تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 103

فَاَرَادَ اَنۡ یَّسۡتَفِزَّہُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ فَاَغۡرَقۡنٰہُ وَ مَنۡ مَّعَہٗ جَمِیۡعًا ﴿۱۰۳﴾ۙ
تو اس نے ارادہ کیا کہ انھیں اس سر زمین سے پھسلا دے تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ تھے، سب کو غرق کر دیا۔ En
تو اس نے چاہا کہ ان کو سر زمین (مصر) سے نکال دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبو دیا
En
آخر فرعون نے پختہ اراده کر لیا کہ انہیں زمین سے ہی اکھیڑ دے تو ہم نے خود اسے اور اس کے تمام ساتھیوں کو غرق کر دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَرَادَ پس فرعون نے ارادہ کیا ﴿ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ۠ مِّنَ الْاَرْضِ کہ وہ ان کو اس زمین (مصر) سے نکال دے۔ یعنی بنی اسرائیل کو سرزمین مصر سے نکال کر جلا وطن کر دے ﴿فَاَغْ٘رَقْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًا پس ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو سب کو غرق کر دیا اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو ان کی زمینوں اور گھروں کا وارث بنا دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّقُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًا اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا، رہو تم زمین میں، پس جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تم سب کو سمیٹ کر لے آئیں گے یعنی تم سب کو لے کر آئیں گے اور پھر ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأراد}: فرعون {أن يَسْتَفِزَّهم من الأرضِ}؛ أي: يُجْلِيَهم ويخرِجَهم منها، {فأغْرَقْناه ومن معه جميعاً}: وأورثنا بني إسرائيل أرضَهم وديارهم، ولهذا قال: {وقُلْنا من بعدِهِ لبني إسرائيلَ اسكُنوا الأرضَ فإذا جاء وعْدُ الآخرة جئنا بكم لفيفاً}؛ أي: جميعاً؛ لِيُجازِي كلَّ عامل بعمله.