تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 102

قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ ہٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ بَصَآئِرَ ۚ وَ اِنِّیۡ لَاَظُنُّکَ یٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًا ﴿۱۰۲﴾
اس نے کہا بلاشبہ یقینا تو جان چکا ہے کہ انھیں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نہیں اتارا، اس حال میں کہ واضح دلائل ہیں اور یقینا میں تو اے فرعون! تجھے ہلاک کیا ہوا سمجھتا ہوں۔ En
انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے
En
موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ تو تجھے علم ہوچکا ہے کہ آسمان وزمین کے پروردگار ہی نے یہ معجزے دکھانے، سمجھانے کو نازل فرمائے ہیں، اے فرعون! میں تو سمجھ رہا ہوں کہ تو یقیناً برباد وہلاک کیا گیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اے فرعون! ﴿ لَقَدْ عَلِمْتَ تجھے علم ہے ﴿ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ نہیں نازل کیا ان معجزات کو ﴿ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَآىِٕرَ مگر آسمان و زمین کے رب نے سمجھانے کو اپنی طرف سے بندوں کے لیے۔ پس تیرا یہ قول حقیقت پر مبنی نہیں۔ تیرا یہ قول اپنی قوم میں ابہام پیدا کرنے اور حق و صواب کی راہ سے ہٹانے کے لیے ہے۔ ﴿ وَاِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْ٘بُوْرًؔا اے فرعون! میں خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک ہوجائے گا۔ یعنی اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو سخت مبغوض، مذموم، دھتکارا ہوا اور اللہ کے عذاب میں پھینکا جانے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فَـ {قَالَ} له موسى: {لقد علمتَ}: يا فرعونُ، {ما أنزلَ هؤلاء}: الآيات. {إلاَّ ربُّ السمواتِ والأرضِ بصائرَ}: منه لعباده؛ فليس قولُكَ هذا بالحقيقة، وإنَّما قلت ذلك ترويجاً على قومك واستخفافاً لهم. {وإنِّي لأظنُّك يا فرعونُ مَثْبوراً}؛ أي: ممقوتاً، مُلْقىً في العذاب، لك الويل والذمُّ واللعنة.