تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 1) ➊ {سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ: } اس سورت کی ابتدا اللہ تعالیٰ کو ہر ایسی چیز سے پاک قرار دینے سے کی جو اس کے جلال کے لائق نہیں، چنانچہ فرمایا: «سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ» طنطاوی نے فرمایا، اس کی سب سے اچھی نحوی ترکیب یہ ہے کہ {” سُبْحٰنَ “} اسم مصدر ہے اور فعل محذوف {” سَبَّحْتُ “} یا {” اُسَبِّحُ “ } کا مفعول مطلق ہے اور {” الَّذِيْۤ “} کی طرف مضاف ہے، یعنی میں اس (اللہ) کا ہر عیب اور کمی سے پاک ہونا بیان کرتا ہوں جو اپنے بندے…۔ (التفسیر الوسیط) معلوم ہوا کہ آگے کوئی ایسا کام بیان ہونے والا ہے جس کا واقع ہونا انسانی طاقت سے باہر ہے، اس لیے بات یہیں سے شروع فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان تمام عیبوں، کمزوریوں اور نارسائیوں سے پاک ہے جو مخلوق میں پائی جاتی ہیں اور وہ ان کاموں پر قادر ہے جن پر اس کے سوا کوئی قدرت نہیں رکھتا۔
➋ { اَسْرٰى:} شیخ سلیمان الجمل نے فرمایا: {” اَسْرٰى “} اور {”سَرٰی“} دونوں کا معنی ہے، وہ رات کو چلا، دونوں فعل لازم ہیں، پہلے کا مصدر {”اَلْإِسْرَاءُ“} ہے اور دوسرے کا {”اَلسُّرٰي“} بروزن {” اَلْهُدٰي“}، اس لیے اسے متعدی بنانے کے لیے {” بِعَبْدِهٖ “ } میں باء لائی گئی ہے، جس سے معنی ”وہ رات کو چلا“ کے بجائے ”اس نے (اپنے بندے کو) رات کو چلایا“ ہو گیا۔“ اس سے رات کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راتوں کو قیام، دعائیں، اسراء و معراج، راتوں کا سفر سب اس کی دلیل ہیں۔
➌ {بِعَبْدِهٖ:} ”اپنے بندے“ کا لفظ اس محبت اور تعلق کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ اگر پیار و محبت اور آپ کی عظمت و شان کے اظہار کے لیے اس سے زیادہ یہاں کوئی لفظ موزوں ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسی کو ذکر فرماتا، لفظ {”عَبْدٌ“ } منتخب ہی اس لیے فرمایا کہ تمام مخلوقات کی صفات میں سب سے اونچی اور بڑی صفت اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور بندگی ہے، پھر خاص اپنی طرف نسبت کرکے مزید رتبہ بڑھا دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا عبد (بندہ، غلام) قرار دینے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ مالک اور معبود صرف اللہ تعالیٰ ہے، باقی سب اس کے بندے، غلام، اس کے سامنے عاجز اور مطیع ہیں، کیونکہ {” عَبْدٌ “} کا معنی یہی ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا» [مریم: ۹۳] ”زمین و آسمان میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔“ مقصد یہ ہے کہ عبودیت اور الوہیت، یعنی بندگی اور خدائی کے مقام کا فرق بالکل واضح ہو جائے، انھیں ایک نہ سمجھ لیا جائے، جیسا کہ مسیحیت میں ہوا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، عیسیٰ علیہ السلام کو اور ان کی والدہ کو ایک ہی معبود قرار دے دیا، انھوں نے عبودیت اور الوہیت کے فرق کو نہ سمجھا۔ بعض جھوٹے مسلمانوں نے بھی احد اور احمد کو ایک قرار دے لیا۔ یہ آیت ان کی واضح تردید کرتی ہے۔ علامہ قاسمی نے امام ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب {”طَرِيْقُ الْهِجْرَتَيْنِ“} سے نقل فرمایا کہ تمام مخلوق میں سے کامل وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبودیت (بندگی) میں سب سے کامل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب اور بلند مرتبہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: [وَاللّٰهِ! مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُوْنِيْ فَوْقَ مَنْزِلَتِيَ الَّتِيْ أَنْزَلَنِيَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ] [مسند أحمد: 153/3: ۱۲۵۵۸، سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۰۹۷، عن أنس رضی اللہ عنہ]”اللہ کی قسم! اے لوگو! میں پسند نہیں کرتا کہ تم مجھے میرے اس مرتبے سے بلند قرار دو جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا کیا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: [لَا تُطْرُوْنِيْ كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَي ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰهِ وَ رَسُوْلُهُ] [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «واذکر فی الکتاب مریم…» : ۳۴۴۵] ”مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھاؤ جیسا کہ نصاریٰ نے مسیح ابن مریم کو حد سے بڑھا دیا، میں تو صرف اس کا عبد (بندہ) ہوں، سو تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔“ اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر آپ کے بلند ترین مقام اسراء و معراج میں عبودیت کے نام سے فرمایا، چنانچہ فرمایا: «سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ» اور دعوت کے مقام میں فرمایا: «وَ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ» [الجن: ۱۹] اور چیلنج کے مقام میں فرمایا: «وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا» [البقرۃ: ۲۳]
➍ { لَيْلًا:} زمحشری نے فرمایا، اگر تم کہو کہ {” إِسْرَاءٌ“} کا معنی ہی رات کو چلنا ہے، پھر {” لَيْلًا “} کہنے کا مقصد کیا ہے؟ تو میں کہتا ہوں کہ {” لَيْلًا “} کا لفظ نکرہ کی صورت میں لانے سے رات کی اس مدت کو جس میں سفر کیا، کم بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں مکہ سے شام تک کا چالیس راتوں کا فاصلہ طے کروا دیا، کیونکہ تنکیر یہاں بعضیہ (بلکہ بقول بعض تقلیل وتحقیر) کا معنی دے رہی ہے (یہ بات ترجمہ میں بھی ملحوظ رکھی گئی ہے)۔ یاد رہے! چالیس راتوں یا ایک مہینے سے زائد دنوں کا سفر ایک طرف کا ہے، آنے جانے کا دگنا سمجھ لیں۔
➎ { مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا:} مسجد حرام کعبہ کے اردگرد والی مسجد، کیونکہ اسے کئی طرح کی حرمت حاصل ہے۔ بعض علماء پورے حرم کو مسجد حرام کہتے ہیں۔ جس رات یہ سفر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سوئے ہوئے تھے۔ وہاں سے آپ کو حطیم کعبہ میں لایا گیا اور پھر آپ حطیم سے براق پر سوار ہو کر مسجد اقصیٰ (دور ترین مسجد) یعنی بیت المقدس پہنچے، اس وقت مکہ سے سب مسجدوں سے دور پائی جانے والی مسجد یہی تھی، چونکہ سفر کی ابتدا حطیم سے ہوئی، اس لیے کئی علماء صرف مسجد کے حصے ہی کو مسجد حرام کہتے ہیں۔ بیت المقدس سے معراج (سیڑھی) کے ذریعے سے اوپر ساتوں آسمانوں سے گزر کر سدرۃ المنتہیٰ پہنچے، راستے میں متعدد جلیل القدر انبیاء علیہم السلام سے ملاقاتیں ہوئیں، جنت و دوزخ کا مشاہدہ بھی کیا، سدرہ کے پاس ہی جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، وہیں آپ کو پہلے پچاس نمازوں اور آخر میں روزانہ پانچ نمازوں کا حکم ہوا، پھر پلٹ کر بیت المقدس آئے تو آپ نے امام بن کر تمام انبیاء علیہم السلام کے ساتھ نماز ادا کی۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اسی کو ترجیح دی ہے، لیکن قاضی عیاض وغیرہ کا خیال ہے کہ انبیاء کی امامت آپ نے واپسی پر نہیں بلکہ معراج کو جاتے ہوئے کروائی ہے۔ بہرحال اس کے بعد مسجد حرام تشریف لائے۔ واقعۂ اسراء و معراج کی تفصیلات کے لیے تفسیر ابن کثیر اور کتب احادیث کا مطالعہ فرمائیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بڑی تفصیل، ترتیب اور سلیقے سے روایات جمع فرما دی ہیں۔
➏ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کا نام ”اسراء“ ہے، جو یہاں مذکور ہے اور وہاں سے سدرۃ المنتہیٰ تک کا سفر ”معراج“ کہلاتا ہے۔ اس کا ذکر سورۂ نجم اور کتب احادیث میں ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں بہت سی احادیث مع سند ذکر فرمائی ہیں، ان میں سے بعض روایات کے آخر میں فرمایا کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس حدیث کے الفاظ دلیل ہیں کہ معراج اسی رات ہوئی ہے جب آپ مکہ سے بیت المقدس گئے ہیں اور یہی حق ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔“
➐ قرطبی نے فرمایا کہ اسراء کا واقعہ حدیث کی تمام کتابوں میں ثابت ہے اور اسلام کے زیر نگیں تمام علاقوں کے صحابہ سے مروی ہے، اس لحاظ سے یہ متواتر ہے۔ نقاش نے اسے نقل کرنے والے بیس صحابہ ذکر کیے ہیں۔ گو بعض جزئیات میں اختلاف ہے مگر اصل واقعہ بلاشک و شبہ ثابت ہے۔ (قرطبی)
➑ علمائے سلف و خلف رحمۃ اللہ علیھم کا عقیدہ ہے کہ یہ واقعہ بیداری میں روح اور جسم سمیت پیش آیا اور قرآن میں لفظ {”بِعَبْدِهٖ “} سے بھی اس کی شہادت ملتی ہے، کیونکہ عبد صرف روح کو نہیں کہتے، بلکہ روح مع جسد کو کہتے ہیں۔ پھر اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو کفار قریش اسے نہ جھٹلاتے، کیونکہ خواب میں تو ہر ایک کو عجیب و غریب واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور نہ قرآن ہی {” سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ “} کی تمہید کے ساتھ اسے بیان کرتا، کیونکہ ان تمہیدی الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم اور خرق عادت واقعہ بیان کیا جا رہا ہے، پھر {” لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا “} اور {” مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى “} (نجم: ۱۷) میں بھی سر کی آنکھوں سے دیکھنے کا ذکر ہے، پھر براق پر سواری بھی جسمانی معراج کی دلیل ہے۔ بعض علماء نے آیت کریمہ: «وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ» [بنی إسرائیل: ۶۰] میں لفظ {” الرُّءْيَا “} سے استدلال کیا ہے کہ یہ خواب کا واقعہ ہے، مگر محققین علمائے لغت نے تصریح کی ہے کہ لفظ {” الرُّءْيَا “ } (جو {”رَأَي يَرَي“} کا مصدر ہے) بیداری میں آنکھوں کے دیکھنے پر بھی استعمال ہوتا ہے، یہاں یہی مراد ہے اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تصریح فرمائی ہے: [هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلٰی بَيْتِ الْمَقْدِسِ] [بخاری، مناقب الأنصار، باب المعراج: ۳۸۸۸] ”یہ آنکھوں کا دیکھنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رات دکھایا گیا جس رات آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا۔“ معلوم ہوا کہ اس آیت سے ان علماء کا استدلال درست نہیں ہے، تمام صحابہ روایتاً و درایتاً اس پر متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج بیداری کی حالت میں ہوئی اور جسم کے ساتھ ہوئی۔ صرف عائشہ اور معاویہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ معراج خواب میں ہوئی، مگر ایک تو یہ روایت سنداً منقطع ہے اور پھر ان کی اپنی رائے اور آیت کریمہ «وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ» [بنی إسرائیل: ۶۰] سے استدلال ہے جو صحابہ کے متفقہ فیصلے کے مقابلے میں توجہ کے قابل نہیں۔ (شوکانی، ابن کثیر)
