اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو نو واضح نشانیاں دیں، سو بنی اسرائیل سے پوچھ، جب وہ ان کے پاس آیا تو فرعون نے اس سے کہا یقینا میں تو تجھے اے موسیٰ! جادو زدہ سمجھتا ہوں۔
En
اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے
ہم نے موسیٰ کو نو معجزے بالکل صاف صاف عطا فرمائے، تو خود ہی بنی اسرائیل سے پوچھ لے کہ جب وه ان کے پاس پہنچے تو فرعون بوﻻ کہ اے موسیٰ میرے خیال میں تو تجھ پر جادو کردیا گیا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی اے رسول! کہ جس کی آیات و معجزات کے ذریعے سے تائید کی گئی ہے… آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی لوگوں نے تکذیب کی۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا، ہم نے انھیں عطا کیے ﴿تِسْعَاٰیٰتٍۭؔبَیِّنٰتٍ ﴾”نو معجزات“ جو شخص حق کا قصد رکھتا ہے اس کے لیے ان میں سے ایک ہی معجزہ کافی ہے…جیسے اژدہا، عصا، طوفان، ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک، خون، یدبیضاء اور سمندر کا پھٹ جانا۔ اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے ﴿ فَسْـَٔلْبَنِیْۤاِسْرَآءِیْلَاِذْجَآءَهُمْفَقَالَلَهٗفِرْعَوْنُ ﴾”تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں جب آئے موسیٰ ان کے پاس تو (ان معجزات کے باوجود) فرعون نے کہا: ﴿ اِنِّیْلَاَظُنُّكَیٰمُوْسٰؔىمَسْحُوْرًا ﴾”اے موسیٰ! میں سمجھتا ہوں، تجھ پر ضرور جادو کر دیا گیا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: لستَ أيُّها الرسول المؤيَّد بالآيات أولَ رسول كذَّبه الناس؛ فلقد أرسلْنا قبلَكَ موسى بن عمران الكليم إلى فرعون وقومِهِ وَآتيناه {تسعَ آياتٍ بيِّناتٍ}: كلُّ واحدة منها تكفي لمن قصدُهُ اتِّباع الحقِّ كالحيَّة والعصا والطُّوفان والجرادِ والقُمَّل والضفادع والدَّم والرجز وفلق البحر؛ فإنْ شككتَ في شيء من ذلك؛ {فاسألْ بني إسرائيلَ إذْ جاءَهم فقال له فرعونُ}: مع هذه الآيات: {إني لأظنُّك يا موسى مسحوراً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