازل کیا اور یہ حق ہی کے ساتھ نازل ہوا اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ En
اور ہم نے اس قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے
En
اور ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا اور یہ بھی حق کے ساتھ اترا۔ ہم نے آپ کو صرف خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ، اپنے بندوں کے لیے امرونہی اور ان کے عذاب و عقاب کی خاطر نازل کیا ہے ﴿ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ اور حق کے ساتھ اترا یعنی یہ قرآن صدق و عدل اور شیطان مردود کے ہر وسوسہ سے محفوظ نازل ہوا ہے ﴿ وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوشخبری دینے والا بنا کر یعنی ان لوگوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری دینے کے لیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ﴿ وَّنَذِیْرًا اور ڈرانے والا یعنی انھیں دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے کے لیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اس سے ان امور کا بیان لازم آتا ہے جو تبشیر و انذار پر مبنی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وبالحقِّ أنزلنا هذا القرآن الكريم لأمر العبادِ ونهيهم وثوابهم وعقابهم، {وبالحقِّ نزل}؛ أي: بالصدق والعدل والحفظ من كلِّ شيطان رجيم. {وما أرْسَلْناك إلاَّ مبشِّراً}: من أطاع الله بالثواب العاجل والآجل، {ونَذيراً}: لمن عصى الله بالعقاب العاجل والآجل، ويلزم من ذلك بيانُ ما يبشِّر به وينذر.