➒ علامہ جمال الدین قاسمی کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اسراء بعثت نبوی کے بعد ہوا ہے اور یہ کہ وہ ہجرت سے ایک سال پہلے تھا۔ زہری اور ابن سعد وغیرہ کا یہی کہنا ہے، امام نووی نے بھی یہ بات یقین سے کہی ہے، ابن حزم رحمہ اللہ نے مبالغہ کرتے ہوئے اس پر اجماع نقل فرمایا ہے اور کہا ہے کہ یہ (اسراء و معراج) رجب ۱۲ نبوی میں ہوئی ہے۔ طبیعت کو اطمینان اس بات پر ہوتا ہے کہ اسراء و معراج کے واقعات ابوطالب اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد ہوئے ہیں، کیونکہ اس دوران میں مشرکین کی ایذا بہت بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ انعام ان کی طرف سے پیش آنے والی ایذا سے تسلی دینے کے لیے اور آپ کی عزت افزائی اور تکریم کے لیے عطا فرمایا۔ اشرف الحواشی میں ہے کہ اکثر روایات کے مطابق یہ قصہ ہجرت سے ایک سال قبل کا ہے۔ امام ابن حزم رحمہ اللہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ملا امین عمری نے اسے قطعی قرار دیا ہے۔ بعض روایات میں تین سال قبل بھی مذکور ہے۔
علامہ شنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحیحین میں ”شریک عن انس“ کی سند سے جو مذکور ہے کہ اسراء مذکور خواب میں واقع ہوا، وہ کتاب و سنت کی صریح نصوص اور اہل السنۃ والجماعہ کے عقیدے (کہ اسراء و معراج بیداری میں جسمانی ہوئی) کے خلاف نہیں، کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ پہلے یہ سب کچھ آپ کو خواب میں دکھایا گیا ہو اور پھر اس کی تصدیق بیداری میں دکھا کر کی گئی ہو، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا: «لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِيْنَ» [الفتح: ۲۷] ”تم مسجد حرام میں ضرور بضرور داخل ہوگے، اگر اللہ نے چاہا، امن کی حالت میں، اپنے سر منڈاتے ہوئے اور کتراتے ہوئے۔“ پھر بیداری میں اس کی تصدیق بالفعل بھی فرما دی گئی۔ اس کی تصدیق عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے وہ صبح کے طلوع ہونے کی طرح دن کو سامنے آ جاتا۔ علاوہ ازیں انس رضی اللہ عنہ سے شریک کے علاوہ بہت سے حفاظ نے یہ روایت بیان کی ہے، لیکن کسی نے بھی شریک کے خواب میں دیکھنے والے الفاظ بیان نہیں کیے۔ اہل علم کی ایک جماعت نے فرمایا کہ شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت صحیح یاد نہیں رکھی۔ امام مسلم نے فرمایا کہ شریک نے یہ حدیث ثابت بنانی (انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد) کی طرح بیان کی اور اس میں کچھ چیزیں آگے پیچھے کر دیں اور کچھ کم زیادہ کر دیں۔ دوسرے تمام حفاظ کی روایت صحیح ہے اور اس میں شریک والے الفاظ نہیں ہیں۔
➓ بعض لوگ معراج کی رات میں لیلۃ القدر کی طرح خصوصی قیام اور تلاوت و ذکر کا اہتمام کرتے ہیں، اگر اس کی کوئی حقیقت ہوتی تو کم از کم کسی صحیح سند کے ساتھ اس مہینے اور دن کی تعیین ضرور معلوم ہوتی، جس میں یہ واقعہ ہوا اور صحابہ بھی اس رات اس کا اہتمام کرتے، جبکہ ستائیس (۲۷) رجب کی کوئی صحیح روایت موجود نہیں اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ سے اس رات کی خاص عبادت کا کہیں ذکر ہے، رہی آتش بازی اور چراغاں تو وہ آتش پرستوں کے ساتھ مشابہت ہے جس سے پرہیز لازم ہے۔
⓫ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی زیارت کی ہے یا نہیں، یہ بحث سورۂ نجم (۹) «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى» میں آئے گی اور معراج کے واقعہ کا بقدر ضرورت ذکر بھی وہیں ہو گا۔ (ان شاء اللہ)
⓬ { الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ:} یعنی وہاں ظاہری اور مادی برکات بھی ہیں کہ وہاں چشموں، نہروں اور ہر قسم کے غلے اور پھلوں کی بہتات ہے اور معنوی و باطنی اعتبار سے بھی وہ خطہ بابرکت ہے کہ بیت المقدس میں چاروں مقدس کتابیں پڑھی گئیں، بہت سے انبیاء و رسل وہاں مبعوث ہوئے، وہاں دنیا میں کعبۃ اللہ کے بعد بنائی جانے والی دوسری مسجد ہے، جو ان تین مساجد میں شامل ہے جن کے علاوہ کسی جگہ ثواب کی نیت سے کجاوے کس کر جانا منع ہے۔ قرآن مجید میں کئی جگہ یہ اصطلاح بیت المقدس اور شام کے لیے آئی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ نَجَّيْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا لِلْعٰلَمِيْنَ» [الأنبیاء: ۷۱] ”اور ہم نے اسے اور لوط کو اس سرزمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی۔“ اور فرمایا: «وَ لِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَةً تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا» [الأنبیاء: ۸۱] ”اور سلیمان کے لیے ہوا (مسخر کر دی) جو تیز چلنے والی تھی، اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی۔“ ان تمام آیات سے مراد سرزمین شام ہے۔
⓭ { لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا:} اسراء میں پیش آنے والی نشانیاں، مثلاً آپ کے مکان کی چھت کا کھولا جانا، جبریل علیہ السلام کا آپ کا سینہ مبارک چاک کرکے دل کو زم زم سے دھو کر ایمان و حکمت سے بھر کر پھر ملا دینا، براق کی سواری جس کا قدم حد نگاہ پر پڑتا تھا، مہینوں کا سفر لمحوں میں طے ہونا، بیت المقدس میں دودھ اور شراب کا پیش کیا جانا اور آپ کا دودھ کو پسند فرمانا، انبیاء علیہم السلام کی ملاقات اور امامت وغیرہ، پھر سفر معراج کی بے شمار نشانیاں ان کے علاوہ ہیں جن کے متعلق فرمایا: «لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى» [النجم: ۱۸] ”بلاشبہ یقینا اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔“
⓮ {اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے {” سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى “} میں اپنا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا، پھر {” بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ “} اور {” لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا “} میں تین مرتبہ جمع متکلم برائے تعظیم کے ساتھ، پھر اس آیت کے آخر میں {”اِنَّهٗ هُوَ “} غائب کے ساتھ اور اس سے اگلی آیت میں پھر جمع متکلم کے ساتھ فرمایا ہے، پھر بھی سمجھنے میں کسی جگہ کوئی الجھن پیش نہیں آئی بلکہ لطف محسوس ہوتا ہے۔ کلام کا یہ اسلوب بلاغت کا کمال ہے، اسے عربی میں التفات کہتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ واقعۂ اسراء سن کر اہلِ ایمان کے اسے تسلیم کرنے کو اور کفار کے اس سے انکار کو اور دونوں نے اس پر جو کچھ کہا اور کیا یقینا وہ صرف وہی (اللہ) ہے جو سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا اور اس کے مطابق ہر ایک سے معاملہ کرنے والا اور جزا و سزا دینے والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ واقعہ کا آغاز ﴿سُبْحَانَ الَّذِي﴾ جیسے پر زور الفاظ سے کیا جا رہا ہے اور یہ لفظ عموماً حیرت و استعجاب کے مقام پر اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نمایاں اظہار کے لیے آتا ہے۔ اگر یہ واقعہ محض ایک خواب یا کشف ہی ہوتا تو ابتدا میں یہ الفاظ لانے کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔
2۔ عبد کا لفظ جسم اور روح دونوں کے مجموعہ پر بولا جاتا ہے۔ اس لفظ کا اطلاق نہ صرف جسم پر ہوتا ہے اور نہ روح پر۔
3۔ اگر واقعہ کے بعد کافروں کا تکرار ثابت ہو جائے تو وہ خرق عادت واقعہ یا معجزہ ہوتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے: ﴿وَاِنْ يَّرَوْا ايَٰةً يُّعْرِضُوْا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ﴾ [3: 54] ”اور یہ (کافر) جب کوئی نشانی یا معجزہ دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے چلا آتا“
اور یہ بات صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جب صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ سنایا تو کفار نے اس کا خوب مضحکہ اڑایا کہ مکہ سے بیت المقدس کا 40 دن کا سفر ہے اور یہ آمدورفت کا 80 دن کا سفر راتوں رات کیسے ممکن ہے۔ اور اس بات کو (نعوذ باللہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیوانگی پر محمول کیا گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جو لوگ بیت المقدس کا سفر کرتے رہتے تھے۔ انہوں نے کچھ سوالات پوچھنا شروع کر دیئے۔ اس وقت آپ حطیم میں کھڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے درمیان سے سب پردے ہٹا دیئے تو آپ مسجد اقصیٰ کو سامنے دیکھ کر کافروں کے سوالوں کے جواب دیتے گئے جیسا کہ جابرؓ بن عبد اللہ انصاری کی حدیث سے واضح ہے جو آگے مذکور ہے۔ اور جن لوگوں نے اسے خواب کا واقعہ سمجھا ان کی دلیل اسی سورۃ کی آیت نمبر 60 کے درج ذیل الفاظ ہیں: ﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ﴾ [40: 17] ”اور یہ (واقعہ) جو ہم نے تمہیں دکھایا تو یہ محض لوگوں کی آزمائش کے لیے تھا“
1۔ لغوی لحاظ سے رءیا کا اطلاق ہر ایسے واقعہ پر ہو سکتا ہے جو آنکھ سے دیکھا گیا ہو خواہ یہ دیکھنا بیداری کی حالت میں ہو یا نیند کی حالت میں۔
2۔ اگر یہ واقعہ خواب ہی ہوتا تو اس میں لوگوں کے لیے کوئی آزمائش نہیں۔ ایسا خواب ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔
3۔ یہ مسلک جمہور امت کے مقابلہ میں شاذ ہے۔
1۔ بخاری کی صحیح روایت کے مطابق ہجرت کے سفر کا آغاز سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے گھر سے ہوا تھا جبکہ اس واقعہ کا آغاز مسجد حرام سے ہوا۔
2۔ واقعہ ہجرت بخاری کی اس روایت کے مطابق دوپہر کی کڑکڑاتی دھوپ کے وقت ہوا تھا جبکہ لوگ آرام کر رہے ہوتے ہیں مگر معراج کا آغاز رات کو ہوا۔
3۔ واقعہ ہجرت ایک رات یا راتوں رات نہیں ہوا تھا بلکہ اس سفر میں پندرہ دن اور پندرہ راتیں لگ گئے تھے جبکہ معراج کا واقعہ ایک ہی رات میں ہوا تھا۔
4۔ مسجد اقصیٰ کے عرفی مفہوم کو چھوڑ کر اس کے لغوی معنیٰ دور کی مسجد مراد لینا خلاف دستور لہٰذا باطل ہے۔
5۔ مسجد نبوی کی تو تعمیر ہی بہت بعد ہوئی پھر یہ آپ کے سفر کی آخری منزل کیسے بن سکتی ہے۔ اور واقعۂ معراج سے اس بنا پر انکار کیا جاتا ہے کہ اس میں اللہ کے لیے سمت مقرر ہوتی ہے۔ حالانکہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔ یہ بحث در اصل استواء علی العرش کی بحث ہے اور طویل ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔ [تفصيل كے ليے ديكهئے ميري تصنيف آئينه پرويزيت]
اب ہم اسراء اور معراج کے متعلق چند احادیث درج کرتے ہیں تاکہ اس واقعہ کی تفاصیل سامنے آجائیں۔
1۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس رات مجھے بیت المقدس لے جایا گیا تو میرے سامنے دو پیالے لائے گئے ایک دودھ کا اور دوسرا شراب کا تھا۔ میں نے دونوں کو دیکھا پھر دودھ کا پیالہ لے لیا۔ اس وقت جبرئیل نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے آپ کو فطری راستہ (یعنی اسلام) کی رہنمائی کی آپ اگر شراب کا پیالہ لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔“
2۔ سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ معراج کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس براق لایا گیا جسے لگام دیا گیا اور اس پر کاٹھی ڈالی گئی تھی۔ اس نے شوخی کی تو جبرئیلؑ نے کہا ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے شوخی کرتے ہو۔ حالانکہ اللہ کے ہاں ان سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں جو تم پر سوار ہو“ راوی کہتا ہے کہ پھر براق کا پسینہ ٹپکنے لگا۔ [ترمذي، كتاب التفسير]
3۔ سیدنا بریدہؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معراج کی رات جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبریلؑ نے اپنی انگلی سے اشارہ کر کے ایک پتھر چیر دیا۔ پھر اس سے براق کو باندھ دیا۔“ [ترمذي۔ ايضاً]
4۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب قریش کے کافروں نے مجھے جھٹلایا تو میں حجر (حطیم) میں کھڑا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا اور اس کی جو جو نشانیاں وہ مجھ سے پوچھتے۔ میں دیکھ کر بتاتا جاتا۔“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
5۔ سیدنا ابو ذر غفاریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے گھر کی چھت کھولی گئی اور میں مکہ میں تھا۔ جبریلؑ اترے۔ انہوں نے میرا سینہ چیرا۔ پھر اس کو زمزم کے پانی سے دھویا۔ پھر سونے کا ایک طشت لائے جو ایمان اور حکمت سے بھرا تھا، اسے میرے سینے میں ڈال دیا گیا۔ پھر سینہ جوڑ دیا۔ پھر جبریلؑ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر آسمان کی طرف چڑھے۔ جب میں پہلے آسمان پر پہنچا تو جبریلؑ نے آسمان کے داروغہ سے کہا۔ ”دروازہ کھولو“ اس نے پوچھا ”کون“ جبریل بولے ”میں ہوں جبریل“ اس نے پوچھا ”تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟“ جبریلؑ نے کہا ”ہاں! محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ہیں“ اس نے پوچھا ”کیا وہ بلائے گئے ہیں؟“ جبریلؑ نے کہا ”ہاں“ تب داروغہ نے دروازہ کھول دیا۔ تو ہم آسمان دنیا (پہلے آسمان) پر چڑھے۔ وہاں ایک شخص بیٹھا تھا جس کے دائیں طرف بھی ایک مجمع تھا اور بائیں طرف بھی۔ جب وہ دائیں طرف دیکھتا تو ہنس پڑتا اور بائیں طرف دیکھتا تو رو پڑتا۔ اس نے کہا ”نیک پیغمبر اور نیک بیٹے مرحبا“ میں نے جبرئیلؑ سے پوچھا ”یہ کون لوگ ہیں؟“ جبریلؑ نے کہا ”یہ آدم ہیں، ان کے دائیں طرف اہل جنت ہیں اور بائیں طرف اہل دوزخ ہیں۔ جب یہ دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنس پڑتے ہیں اور بائیں طرف دیکھتے ہیں تو رو پڑتے ہیں۔“ پھر جبریلؑ مجھے لے کر دوسرے آسمان پر چڑھے اور داروغہ سے کہا ”دروازہ کھولو“ اس نے بھی وہی کچھ کہا جو پہلے آسمان والے نے کہا تھا۔ پھر آپ نے آسمانوں میں سیدنا آدمؑ، ادریسؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور ابراہیمؑ کو دیکھا مگر ان کے مقام بیان نہیں کیے۔ البتہ یہ بتایا کہ پہلے آسمان پر سیدنا آدمؑ کو اور چھٹے پر سیدنا ابراہیمؑ کو پایا۔ جب جبریلؑ کو لے کر ادریس پیغمبر کے پاس سے گزرے تو انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا ”نیک پیغمبر اور نیک بھائی مرحبا“ میں نے جبریل سے پوچھا ”یہ کون ہیں؟“ جبریل نے کہا ”یہ ادریسؑ ہیں“ پھر میں موسیٰؑ پر سے گزرا تو انہوں نے وہی کچھ کہا۔ میں نے جبریلؑ سے پوچھا۔ ”یہ کون ہیں؟“ جبریلؑ نے بتایا۔ ”یہ موسیٰؑ ہیں“ پھر میں عیسیٰؑ پر سے گزرا تو انہوں نے بھی وہی کچھ کہا۔ میں نے جبریلؑ سے پوچھا تو انہوں نے بتا دیا ”یہ عیسیٰ ہیں“ پھر میں ابراہیمؑ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے وہی کچھ کہا۔ میں نے جبریل سے پوچھا تو انہوں نے بتایا ”یہ ابراہیم ہیں۔“ پھر جبریلؑ مجھے لے کر اوپر چڑھے۔ حتیٰ کہ میں ایک بلند ہموار مقام پر پہنچا۔ وہاں میں قلموں کے چلنے کی آواز سن رہا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں۔ میں یہ حکم لے کر لوٹا۔ جب موسیٰؑ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا ”اپنے پروردگار کے پاس واپس جاؤ۔ کیونکہ آپؑ کی امت اتنی طاقت نہیں رکھتی۔“ میں لوٹا تو اللہ نے اس کا کچھ حصہ معاف کر دیا، پھر موسیٰؑ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا۔ ”پھر اپنے رب کے پاس جاؤ۔ تمہاری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی“ میں پھر لوٹا (اور ایسا کئی بار ہوا) یہ پانچ نمازیں در حقیقت پچاس ہی ہیں۔ (دس گناہ اجر کے حساب سے) اور میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی۔ پھر میں موسیٰ کے پاس آیا تو انہوں نے پھر وہی بات کہی۔ تو میں نے کہا ”اب مجھے اپنے مالک کے ہاں جاتے ہوئے شرم آتی ہے“ پھر جبریلؑ مجھے لے کر چلے تو ہم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ اسے کئی طرح کے رنگوں نے ڈھانپا ہوا تھا۔ میں نہیں جانتا وہ کیا تھے۔ پھر مجھے جنت میں لے گئے۔ وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ گنبد تو موتیوں کے ہیں اور اس کی مٹی کستوری کی ہے۔ [بخاري۔ كتاب الصلوٰة۔ باب كيف فرضت الصلوة نيز كتاب بدأ الخلق۔ باب ادريسؑ]
6۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے (شب معراج میں) نماز فرض کی تو (ہر نماز کی) دو رکعتیں فرض کیں خواہ سفر ہو یا حضر۔ پھر سفر کی نماز تو وہی دو رکعت رہی اور حضر کی نماز بڑھا دی گئی۔ [حواله ايضاً]
7۔ مالک بن صعصعہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ میں کعبہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں بیٹھا تھا اور تین مردوں میں سے درمیان والے نے میرا سینہ چیر کر اس میں ایمان و حکمت بھر دیا۔ پھر میرے پاس براق لایا گیا جو خچر سے ذرا چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا۔ پھر جبریلؑ کے ساتھ پہلے آسمان پر پہنچا (مکالمہ وہی ہے جو اوپر والی روایت میں ہے) تو وہاں سیدنا آدم سے ملاقات ہوئی۔ دوسرے پر سیدنا عیسیٰؑ اور یحییٰؑ سے، تیسرے پر یوسفؑ سے چوتھے پر ادریسؑ سے پانچویں پر ہارونؑ سے چھٹے پر موسیٰؑ اور ساتویں پر ابراہیمؑ سے۔ پھر مجھے بیت المعمور (فرشتوں کا کعبہ) دکھلایا گیا۔ میں نے جبریلؑ سے اس کا حال پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور جب وہ چلے جاتے ہیں تو ان کی پھر باری نہیں آتی پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ دکھایا گیا جس کے بیر ہجر کے مٹکوں کے برابر ہیں اور پتے ایسے جیسے ہاتھی کے کان۔ اس کی جڑ سے چار نہریں نکلتی ہیں۔ دو پوشیدہ اور دو ظاہر۔ پوشیدہ تو جنت میں (سلسبیل اور کوثر) جاتی ہیں اور ظاہری نیل اور فرات ہیں۔ پھر مجھ پر پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔ میں سیدنا موسیٰؑ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا (میں لوگوں کا حال تم سے زیادہ جانتا ہوں اور بنی اسرائیل پر بہت بڑی کوشش کر چکا ہوں لہٰذا تم واپس جاؤ۔ چنانچہ دس نمازوں کی تخفیف ہوئی (حسب روایت سابق) پھر تیس ہوئیں، پھر بیس، پھر دس اور پھر پانچ۔ پھر جب موسیٰؑ نے پھر جانے کو کہا تو میں نے کہا ”میں انھیں اچھی طرح تسلیم کر چکا ہوں“ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئی ”میں نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ میں نے اپنے بندوں سے تخفیف کی۔ جبکہ ہر نیکی (نماز) کا دس گناہ بدلہ دوں گا“ [بخاري۔ كتاب بدأ الخلق۔ باب ذكر الملائكه بخاري۔ كتاب المناقب، باب المعراج]
اس واقعہ کی بیشتر تفصیل تو ان احادیث میں آ گئی ہے تاہم کچھ تفصیل بعض دوسری احادیث میں بھی مذکور ہے اور ان تفاصیل کے قابل ذکر عنوانات درج ذیل ہیں:
1۔ بیت المقدس میں تمام سابقہ انبیاء کا جمع ہونا اور جبریلؑ کا آپ کو امامت کے لیے آگے بڑھانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امامت کرانا جس سے آپ کی تمام انبیاء پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
2۔ مختلف آسمانوں پر بعض اولوالعزم رسولوں سے آپ کی ملاقات۔ جس سے ان رسولوں کے مدارج کا پتہ چلتا ہے۔
3۔ پانچ نمازوں کی فرضیت یا معراج کا تحفہ جس کے بعد پانچ اوقات میں نماز ادا کی جانے لگی۔
4۔ سات آسمانوں سے اوپر سدرۃ المنتہیٰ کی سیاحت اور اللہ تعالیٰ کے عجائب کا مشاہدہ، جنت اور دوزخ کا مشاہدہ اور بعض جرائم کی تمثیلی سزاؤں کا مشاہدہ وغیرہ۔ اس سفر کا آغاز کہاں سے ہوا تھا؟ اس واقعہ سے متعلق ایک بحث یہ رہ جاتی ہے کہ سفر اسراء کا آغاز کہاں سے ہوا تھا؟ سیدنا ابو ذر غفاریؓ کی حدیث کے مطابق یہ آغاز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ہوا۔ مالکؓ بن صعصعہ کی روایت کے مطابق کعبہ سے ہوا۔ اور ایک تیسری روایت کے مطابق ام ہانیؓ کے گھر سے ہوا۔ اس سلسلہ میں قول فیصل یہی ہے کہ یہ آغاز مسجد الحرام سے ہوا اور قرآن اسی کی تائید کرتا ہے۔ رہیں دوسری روایات تو ان کی تطبیق کی دو صورتیں بیان کی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ مکہ پورے کا پورا مسجد الحرام ہے اور اس پر دلائل بھی مل جاتے ہیں۔ دوسری صورت تطبیق یہ ہے کہ آپ جس گھر میں بھی تھے۔ وہاں سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام میں لایا گیا۔ پھر مسجد اقصیٰ کا سفر شروع ہوا۔
[2] یعنی ظاہری لحاظ سے بھی یہ علاقہ زرخیز، سرسبز و شاداب ہے اور روحانی لحاظ سے وہ بہت سے انبیاء کا مرکز تبلیغ، مسکن اور مدفن ہے۔ اس لیے وہاں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکات کا نزول ہوتا رہتا ہے اور اس سے مراد شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔
[3] ان الفاظ سے بھی واقعہ معراج کی تائید ہوتی ہے اور اس سے غرض یہ تھی کہ آپ کو مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰاتِ وَالاَرْضِ کا مشاہدہ کرا دیا جائے۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت اور دوزخ کے مناظر بھی دکھائے گئے۔ اور تمام اولو العزم پیغمبروں کو ایسا مشاہدہ کرا دیا جاتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو پورے وثوق سے ان غیب کی چیزوں کی طرف دعوت دے سکیں جنہیں وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر چکے ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صحیح بخاری شریف میں یہ حدیث کتاب التوحید میں بھی ہے اور صفۃ النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ہے۔
پھر دوبارہ ایسا ہی ہوا، پھر تیسری مرتبہ بھی یہی ہوا، یہاں تک کہ آپ بیت المقدس پہنچے۔ وہاں آپ کے سامنے پانی، شراب اور دودھ پیش کیا گیا، آپ نے دودھ لے لیا جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا آپ نے راز فطرت پالیا۔ اگر آپ پانی کے برتن لے کر پی لیتے تو آب کی امت غرق ہو جاتی اور اگر آپ شراب پی لیتے تو آپ کی امت بہک جاتی۔ پھر آپ کے لیے آدم علیہ السلام سے لے کر آپ کے زمانے تک کے تمام انبیاء بھیجے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی امامت کرائی اور اس رات نماز سب نے آپ کی اقتداء میں پڑھی۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا راستے کے کنارے جس بڑھیا کو آپ نے دیکھا تو وہ گویا یہ دکھایا گیا کہ دنیا کی عمر اب صرف اتنی ہی باقی ہے جیسے اس بڑھیا کی عمر اور جس کی آواز پر آپ تو جہ کرنے والے تھے وہ دشمن اللہ ابلیس تھا اور جن کی سلام کی آوازیں آب نے سنیں وہ ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام تھے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22020:ضعیف] اس میں بھی بعض الفاظ میں غرابت ونکارت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر میرا ہاتھ تھام کر آسمان کی طرف لے چلے۔ پھر بیان ہے کہ آسمانوں کے دروازے کھلوائے۔ فرشتوں نے سوال کیا۔ جواب پاکر دروازے کھولے وغیرہ۔ پہلے آسمان پر آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے فرمایا: ”میرے بیٹے اور نیک نبی کو مرحبا ہو۔“ اس میں چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے ملاقات کرنے کا ذکر بھی ہے۔ ساتویں آسمان پر ابراہیم علیہ السلام سے ملنے اور ان کے بھی وہی فرمانے کا ذکر ہے جو آدم علیہ السلام نے فرمایا تھا۔
اس میں سونے چاندی کے آبخورے تھے جو یاقوت و زمرد سے جڑاؤ تھے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید تھا۔ میں نے ایک سونے کا پیالہ لے کر پانی بھر کر پیا تو وہ شہد سے بھی زیادہ میٹھا تھا اور مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا۔ جب میں اس سے بھی اوپر پہنچا تو ایک نہایت خوش رنگ بادل نے مجھے آگھیرا جس میں مختلف رنگ تھے، جبرائیل علیہ السلام نے تو مجھے چھوڑ دیا اور میں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑا۔
پھر پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا بیان ہے۔ پھر آپ واپس ہوئے، ابراہیم علیہ السلام نے تو کچھ نہ فرمایا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو سمجھا بجھا کر واپس طلب تخفیف کے لیے بھیجا، الغرض اسی طرح آپ کا باربار آنا، بادل میں ڈھک جانا دعا کرنا، تخفیفی ہونا، ابراہیم علیہ السلام سے ملتے ہوئے آنا اور موسیٰ علیہ السلام سے بیان کرنا ہاں تک کہ پانچ نمازوں کا رہ جانا وغیرہ بیان ہے۔ }
واپسی میں قریشیوں کے ایک قافلے کو دیکھا جو غلہ لا دے جا رہا تھا، اس میں ایک اونٹ تھا جس پر ایک سفید اور ایک سیاہ بورا تھا، جب آپ اس کے قریب سے گزرے تو وہ چمک گیا اور مڑ گیا اور گر پڑا اور لنگڑا ہو گیا اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پہنچا دئے گئے۔
صبح ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس معراج کا ذکر لوگوں سے کیا۔ مشرکوں نے جب یہ سنا تو وہ سیدھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے لو تمہارے پیغمبر صاحب تو کہتے ہیں کہ وہ آج کی ایک ہی رات میں مہینہ بھر کے فاصلے کے مقام تک ہو آئے۔ آپ نے جواب دیا کہ اگر فی الواقع آپ نے یہ فرمایا ہو تو آپ سچے ہیں، ہم تو اس سے بھی بڑی بات میں آپ کو سچا جانتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ آپ کو آن کی آن میں آسمان سے خبریں پہنچتی ہیں۔
مشرکوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی سچائی کی کوئی علامت بھی آپ پیش کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نے راستے میں فلاں فلاں جگہ قریش کا قافلہ دیکھا۔ ان کا ایک اونٹ جس پر سفید و سیاہ رنگ کے دو بورے ہیں، وہ ہمیں دیکھ کر بھڑ کا، گھوما اور چکر کھا کر گر پڑا اور ٹانگ ٹوٹ گئی جب وہ قافلہ آیا لوگوں نے ان سے جا کر پوچھا کہ راستے میں کوئی نئی بات تو نہیں ہوئی؟ انہوں نے کہا ہاں ہوئی۔ فلاں اونٹ فلاں جگہ اس طرح گرا وغیرہ۔ کہتے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کی اسی تصدیق کی وجہ سے انہیں صدیق کہا گیا ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں موسیٰ علیہ السلام تو گندم گوں رنگ کے ہیں، جیسے ازدعمان کے آدمی ہوتے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام درمیانہ قد کے کچھ سرخی مائل رنگ کے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا ان کے لبوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ } ۱؎ [ضعیف] اس سیاق میں بھی عجائب وغرائب ہیں۔
جب میں وہاں سے آگے پڑھ گیا تو آپ رو دئے۔ پوچھا گیا کیسے روئے؟ جواب دیا کہ اس لیے کو جو بچہ میرے بعد نبی بنا بھیجا گیا، اس کی امت بہ نسبت میری امت کے جنت میں زیادہ تعداد میں جائے گی۔ اس میں ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس چار نہریں دیکھیں دو ظاہر اور دو باطن میں۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا، آپ نے مجھے بتلایا کہ باطنی تو جنت کی نہریں ہیں اور ظاہری نیل و فرات ہیں۔
پھر میری جانب بیت المعمور بلند کیا گیا۔ پھر میرے پاس شراب کا، دودھ کا اور شہد کا برتن آیا۔ میں نے دودھ کا برتن لے لیا۔ فرمایا: ”یہ فطرت ہے جس پر تو ہے اور تیری امت۔“ اس میں ہے کہ جب پانچ نمازیں ہی رہ گئیں اور پھر بھی کلیم اللہ علیہ السلام نے واپسی کا مشورہ دیا تو آپ نے فرمایا میں تو اپنے رب سے سوال کرتے کرتے شرما گیا۔ اب میں راضی ہوں اور تسلیم کر لیتا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3207]
اس روایت میں ہے کہ { ابراہیم علیہ السلام سے چھٹے آسمان پر ملاقات ہوئی۔ اس میں ہے کہ ساتویں آسمان سے میں اور اونچا پہنچایا گیا مستوی میں پہنچ کر میں نے قلموں کے لکھنے کی آوازیں سنیں۔ اس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کے مشورے سے میں طلب تخفیف کے لیے گیا تو اللہ نے آدھی معاف فرما دیں۔ پھر گیا، پھر آدھی معاف ہوئی، پھر گیا تو پانچ مقرر ہوئیں۔ اس میں ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ سے ہو کر میں جنت میں پہنچایا گیا۔ جہاں سچے موتیوں کے خیمے تھے اور جہاں کی مٹی مشک خالص تھی۔} ۱؎ [صحیح بخاری:349]
یہ پوری حدیث صحیح بخاری شریف کی کتاب الصلوۃ میں ہے اور ذکر بنی اسرائیل میں بھی ہے اور بیان حج میں اور احادیث انبیاء میں بھی ہے۔ امام مسلم نے صحیح مسلم کتاب الایمان میں بھی وارد فرمائی ہے۔ مسند احمد میں { عبداللہ بن ثیقق رحمہ اللہ نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو کم از کم ایک بات تو ضرور پوچھ لیتا آپ نے دریافت فرمایا کیا بات؟ کہا یہی کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تو میں نے آپ سے پوچھا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا۔ میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ } ۱؎ [صحیح مسلم:291،292]
اور روایت میں ہے کہ { وہ نور ہے، میں اسے کہاں سے دیکھ سکتا ہوں }؟ ۱؎ [صحیح مسلم:178]
ایک اور روایت میں ہے کہ { میں نے نور دیکھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:178]
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب میں نے معراج کے واقعہ کا لوگوں سے ذکر کیا اور قریش نے جھٹلایا، میں اس وقت حطیم میں کھڑا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس میری نگاہوں کے سامنے لا دیا اور اسے بالکل ظاہر کر دیا۔ اب جو نشانیاں وہ مجھ سے پوچھتے تھے میں دیکھتا جاتا تھا اور بتاتا جاتا تھا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3886]
بیہقی میں ہے کہ { بیت المقدس میں آپ نے ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی۔ اس میں ہے کہ جب واپس آکر لوگوں میں یہ قصہ بیان فرمایا تو بہت سے لوگ فتنے میں پڑ گئے، جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ کفار قریش کی جماعت اسی وقت دوڑی بھاگی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی اور کہنے لگے لو اور سنو آج تو تمہارے ساتھی ایک عجیب خبر سنا رہیں، کہتے ہیں ایک ہی رات میں وہ بیت المقدس سے ہو کر بھی آ گئے۔
آپ نے فرمایا اگر وہ فرماتے ہیں تو سچ ہے۔ واقعی ہو آئے ہیں انہوں نے نے کہا یعنی تم اسے بھی مانتے ہو کہ رات کو جائے اور صبح سے پہلے ملک شام سے واپس مکہ پہنچ جائے؟ آپ نے فرمایا اس بھی زیادہ بڑی بات کو میں اس سے بہت پہلے سے مانتا چلا آیا ہوں۔ یعنی میں مانتا ہو کہ ان کے پاس آسمان سے خبریں آتی ہیں اور وہ ان تمام میں سچے ہیں۔ اسی وقت سے آپ کا لقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہوا۔ ۱؎ [دلائل النبوہ للبیہقی:359/2:ضعیف]
آپ نے فرمایا جس نے قرآن سے بات کہی اس نے نجات پائی۔ پڑھئے وہ کون سی آیت ہے تو میں نے «سُبْحَانَ الَّذِي» کی یہ آیت «سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ» ۱؎ پڑھی۔ [17-الإسراء:1]
آپ نے فرمایا اس میں کس لفظ کے معنی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا کی؟ ورنہ آپ نے اس رات وہاں نماز نہیں پڑھی اور اگر پڑھ لتیے تو تم پر اسی طرح وہاں کی نماز لکھ دی جاتی۔ جس طرح بیت اللہ کی ہے۔ واللہ وہ دونوں براق پر ہی رہے یہاں تک کہ آسمان کے دروازے ان کے لیے کھل گئے، پس جنت دوزخ دیکھ لی اور آخرت کے وعدے کی اور تمام چیزین بھی۔ پھر ویسے کے ویسے ہی لوٹ آئے۔
پھر آپ خوب ہنسے اور فرمانے لگے مزہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہاں آپ نے براق باندھا کہ کہیں بھاگ نہ جائے۔ حالانکہ عالم الغیب و الشہادۃ اللہ عالم نے اسے آپ کے لیے مسخر کیا تھا۔ میں نے پوچھا کیوں جناب یہ براق کیا ہے؟ کہا ایک جانور ہے سفید رنگ لانبے قد کا جو ایک ایک قدم اتنی اتنی دور رکھتا ہے، جتنی دور نگاہ کام کرے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3147،قال الشيخ الألباني:حسن]
لیکن یہ یاد رہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے محض انکار سے وہ روایتیں جن میں بیت المقدس کی نماز کا ثبوت ہے وہ مقدم ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور فرمایا کہ میں عشاء کے بعد مسجد میں سویا ہوا تھا، جو ایک آنے والے نے آ کر مجھے جگایا میں اٹھ بیٹھا لیکن کوئی نظر نہ پڑا، ہاں کچھ جانور سا نظر آیا، میں نے غور سے اسے دیکھا اور برابر دیکھتا ہوا مسجد کے باہر چلا گیا تو مجھے ایک عجیب جانور نظر پڑا ہمارے جانوروں میں سے تو اس کے کچھ مشابہ خچر ہے۔ ہلتے ہوئے اور اوپر کو اٹھے ہوئے کانوں والا تھا۔ }
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیت المقدس پہنچنا، دودھ کا برتن لینا اور جبرائیل علیہ السلام کے فرمان سے خوش ہو کر دد دفعہ تکبیر کہنا ہے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر فکر کیسے ہے؟ میں نے وہ دونوں واقعے راستے کے بیان کئے تو آپ نے فرمایا کہ پہلا شخص تو یہود تھا اگر آپ اسے جواب دیتے یا وہاں ٹھہرتے تو آپ کی امت یہود ہو جاتی۔
دوسرا نصرانیوں کا دعوت دینے والا تھا وہاں ٹھہرتے تو آپ کی امت دنیا کو آخرت پر ترجیح دے کر گمراہ ہو جاتی۔ پھر میں اور جبرائیل علیہ السلام بیت المقدس میں گئے ہم دونوں نے دو دو رکعتیں ادا کیں پھر ہمارے سامنے معراج لائی گئی جس سے بنی آدم کی روحیں چڑھتی ہیں دنیا نے ایسی اچھی چیز کبھی نہیں دیکھی تم نہیں دیکھتے کہ مرنے والے کی آنکھیں آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہیں یہ اسی سیڑھی کو دیکھتے ہوئے تعجب کے ساتھ۔
ہم دونوں اوپر چڑھ گئے میں نے اسماعیل نامی فرشتے سے ملاقات کی جو آسمان دنیا کا سردار ہے جس کے ہاتھ تلے ستر ہزار فرشتے ہیں، جن میں سے ہر ایک فرشتے کے ساتھ اس کے لشکری فرشتوں کی تعداد ایک لاکھ ہے۔ فرمان الٰہی ہے تیرے رب کے لشکروں کو صرف وہی جانتا ہے۔
جبرائیل علیہ السلام نے اس آسمان کا دروازہ کھلوانا چاہا، پوچھا گیا کون ہے؟ کہا جبرائیل (علیہ السلام)، پوچھا گیا آپ کے ساتھ اور کون ہیں؟ بتلایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا کہ کیا ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں، وہاں میں نے آدم علیہ السلام کو دیکھا، اسی ہیئت میں، جس میں وہ اس دن تھے جس دن اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا تھا۔ ان کی اصلی صورت پر۔ ان کے سامنے ان کی اولاد کی روحیں پیش کی جاتی ہیں۔ نیک لوگوں کی روحوں کو دیکھ کر فرماتے ہیں پاک روح ہے اور جسم بھی پاک ہے۔ اسے علیین میں لے جاؤ اور بدکاروں کی روحوں کو دیکھ کر فرماتے ہیں۔ خبیث روح جسم بھی خبیث ہے۔ اسے سجین میں لے جاؤ۔
کچھ ہی چلا ہوں گا جو میں نے دیکھا کہ خوان لگے ہوئے ہیں جن پر نہایت نفیس گوشت بھنا ہوا ہے اور دوسری جانب اور خوان لگے ہوئے ہیں جن پر بدبودار سڑا بسا گوشت رکھا ہوا کچھ لوگ ہیں جو عمدہ گوشت کے تو پاس بھی نہیں آتے اور اس سڑے ہوئے گوشت کو کھا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا جرئیل علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں؟ جواب دیا کہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو حلال کو چھوڑ کر حرام کی رغبت کرتے تھے۔ }
میں کچھ دور اور چلا جو دیکھا کہ کچھ عورتیں اپنے سینوں کے بل ادھر لٹکی ہوئی ہیں اور ہائے وائے کر رہی ہیں۔ میرے پوچھنے پر جواب ملا کہ یہ آپ کی امت کی زنا کار عورتیں ہیں۔
میں کچھ دور اور گیا تو دیکھا کہ کچھ لوگوں کے پیٹ بڑے بڑے گھروں جیسے ہیں جب وہ اٹھنا چاہتے ہیں گر پڑتے ہیں اور باربار کہہ رہے ہیں کہ اے اللہ قیامت قائم نہ ہو فرعونی جانوروں سے وہ روندے جاتے ہیں اور اللہ کے سامنے آہ وزاری کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے، سود خور ان لوگوں کی طرح ہی کھڑے ہوں گے، جنہیں شیطان نے باؤلا بنا رکھا ہو۔
میں کچھ دور اور چلا تو دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں، جن کے پہلو سے گوشت کاٹ کاٹ کر فرشتے انہی کو کھلا رہے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ جس طرح اپنے بھائی کا گوشت اپنی زندگی میں کھاتا رہا اب بھی کھا۔ میں نے پوچھا جبرائیل یہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ آپ کی امت کے عیب جو اور آوازہ کش لوگ ہیں۔
پھر میں چوتھے آسمان کی طرف چڑھا۔ وہاں ادریس علیہ السلام کو پایا جنہیں اللہ تعالیٰ نے بلند مکان پر اٹھا لیا ہے، میں نے سلام کیا انہوں نے جواب دیا، پھر پانچویں آسمان کی طرف چڑھا، وہاں ہارون علیہ السلام تھے، جنکی آدھی داڑھی سفید تھی اور آدھی سیاہ اور بہت لمبی داڑھی تھی، قریب قریب ناف تک۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے سوال کیا انہوں نے بتایا کہ یہ اپنی قوم کے ہر دلعزیز ہارون بن عمران علیہ السلام ہیں ان کے ساتھ ان کی قوم کی جماعت ہے، انہوں نے بھی میرے سلام کا جواب دیا،
پھر میں چھٹے آسمان کی طرف چڑھا، وہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، آپ کا گندم گوں رنگ تھا بال بہت تھے، اگر دو کرتے بھی پہن لیں تو بال ان سے گزر جائیں آپ فرمانے لگے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس ان سے بڑے مرتبے کا ہوں، حالانکہ یہ مجھ سے بڑے مرتبے کے ہیں جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کرنے سے مجھے معلوم ہوا کہ آپ موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں، آپ کے پاس بھی آپ کی قوم کے لوگ تھے۔ آپ نے بھی میرے سلام کا جواب دیا۔
پھر میں ساتویں آسمان کی طرف چڑھا۔ وہاں میں نے اپنے والد ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کو اپنی پیٹھ بیت المعمور سے ٹکائے ہوئے بیٹھا دیکھا۔ آپ بہت ہی بہتر آدمی تھے۔ دریافت کرنے پر مجھے آپ کا نام بھی معلوم ہوا۔ میں نے سلام کیا آپ نے جواب دیا۔
میں نے اپنی امت کو نصفا نصف دیکھا۔ نصف کے تو سفید بگلے جیسے کپڑے تھے اور نصف کے سخت سیاہ کپڑے تھے۔ میں بیت المعمور میں گیا۔ میرے ساتھ ہی سفیدکپڑے والے سب گئے اور دوسرے جن کے خاکی کپڑے تھے وہ سب روک دئیے گئے ہیں وہ بھی خیر پر۔ پھر ہم سب نے وہاں نماز ادا کی اور وہاں سے سب باہر آئے۔ اس بیت المعمور میں ہر دن ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں لیکن جو ایک دن پڑھ گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔ }
پھر میں جنت کی طرف چڑھایا گیا وہاں میں نے ایک حور دیکھی اس سے پوچھا تو کس کی ہے؟ اس نے کہا، زید بن حارثہ (رضی اللہ عنہ) کی۔ وہاں میں نے نہ بگڑنے والے پانی کی اور مزہ متغیر نہ ہونے والے دودھ کی اور بے نشہ لذیذ شراب اور صاف ستھری شہد کی نہریں دیکھیں۔ اس کے انار بڑے بڑے ڈولوں کے برابر تھے۔
اس کے پرند تمہارے ان بختی اونٹوں جیسے تھے بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی انسان کے دل پر ان کا خیال تک گزرا۔ پھر میرے سامنے جہنم پیش کی گئی، جہاں غضب الٰہی، عذاب الٰہی، ناراضگی الٰہی تھی، اس میں اگر پتھر اور لوہا ڈالا جائے تو وہ بھی کھا جائے پھر میرے سامنے سے وہ بند کر دی گئی۔
میں پھر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا دیا گیا اور اور مجھے ڈھانپ لیا پس میرے اور اس کے درمیان صرف بقدر دو کمانوں کے فاصلہ رہ گیا بلکہ اور قریب اور سدرۃ المنتہیٰ کے ہر ایک پتے پر فرشتہ آ گیا اور مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئی اور فرمایا کہ تیرے لیے ہر نیکی کے عوض دس ہیں تو جب کسی نیکی کا ارادہ کرے گا گو بجا نہ لائے تا ہم نیکی لکھ لی جائے گی اور جب بجا بھی لائے تو دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور برائی کے محض ارادے پر تغیر کئے ہوئے کچھ بھی نہ لکھا جائے گا اور اگر کرلی تو صرف ایک ہی برائی شمار ہو گی۔
پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آنے اور آپ کے مشورے سے جانے اور کمی ہونے کا ذکر ہے جیسے کہ بیان گزر چکا آخر جب پانچ رہ گئیں تو فرشتے نے ندا کی کہ میرا فریضہ پورا ہو گیا۔ میں نے اپنے بندوں پر تخفیف کر دی اور انہیں ہر نیکی کے بدلے اسی جیسی دس نیکیاں دیں۔ }
آپ نے فرمایا سنو جاتے وقت میں نے تمہارے قافلے کو فلاں جگہ دیکھا تھا اور آتے وقت مجھے وہ عقبہ میں ملا۔ سنو اس میں فلاں فلاں شخص ہے، فلاں اس رنگ کے اونٹ پر ہے اور اس کے پاس یہ یہ اسباب ہے۔ ابوجہل نے کہا خبریں تو دے رہا ہے دیکھئیے کیسی نکلیں؟ اس پر ان میں سے ایک شخص نے کہا میں بیت المقدس کا حال تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ اس کی عمارت کا حال اس کی شکل و صورت پہاڑ سے اس کی نزدیکی وغیرہ۔
پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجاب دور کر دئے گئے اور جیسے ہم گھر میں بیٹھے گھر کی چیزوں کو دیکھتے ہیں اسی طرح آپ کے سامنے بیت المقدس کر دیا گیا۔ آپ فرمانے لگے اس کی بناوٹ اس طرح کی ہے۔ اس کی ہیئت اس طرح کی ہے، وہ پہاڑ سے اس قدر نزدیک ہے وغیرہ۔ اس نے کہا بیشک آپ فرماتے ہیں۔ پھر اس نے کفار کے مجمع کی طرف دیکھ کر کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات میں سچے ہیں یا کچھ ایسے ہی الفاظ کہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22023:ضعیف جداً]
یہ روایت اور بھی بہت سے کتابوں میں ہے ہم نے باوجود اس کی غربت اور نکارت اور ضعف کے اسے اس لیے بیان کیا ہے کہ اس میں اور احادیث کے بہت سے شواہد ہیں اور اس لیے بھی کہ بیہقی میں ہے۔
آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے۔ میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت کے لوگ آپ کی طرف سے معراج والے واقعے میں بہت سے عجیب وغریب باتیں بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں وہ باتیں قصہ کہنے والوں کی ہیں۔ } ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیہقی:405/2:باطل و لاصل لہ]
ترمذی شریف میں ہے سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معراج کی کیفیت تو بیان فرمائیے۔ آپ نے فرمایا سنو میں نے اپنے اصحاب کو مکہ میں عشاء کی نماز دیر سے پڑھائی پھر جبرائیل علیہ والسلام میرے پاس سفید رنگ کا ایک جانور لائے گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا اور مجھ سے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جائیے اس نے کچھ سختی کی تو آپ نے اس کا کان مروڑا اور مجھے اس پرسوار کر دیا۔
اس میں مدینے میں نماز پڑھنے کا پھر مدین میں اس درخت کے پاس نماز پڑھنے کا ذکر ہے جہاں موسیٰ علیہ السلام ٹھیرے تھے۔ پھر بیت لحم میں نماز پڑھنے کا ذکر ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے تھے پھر بیت المقدس میں نماز پڑھنے کا، وہاں سخت پیاس لگنے کا اور دودھ اور شہد کے برتن آنے کا اور پیٹ بھر کر دودھ پینے کا ذکر ہے فرماتے ہیں۔
وہیں ایک شیخ تکیہ لگائے بیٹھے تھے جنہوں نے کہا یہ فطرت تک پہنچ گئے اور راہ یافتہ ہوئے۔ پھر ہم ایک وادی پر آئے جہنم کو میں نے دیکھا جو سخت دہکتے ہوئے انگارے کی طرح تھی پھر لوٹتے ہوئے فلاں جگہ قریش کا قافلہ ہمیں ملا جو اپنے کسی گمشدہ اونٹ کی تلاش میں تھا۔ میں نے انہیں سلام کیا بعض لوگوں نے میری آواز بھی پہچان لی اور آپس میں کہنے لگے یہ آواز تو بالکل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ہے پھر صبح سے پہلے میں اپنے اصحاب کے پاس مکہ شریف پہنچ گیا۔ }
آپ نے فرمایا سنو میں تمہیں ایک نشان بتاؤں، تمہارے قافلے کو میں نے فلاں مقام پر دیکھا ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا جسے فلاں شخص لے آیا۔ اب وہ اتنے فاصلے پر ہیں ایک منزل ان کی فلاں جگہ ہو گی، دوسری فلاں اور وہ فلاں دن یہاں پہنچیں گے۔ ان کے قافلے میں سب سے پہلے گندمی رنگ کا اونٹ ہے، جس پر سیاہ جھول پڑی ہوئی ہے اور دو سیاہ بوریاں اسباب کی دونوں طرف لدی ہوئی ہیں۔ جب وہ دن آیا جو دن اس کے قافلے کے واپس پہنچنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔ دوپہر کو لوگ دوڑے بھاگے شہر کے باہر گئے کہ دیکھیں یہ سب باتیں سچ ہیں؟ تو دیکھا کہ قافلہ آ رہا ہے اور واقعی وہی اونٹ آگے ہے۔ } ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:355/2:حسن]
یہی روایت اور کتابوں میں بہت مطول بھی مروی ہے اور اس میں بہت باتیں منکر بھی ہیں۔ مثلا بیت اللحم میں آپ کا نماز ادا کرنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا بیت المقدس کی نشانیاں دریافت کرنا وغیرہ۔
اس میں ہے کہ ہر نبی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سلام کیا۔ جہنم کے ملاحظہ کے وقت آپ نے دیکھا کہ چھ لوگ مردار کھا رہے ہیں۔ پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جواب ملا جو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے (یعنی غیبت گو تھے) وہیں آپ نے ایک شحص کو دیکھا جو خود آگ جیسا سرخ ہو رہا تھا۔ آنکھیں ٹیڑھی ترچھیں تھیں پوچھا یہ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہی ہے جس نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو مار ڈالا تھا۔ ۱؎ [مسند احمد:257/1:ضعیف]
آپ نے اس رات دجال کو اس کی اصلی صورت میں دیکھا اور آنکھوں کا دیکھنا نہ کہ خواب میں دیکھنا۔ عیسیٰ علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا۔ دجال کی شبیہ آپ نے بیان فرمائی وہ بھدا، خبیث، چندھا ہے اور اس کی ایک آنکھ ایسی قائم ہے جیسے تارا اور بال ایسے ہیں جیسے کسی درخت کی گھنی شاخیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا وصف آپ نے اس طرح بیان فرمایا ک وہ سفید رنگ، گھنگریالے بالوں والے درمیان قد کے ہیں اور موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ کے مضبوط اور قوی آدمی ہیں اور ابراہیم علیہ السلام تو بالکل ہوبہو مجھ جیسے تھے۔ } ۱؎ [مسند احمد:374/1:صحیح] الخ۔
اور سند سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں شب معراج ایک مقام سے مجھے نہایت ہی اعلیٰ اور مست خوشبو کی مہک آنے لگی۔ میں نے پوچھا کہ یہ خوشبوی کیسی ہے؟ جواب ملا کہ فرعون کی لڑکی کی مشاطہٰ اور اس کی اولاد کے محل کی۔ فرعون کی شہزادی کو کنگھی کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے اتفاقاً کنگھی گر پڑی تو اس کی زبان سے بےساختہ «بسم اللہ» نکل گیا اس پر شہزادی نے اس سے کہا اللہ تو میرے ہی باپ ہیں؟ اس نے جواب دیا نہیں بلکہ اللہ وہ ہے جو مجھے اور تجھے اور خود فرعون کو روزیاں دیتا ہے۔
اس نے کہا اچھا تو کیا تو میرے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ ہاں ہاں میرا تیرا اور تیرے باپ سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس نے اپنے باپ سے کہلوایا وہ سخت غضبناک ہوا اور اسی وقت اسے برسر دربار بلوا بھیجا اور کہا کیا تو میرے سوا کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے؟ اس نے کہا ہاں میرا اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے۔ }
جب وہ اور سب بچے اس میں ڈال دئیے گئے اور سب جل کر راکھ ہو گئے تو سب سے چھوٹے کی باری آئی جو ماں کی چھاتی سے لگا ہوا دودھ پی رہا تھا۔ فرعون کے سپاہوں نے اسے جب گھسیٹا تو اس نیک بندی کے آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو اسی وقت زبان دے دی اور اس نے باآواز بلند ہوکر کہا اماں جان! افسوس نہ کرو اماں جان ذرا بھی پس و پیش نہ کرو۔ حق پر جان دینا ہی سب سے بڑی نیکی ہے چنانچہ انہیں صبر آگیا اسے بھی اس میں ڈال دیا اور آخر میں ان بچوں کی ماں کو بھی رضی اللہ عنہم اجمعین۔
یہ خوشبو کی مہکیں اسی کے جنتی محل سے آرہی ہیں۔ آپ نے اس واقعہ کے ساتھ ہی بیان فرمایا کہ چار چھوٹے بچوں نے گہوارے ہی میں بات چیت کی ایک تو یہی بچہ۔ اور ایک وہ بچہ جس نے یوسف علیہ السلام کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ اور ایک وہ بچہ جس نے جریج ولی اللہ کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3436] اس روایت کی سند بےعیب ہے۔
اب اس موذی کے دل میں خیال آیا کہ اس وقت انہیں جھٹلانا اچھا نہیں ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے مجمع میں پھر یہ بات نہ کہیں۔ اس لیے اس نے کہا کیوں صاحب اگر میں ان سب لوگوں کو جمع کرلوں تو سب کے سامنے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) یہی کہیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں؟ سچی باتیں چھپانے کو نہیں ہوتیں۔ اسی وقت اس نے ہانک لگائی کہ اے بنی کعب بن لوی کی اولاد والو آؤ۔ سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر بیٹھ گئے تو اس ملعون نے کہا اب اپنی قوم کے ان لوگوں کے سامنے وہ بات بیان کرو۔ جو مجھ سے کر رہے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سنو مجھے اس رات سیر کرائی گئی۔ سب نے پوچھا کہاں تک گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت المقدس تک۔ لوگوں نے کہا اچھا اور پھر صبح کو ہم میں موجود ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اب تو کسی نے تالیاں پیٹنی شروع کردیں کوئی تعجب کے ساتھ اپنا ہاتھ اپنے ماتھے پر رکھ کر بیٹھ رہا اور سخت حیرت کے ساتھ انہوں نے بالاتفاق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا سمجھا پھر کچھ دیر کے بعد کہنے لگے اچھا تم وہاں کی کیفیت اور جو نشانات ہم پوچھیں بتاسکتے ہو؟ ان میں وہ لوگ بھی تھے جو بیت المقدس ہو آئے تھے اور وہاں کے چپے چپے سے واقف تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پوچھو کیا پوچھتے ہو؟ وہ پوچھنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتلانے لگے۔
فرماتے ہیں بعض ایسے باریک سوال انہوں نے کئے کہ ذرا مجھے گھبراہٹ سی ہونے لگی اسی وقت مسجد میرے سامنے کر دی گئی اب میں دیکھتا جاتا تھا اور بتاتا جاتا تھا۔ بس یوں سمجھو کہ عقیل کے گھر کے پاس ہی مسجد تھی یا عقال کے گھر کے پاس۔ یہ اس لیے کہ بعض اوصاف مجھے مسجد کے یاد نہیں رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان نشانات کے بتلانے کے بعد سب کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوصاف تو صاف صاف اور ٹھیک ٹھیک بتائے۔ اللہ کی قسم ایک بات میں بھی غلطی نہیں کی۔ یہ حدیث نسائی وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ ۱؎ [سنن نسائی:11285:حسن]
بیہقی میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے جو چیز چڑھے وہ یہیں تک پہنچتی ہے پھر یہاں سے اٹھالی جاتی ہے اور جو اترے وہ یہیں تک اترتی ہے پھر یہاں سے لے لی جاتی ہے۔ اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں چھا رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کے آخر کی آیتیں دی گئیں اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے جو شرک نہ کرے گا اس کے کبیرہ گناہ بھی بخش دئے جائیں گے۔ مسلم وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:173]
پس آپ نے روایت بیان کرنی شروع کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { جب براق اونچائی پر چڑھتا اس کے ہاتھ پاؤں برابر کے ہو جاتے۔ اس طرح جب نیچے کی طرف اتراتا تب بھی برابر ہی رہتے جس سے سوار کو تکلیف نہ ہو۔ ہم ایک صاحب کے پاس سے گزرے طویل قامت سیدھے سیدھے بالوں والے گندمی رنگ کے تھے ایسے ہی جیسے ازدشنوہ قبیلے کے آدمی ہوتے ہیں۔ وہ باآواز بلند کہہ رہے تھے کہ تم نے اس کا اکرام کیا اور اسے فضیلت عطا فرمائی۔ ہم نے انہیں سلام کیا، انہوں نے جواب دیا، پوچھا کہ جبرائیل (علیہ السلام) یہ تمہارے ساتھ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا یہ احمد ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم ) انہوں نے فرمایا، نبی امی عربی کو مرحبا ہو، جس نے اپنے رب کی رسالت پہنچائی اور اپنی امت کی خیر خواہی کی۔
پھر ہم لوٹے میں نے پوچھا جبرائیل (علیہ السلام) یہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ موسیٰ بن عمران ہیں علیہ الصلوۃ والسلام۔ میں نے کہا اور یہ ایسے لفظوں سے باتیں کس سے کر رہے تھے؟ فرمایا اللہ تعالیٰ سے آپ کے بارے میں۔ میں نے کہا اللہ سے اور اس آواز سے؟ فرمایا ہاں اللہ کو ان کی تیزی معلوم ہے۔ پھر ہم ایک درخت کے پاس سے نکلے، جس کے پھل چراغوں جیسے تھے۔ اس کے نیچے ایک بزرگ شیخ بیٹھے ہوئے تھے، جن کے پاس بہت سے چھوٹے بچے تھے۔
جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا چلو اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کو سلام کرو۔ ہم نے وہاں پہنچ کر انہیں سلام کیا جواب پایا۔ جبرائیل علیہ السلام سے آپ نے میری نسبت پوچھا، انہوں نے جواب دیا کہ یہ آپ کے لڑکے احمد علیہ السلام ہیں، تو آپ نے فرمایا مرحبا ہو نبی امی کو جس نے اپنے رب کی پیغمبری پوری کی اور اپنی امت کی خیر خواہی کی۔ میرے خوش نصیب بیٹے آج رات آپ کی ملاقات اپنے پروردگار سے ہونے والی ہے۔ آپ کی امت سب سے آخری امت ہے اور سب سے کمزور بھی ہے۔ خیال رکھنا ایسے ہی کام ہوں جو ان پر آسان رہیں۔ }
اس کی اسناد غریب ہے۔ اس میں بھی غرائب ہیں مثلا انباء کا آپ کی شناخت کا سوال پھر آپ کا ان کے پاس جانے کے بعد ان کی معرفت کا سوال وغیرہ۔ حالانکہ صحیح احادیث میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام پہلے ہی آپ کو بتلادیا کرتے تھے کہ یہ فلاں نبی ہیں تاکہ سلام پہچان کے بعد ہو۔ پھر اس میں ہے کہ انبیاء سے ملاقات بیت المقدس کی مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ہی ہوئی۔ حالانکہ صحیح روایتیوں میں ہے کہ ان سے ملاقات آسمانوں پر ہوئی۔ پھر آپ دوبارہ اترتے ہوئے واپس میں بیت المقدس کی مسجد میں آئے۔ وہ سب بھی آپ کے ساتھ تھے اور یہاں آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔ پھر براق پر سوار ہو کر مکہ شریف واپس آئے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ }
پھر تو درخت پتھر بھی بول اٹھیں گے کہ اے مسلمان دیکھ یہاں میرے نیچے ایک کافر چھپا ہوا ہے آ اور اسے قتل کر۔ پس اللہ تعالیٰ ان سب کو ہلاک کرے گا۔ لوگ ٹھنڈے دلوں اپنے شہروں اور وطنوں میں لوٹ جائیں گے اسی زمانے میں یاجوج ماجوج نکلیں گے جو ہر اونچائی سے کودتے پھاندتے آئیں گے۔ جو چیز پائیں گے غارت کر دیں گے، جو پانی دیکھیں گے پی جائیں گے، آخر لوگ تنگ آکر مجھ سے شکایت کریں گے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا۔
اللہ ان سب کو ایک ساتھ ہی ہلاک کر دے گا لیکن زمین پر ان لاشوں کی تعفن کی وجہ سے چلنا پھرنا مشکل ہو جائے گا اس وقت اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا، جو ان کی لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال دے گی۔ مجھے یہ خوب معلوم ہے کہ اس کے بعد ہی فوراً قیامت آ جائے گی جیسے پورے دن کی حمل والی ہو کہ نہ جانے صبح فارغ ہو جائے یا رات ہی کو۔ } ۱؎ [مسند احمد:375/1:ضعیف]
اور ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس رات مسجد الحرام سے بیت المقدس کی مسجد تک پہنچایا گیا اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمزم اور مقام ابراہیم کے درمیان تھے جو جبرائیل علیہ السلام دائیں اور میکائیل علیہ السلام بائیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اڑا لے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسمان کی بلندیوں تک پہنچے لوٹتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تسبیحیں بھی مع اور تسبیحوں کے سنیں۔ } یہ روایت اسی سورت کی آیت «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ» [17-الإسراء:44] الخ، کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
مسند احمد میں ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جابیہ میں تھے بیت المقدس کی فتح کا ذکر ہوا آپ نے کعب سے پوچھا کہ تمہارے خیال میں مجھے وہاں کس جگہ نماز پڑھنی چاہیئے۔ انہوں نے فرمایا مجھ سے پوچھتے ہو تو میں تو کہوں گا کہ صخرہ کے پیچھے نماز پڑھئے تاکہ بیت المقدس آپ کے سامنے رہے آپ نے فرمایا تم نے وہی یہودیت کی مشابہت کی۔ میں تو اس جگہ نماز پڑھوں گا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی ہے پس آپ نے آگے بڑھ کر قبلہ کی طرف نماز ادا کی۔ بعد از ادائے نماز آپ نے صخرہ کے آس پاس سے تمام کوڑا سمیٹا اور اپنی چادر میں باندھ کر باہر پھینکنا شروع کیا اور اوروں نے بھی آپ کا ہاتھ بٹایا۔ ۱؎ [مسند احمد:38/1:ضعیف]
پس آپ نے نہ تو صخرہ کی ایسی تعظیم کی جیسے یہود کرتے تھے کہ نماز بھی اسی کے پیچھے پڑھتے تھے بلکہ اسی کو قبلہ بنا رکھا تھا۔ چونکہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بھی اسلام سے پہلے یہودی تھے، اسی لیے آپ نے ایسی رائے پیش کی تھی جسے خلیفتہ المسلمین نے ٹھکرادیا، اور نہ آپ نے نصرانیوں کی طرح صخرہ کی اہانت کی کہ انہوں نے تو اسے کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ بنا رکھا تھا۔ بلکہ آپ نے خود اس کے آس پاس سے کوڑا اٹھا کر پھینکا۔ یہ بالکل اس حدیث کے مشابہ ہے جس میں ہے کہ { نہ تو قبروں پر بیٹھو نہ ان کی طرف نماز ادا کرو۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:972]
ایک طویل روایت معراج کی بابت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے غرب والی بھی مروی ہے، اس میں ہے کہ { جبرائیل اور میکائیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ جبرائیل علیہ السلام نے میکائیل علیہ السلام سے کہا کہ میرے پاس زمزم کے پانی کا طشت بھر لاؤ کہ ان میں ان کے دل کو پاک کروں اور ان کے سینے کو کھول دوں۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیٹ چاک کیا اور اسے تین بار دھویا اور تینوں مرتبہ میکائیل علیہ السلام کے لائے ہوئے پانی کے طشت سے اسے دھویا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کو کھول دیا۔ سب غل و غش دور کر دیا اور علم و حلم، ایمان و یقین سے اسے پر کیا، اسلام اس میں بھر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت لگا دی۔ اور ایک گھوڑے پر بٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرائیل علیہ السلام لے چلے۔
دیکھا کہ ایک قوم ہے ادھر کھیتی کاٹتی ہے، ادھر بڑھ جاتی ہے۔ جبرائیل علیہ السلام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا یہ اللہ کی راہ کے مجاہد ہیں جن کی نیکیاں سات سات سو تک بڑھتی ہیں، جو خرچ کریں اس کا بدلہ پاتے ہیں، اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس قوم پر ہوا جن کے سر پتھروں سے کچلے جار ہے تھے، ہر بار ٹھیک ہو جاتے اور پھر کچلے جاتے۔ دم بھر کی انہیں مہلت نہ ملتی تھی۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ فرض نمازوں کے وقت ان کے سر بھاری ہو جایا کرتے تھے۔
پھر کچھ لوگوں کو میں نے دیکھا کہ ان کے آگے پیچھے دھجیاں لٹک رہی ہیں اور اونٹ اور جانوروں کی طرح کانٹوں دار جہنمی درخت چر چگ رہے اور جہنم کے پتھر اور انگارے کھا رہے ہیں۔ میں نے کہا یہ کیسے لوگ ہیں؟ فرمایا اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دینے والے۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔
پھر میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے سامنے ایک ہنڈیا میں تو صاف ستھرا گوشت ہے دوسری میں خبیث سڑا بھسا گندہ گوشت ہے، یہ اس اچھے گوشت سے تو روک دئے گئے ہیں اور اس بدبودار بد مزہ سڑے ہوئے گوشت کو کھا رہے ہیں۔ میں نے سوال کیا یہ کس گناہ کے مرتکب ہیں؟ جواب ملا کہ یہ وہ مرد ہیں جو اپنی حلال بیویوں کو چھوڑ کر حرام عورتوں کے پاس رات گزارتے تھے۔ اور وہ عورتیں ہیں جو اپنے حلال خاوند کو چھوڑ کر اوروں کے ہاں رات گزارتی تھیں۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ راستے میں ایک لکڑی ہے کہ ہر کپڑے کو پھاڑ دیتی ہے اور ہر چیز کو زخمی کر دیتی ہے۔ پوچھا یہ کیا؟ فرمایا، یہ آپ کے ان امتیوں کی مثال ہے جو راستے روک کر بیٹھ جاتے ہیں۔
پھر اس آیت کو پڑھا «وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا» ۱؎ [7-الأعراف:86] الخ، ’ یعنی ہر ہر راستے پر لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور راہ حق سے روکنے کے لیے نہ بیٹھا کرو ‘ الخ۔
پھر دیکھا کہ ایک شخص بہت بڑا ڈھیر جمع کئے ہوئے ہے جسے اٹھا نہیں سکتا، پھر بھی وہ اور بڑھا رہا ہے۔ پوچھا جبرائیل علیہ السلام یہ کیا ہے؟ فرمایا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا وہ شخص ہے جس کے اوپر لوگوں کے حقوق اس قدر ہیں کہ وہ ہرگز ادا نہیں کر سکتا تاہم وہ اور حقوق چڑھا رہا ہے اور امانتیں لیے جا رہا ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو دیکھا جن کی زبان اور ہونٹ لوہے کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں۔ ادھر کٹے، ادھر درست ہو گئے، پھر کٹ گئے، یہی حال برابر جاری ہے۔ پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا یہ فتنے کے واعظ اور خطیب ہیں۔ پھر دیکھا کہ ایک چھوٹے سے پتھر کے سوراخ میں سے ایک بڑا بھاری بیل نکل رہا ہے، پھر وہ لوٹنا چاہتا ہے لیکن نہیں جا سکتا۔ پوچھا یہ کیا ہے؟ فرمایا یہ وہ شخص ہے جو کوئ بڑا بول بولتا تھا، اس پر نادم تو ہوتا تھا مگر لوٹا نہیں سکتا تھا۔
پھر آپ ایک وادی میں پہنچے۔ وہاں نہایت نفیس، خوش گوار ٹھنڈی ہوا اور دل خوش کن، معطر، خوشبودار، راحت و سکون کی مبارک صدائیں سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ جنت کی آواز ہے، وہ کہہ رہی ہے کہ یا اللہ مجھ سے اپنا وعدہ پورا کر۔ میرے بالاخانے، ریشم، موتی، مونگے، سونا، چاندی، جام، کٹورے اور پانی، دودھ، شراب وغیرہ وغیرہ نعمتیں بہت زیادہ ہو گئیں۔
اسے اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ ہر ایک مسلمان مومن مرد و عورت جو مجھے اور میرے رسولوں کو مانتا ہو، نیک عمل کرتا ہو، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، میرے برابر کسی کو نہ سمجھتا ہو، وہ سب تجھ میں داخل ہوں گے۔ سن! جس کے دل میں میرا ڈر ہے، وہ ہر خوف سے محفوظ ہے۔ جو مجھ سے سوال کرتا ہے، وہ محروم نہیں رہتا۔ جو مجھے قرض دیتا ہے، میں اسے بدلہ دیتا ہوں۔ جو مجھ پر توکل کرتا ہے، میں اسے کفایت کرتا ہوں۔ میں سچا معبود ہوں، میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ میرے وعدے خلاف نہیں ہوتے، مومن نجات یافتہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ بابرکت ہے جو سب سے بہتر خالق ہے۔ یہ سن کر جنت نے کہا، بس میں خوش ہو گئی۔
پھر آپ ایک دوسری وادی میں پہنچے جہاں نہایت بری اور بھیانک مکروہ آوازیں آ رہی تھیں اور سخت بدبو تھی۔ آپ نے اس کی بابت بھی جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا، انہوں نے بتلایا کہ یہ جہنم کی آواز ہے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ اے اللہ مجھ سے اپنا وعدہ پورا کر۔ میرے طوق و زنجیر، میرے شعلے اور گرمائی، میرا تھور اور لہو پیپ، میرے عذاب اور سزا کے سامان بہت وافر ہو گئے ہیں، میرا گہراؤ بہت زیادہ ہے، میری آگ بہت تیز ہے۔ مجھے وہ دے جس کا وعدہ مجھ سے ہوا ہے۔ اسے اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ ہر مشرک و کافر، خبیث، منکر، بے ایمان مرد و عورت تیرے لیے ہے۔ یہ سن کر جہنم نے اپنی رضا مندی ظاہر کی۔
آپ پھر چلے۔ یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچے، اتر کر صخرہ میں اپنے گھوڑے کو باندھا، اندر جاکر فرشتوں کے ساتھ نماز ادا کی۔ فراغت کے بعد انہوں نے پوچھا کہ جبرائیل یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہوں نے کہا آپ کی طرف بھیجا گیا؟ فرمایا ہاں، سب نے مرحبا کہا کہ بہترین بھائی اور بہت ہی اچھے خلیفہ ہیں اور بہت اچھائی اور عزت سے آئے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات نبیوں کی روحوں سے ہوئی۔ سب نے اپنے پروردگار کی ثنا بیان کی۔
ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اپنا خلیل بنایا اور مجھے بہت بڑا ملک دیا اور میرے امت کو ایسی فرمانبردار بنایا کہ ان کی اقتداء کی جاتی ہے، اسی نے مجھے آگ سے بچالیا اور اسے میرے لیے ٹھنڈک اور سلامتی بنا دی۔
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، اللہ ہی کی مہربانی ہے کہ اس نے مجھ سے کلام کیا، میرے دشمنوں کو آل فرعون کو ہلاک کیا، بنی اسرائیل کو میرے ہاتھوں نجات دی، میری امت میں ایسی جماعت رکھی جو حق کی ہادی اور حق کے ساتھ عدل کرنے والی تھی۔
پھر داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کرنی شروع کی کہ الحمدللہ! اللہ نے مجھے عظیم الشان ملک دیا، مجھے زبور کا علم دیا، میرے لیے لوہا نرم کر دیا، پہاڑوں کو مسخر کر دیا اور پرندوں کو بھی جو میرے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتے تھے، مجھے حکمت اور پر زور کلام عطا فرمایا۔
پھر سلیمان علیہ السلام نے ثنا خوانی شروع کی کہ الحمدللہ! اللہ نے ہواؤں کو میرے تابع کر دیا اور شیاطین کو بھی کہ وہ میری فرمان کے ماتحت بڑے بڑے محلات اور نقشے اور برتن وغیرہ بناتے تھے۔ اس نے مجھے جانوروں کی گفتگو کے سمجھنے کا علم فرمایا۔ ہر چیز میں مجھے فضیلت دی، انسانوں کے، جنوں کے، پرندوں کے لشکر میرے ماتحت کر دئے اور اپنے بہت سے مومن بندوں پر مجھے فضیلت دی اور مجھے وہ سلطنت دی جو میرے بعد کسی کے لائق نہیں اور وہ بھی ایسی جس میں پاکیزگی ہی پاکیزگی تھی اور کوئی حساب نہ تھا۔
پھر عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنی شروع کی کہ اس نے مجھے اپنا کلمہ بنایا اور میری مثال آدم علیہ السلام کی سی کی۔ جسے مٹی سے پیداکر کے کہہ دیا تھا کہ ہوجا اور وہ ہو گئے تھے۔ اس نے مجھے کتاب و حکمت، تورات و انجیل سکھائی، میں مٹی کا پرند بناتا پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ بحکم الٰہی زندہ پرند بن کر اڑ جاتا۔ میں بچپن کے اندھوں کو اور جذامیوں کو بحکم الٰہی اچھا کر دیتا تھا، مردے اللہ کی اجازت سے زندہ ہو جاتے تھے۔ مجھے اس نے اٹھا لیا، مجھے پاک صاف کر دیا، مجھے اور میری والدہ کو شیطان سے بچا لیا، ہم پر شیطان کا کچھ دخل نہ تھا۔ }
{ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم سب نے تو اللہ کی تعریفیں بیان کرلیں، اب میں کرتا ہوں۔ اللہ ہی کے لیے حمد و ثنا ہے جس نے مجھے رحمت للعالمین بناکر اپنی تمام مخلوق کے لیے ڈرانے اور خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجا، مجھ پر قرآن کریم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان ہے۔ میری امت کو تمام اور امتوں سے افضل بنایا جو کہ اوروں کی بھلائی کے لیے بنائی گئی ہے۔ اسے بہترین امت بنایا، انہی کو اول کی اور آخر کی امت بنایا۔ میرا سینہ کھول دیا، میرے بوجھ دور کر دئے، میرا ذکر بلند کر دیا اور مجھے شروع کرنے والا اور ختم کرنے والا بنایا۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، انہی وجوہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) تم سب سے افضل ہیں۔ } امام ابو جعفر رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شروع کرنے والے آپ ہیں یعنی بروز قیامت شفاعت آپ ہی سے شروع ہو گی۔
{ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین ڈھکے ہوئے برتن پیش کئے گئے، پانی کے برتن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا پی کر واپس کر دیا۔ پھر دودھ کا برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ بھر کر دودھ پیا۔ پھر شراب کا برتن لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پینے سے انکار کر دیا کہ میں شکم سیر ہو چکا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر حرام کر دی جانے والی ہے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پی لیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعدار بہت ہی کم ہوتے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان کی طرف چڑھایا گیا، دروازہ کھلوانا چاہا تو پوچھا گیا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔ پوچھا گیا کیا آپ کی طرف بھیج دیا گیا؟ فرمایا ہاں، انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اس بھائی اور خلیفہ کو خوش رکھے یہ بڑے اچھے بھائی اور نہایت عمدہ خلیفہ ہیں۔ اسی وقت دروازہ کھول دیا گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص ہیں پوری پیدائش کے، عام لوگوں کی طرح ان کی پیدائش میں کوئی نقصان نہیں، ان کے دائیں ایک دروازہ ہے جہاں سے خوشبو کی لپٹیں آرہی ہیں اور بائیں جانب ایک دروازہ ہے جہاں سے خبیث ہوا آ رہی ہے۔ داہنی طرف کے دروازے کو دیکھ کر ہنس دیتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور بائیں طرف کے دروازے کو دیکھ کر رو دیتے ہیں اور غمگین ہو جاتے ہیں۔
میں نے کہا جبرائیل علیہ السلام یہ شیخ پوری پیدائش والے کون ہیں؟ جن کی خلقت میں کچھ بھی نہیں گھٹا۔ اور یہ دونوں دروازے کیسے ہیں؟ جواب ملا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد آدم علیہ السلام ہیں۔ دائیں جانب جنت کا دروازہ ہے۔ اپنی جنتی اولاد کو دیکھ کر خوش ہو کر ہنس دیتے ہیں اور بائیں جانب جہنم کا دروازہ ہے۔ آپ اپنی دوزخی اولاد کو دیکھ کر رو دیتے ہیں اور غمگین ہو جاتے ہیں۔
پھر دوسرے آسمان کی طرف چڑھے۔ اسی طرح کے سوال جواب کے بعد دروازہ کھلا۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جوانوں کو دیکھا۔ دریافت پر معلوم ہوا کہ یہ عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام ہیں۔ یہ دونوں آپس میں خالہ زاد بھائی ہوتے ہیں۔
پھر اسی طرح تیسرے آسمان پر پہنچے۔ وہاں یوسف علیہ السلام کو پایا جنہیں حسن میں اور لوگوں پر وہی فضیلت تھی جو چاند کو باقی ستاروں پر۔
پھر چوتھے آسمان پر اسی طرح پہنچے۔ وہاں ادریس علیہ السلام کو پایا جنہیں اللہ تعالیٰ نے بلند مکان پر چڑھا لیا ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچویں آسمان پر بھی انہی سوالات و جوابات کے بعد پہنچے۔ دیکھا کہ ایک صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، ان کے آس پاس کچھ لوگ ہیں جو ان سے باتیں کر رہے ہیں۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ جواب ملا کہ ہارون علیہ السلام ہیں جو اپنی قوم میں ہر دلعزیز تھے اور یہ لوگ بنی اسرائیل ہیں۔
پھر اسی طرح چھٹے آسمان پر پہنچے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سے بھی آگے نکل جانے پر وہ رو دئیے۔ دریافت کرنے پر سبب یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل میری نسبت یہ سمجھتے تھے کہ تمام اولاد آدم میں اللہ کے پاس سب سے زیادہ بزرگ میں ہوں لیکن یہ ہیں میرے خلیفہ جو دنیا میں ہیں اور میں آخرت میں ہوں۔ خیر صرف یہی ہوتے تو بھی چنداں مضائقہ نہ تھا لیکن ہر نبی کے ساتھ اس کی امت ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ساتویں آسمان پر پہنچے۔ وہاں ایک صاحب کو دیکھا جن کی داڑھی میں کچھ سفید بال تھے۔ وہ جنت کے دروازے پر ایک کرسی لگائے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس کچھ اور لوگ بھی ہیں۔ بعض کے چہرے تو روشن ہیں اور بعض کے چہروں پر کچھ کم چمک ہے بلکہ رنگ میں کچھ اور بھی ہے۔ یہ لوگ اٹھے اور نہر میں ایک غوطہٰ لگایا جس سے رنگ قدرے نکھر گیا، پھر دوسری نہر میں نہائے کچھ اور نکھر گئے، پھر تیسری میں غسل کیا بالکل روشن سفید چہرے ہو گئے۔ آکر دوسروں کے ساتھ ملکر بیٹھ گئے اور انہی جیسے ہو گئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر جبرائیل علیہ السلام نے بتلایا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ روئے زمین پر سفید بال سب سے پہلے ان ہی کے نکلے۔ یہ سفید منہ والے وہ ایماندار لوگ ہیں جو برائیوں سے بالکل بچے رہے اور جن کے چہروں کے رنگ میں کچھ کدورت تھی، یہ وہ لوگ ہیں جن سے نیکیوں کے ساتھ کچھ بدیاں بھی سرزد ہو گئی تھیں۔ ان کی توبہ پر اللہ تعالیٰ مہربان ہو گیا۔ اول نہر اللہ کی رحمت ہے، دوسری نعمت ہے، تیسری شراب طہور کی نہر ہے جو جنتیوں کی خاص شراب ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سنتوں پر جو پابندی کرے وہ یہاں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کی جڑ سے پاکیزہ پانی کی، صاف ستھرے دودھ کی، لذیذ بے نشہ شراب کی اور صاف شہد کی نہریں جاری تھیں۔
اس درخت کے سائے میں کوئی سوار اگر ستر سال بھی چلا جائے تاہم اس کا سایہ ختم نہیں ہوتا۔ اس کا ایک ایک پتہ اتنا بڑا ہے کہ ایک ایک امت کو ڈھانپ لے۔ اللہ تعالیٰ عز و جل کے نور نے اسے چاروں طرف سے ڈھک رکھا تھا اور پرند کی شکل کے فرشتوں نے اسے چھپا لیا تھا جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی محبت میں وہاں تھے۔
اس وقت اللہ تعالیٰ جل شانہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں، فرمایا کہ مانگو کیا مانگتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گزارش کی کہ اے اللہ تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور انہیں بڑا ملک دیا، موسیٰ علیہ السلام سے تو نے باتیں کیں، داؤد علیہ السلام کو تو نےعظیم الشان سلطنت دی اور ان کے لیے لوہا نرم کر دیا۔
سلیمان علیہ السلام کو تو نے بادشاہت دی، جنات، انسان، شیاطین، ہوائیں ان کے تابع فرمان کیں اور وہ بادشاہت دی جو کسی کے لائق ان کے سوا نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کو تو نے تورات و انجیل سکھائی، اپنے حکم سے اندھوں اور کوڑھیوں کو اچھا کرنے والا اور مردوں کو جلانے والا بنایا، انہیں اور ان کی والدہ کو شیطان رجیم سے بچایا کہ اسے ان پر کوئی دخل نہ تھا، میری نسبت فرمان ہو۔
رب العالمین عز و جل نے فرمایا، تو میرا خلیل ہے، توراۃ میں میں نے تجھے خلیل الرحمن کا لقب دیا ہے۔ تجھے تمام لوگوں کی طرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، تیرا سینہ کھول دیا ہے، تیرا بوجھ اتار دیا ہے۔ تیرا ذکر بلند کر دیا ہے، جہاں میرا ذکر آئے وہاں تیرا ذکر بھی ہوتا ہے اور تیری امت کو میں نے سب امتوں سے بہتر بنایا ہے جو لوگوں کے لیے ظہور میں لائی گئی ہے۔ تیری امت کو بہترین امت بنایا ہے، تیری ہی امت کو اولین اور آخرین بنایا ہے۔ ان کا خطبہ جائز نہیں جب تک وہ تیرے بندے اور رسول ہونے کی شہادت نہ دے لیں۔
میں نے تیری امت میں ایسے لوگ بنائے ہیں جن کے دل میں الکتاب ہے۔ تجھے از روئے پیدائش سب سے اول کیا اور از روئے بعثت کے سب سے آخر کیا اور از روئے فیصلہ کے بھی سب سے اول کیا۔ تجھے میں نے سات ایسی آیتیں دیں جو باربار دہرائی جاتی ہیں جو تجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملیں، تجھے میں نے اپنے عرش تلے سے سورۃ البقرہ کے خاتمے کی آیتیں دیں جو تجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ میں نے تجھے کوثر عطا فرمائی اور میں نے تجھے اسلام کے آٹھ حصے دئے۔ اسلام، ہجرت، جہاد، نماز، صدقہ، رمضان کے روزے، نیکی کا حکم، برائی سے روک اور میں نے تجھے شروع کرنے والا اور ختم کرنے والا بنایا۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے مجھے میرے رب نے چھ باتوں کی فضیلت مرحمت فرمائی۔ کلام کی ابتداء اور اس کی انتہا دی۔ جامع باتیں دیں۔ تمام لوگوں کی طرف خوشخبری دینے والا اور آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا۔ میرے دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہوں، وہیں سے اس کے دل میں میرا رعب ڈال دیا گیا۔ میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوئیں۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو بنائی گئی۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا اور بہ مشورہ موسیٰ علیہ السلام تخفیف طلب کرنے کا اور آخر میں پانچ رہ جانے کا ذکر ہے۔ جیسے کہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔ پس پانچ رہیں اور ثواب پچاس کا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی خوش ہوئے۔ جاتے وقت موسیٰ علیہ السلام سخت تھے اور آتے وقت نہایت نرم اور سب سے بہتر۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22021:ضعیف]
اور کتاب کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ اسی آیت «سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى» الخ ۱؎ [17-الإسراء:1] کی تفسیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ بیان فرمایا۔
یہ بھی واضح رہے کہ اس لمبی حدیث کا ایک راوی ابو جعفر رازی بظاہر حافظہ کے کچھ ایسے اچھے نہیں معلوم ہوتے۔ اس کے بعض الفاظ میں سخت غرابت اور بہت زیادہ نکارت ہے۔ انہیں ضعیف بھی کہا گیا ہے اور صرف انہی کی روایت والی حدیث قابل توجہ ہے۔ ایک اور بات یہ ہے کہ خواب والی حدیث کا کچھ حصہ بھی اس میں آ گیا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ بہت سی اجادیث کا مجموعہ ہو یا خواب یا معراج کے سوا کے واقعہ کی اس میں روایت ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بخاری و مسلم کی ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ بیان کرنا وغیرہ بھی مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3437]
صحیح مسلم کی حدیث میں { حطیم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المقدس کے سوالات کئے جانے اور پھر اس کے ظاہر ہو جانے کا واقعہ بھی ہے۔ اس میں بھی ان تینوں نبیوں سے ملاقات کرنے کا اور ان کے حلیہ کا بیان ہے اور یہ بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز میں کھڑا پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک خازن جہنم کو بھی دیکھا اور انہوں نے ہی ابتداءاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کیا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:172]
بیہقی وغیرہ میں کئی ایک صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام ہانی کے مکان پر سوئے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فارغ ہو گئے تھے۔ وہیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی۔ } ۱؎ [بیہقی:404/2:ضعیف]
پھر امام حاکم نے بہت لمبی حدیث بیان فرمائی ہے جس میں درجوں کا اور فرشتوں وغیرہ کا ذکر ہے۔ اللہ کی قدرت سے تو کوئی چیز بعید نہیں بشرطیکہ وہ روایت صحیح ثابت ہو جائے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ اس روایت کو بیان کر کے فرماتے ہیں کہ مکہ شریف سے بیت المقدس تک جانے اور معراج کے بارے میں اس حدیث میں پوری کفایت ہے لیکن اس راویت کو بہت ائمہ حدیث نے مرسل بیان کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سنئے۔ بیہقی میں ہے کہ { جب صبح کے وقت لوگوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا ذکر کیا تو بہت سے لوگ مرتد ہو گئے جو اس سے پہلے با ایمان اور تصدیق کرنے والے تھے۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ان کا جانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا ماننا اور صدیق لقب پانا مروی ہے۔ } ۱؎ [مستدرک حاکم:62/3:ضعیف]
خود ام ہانی سے روایت ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میرے ہی مکان سے کرائی گئ ہے۔ اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد میرے مکان پر ہی آرام فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سو گئے اور ہم سب بھی۔ صبح سے کچھ ہی پہلے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جگایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی ہم نے صبح کی نماز ادا کی تو آپ نے فرمایا، اے ام ہانی میں نے تمہارے ساتھ ہی عشاء کی نماز ادا کی اور اب صبح کی نماز میں بھی تمہارے ساتھ ہی ہوں۔ اس درمیان میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بیت المقدس پہنچایا اور میں نے وہاں نماز بھی پڑھی۔ } ۱؎ [المطالب العالیہ:4287:ضعیف]
ایک راوی کلبی متروک ہے اور بالکل ساقط ہے لیکن اسے ابویعلیٰ میں اور سند سے خوب تفصیل سے روایت کیا ہے۔ طبرانی میں ام ہانی رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میرے ہاں سوئے ہوئے تھے۔ میں نے رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چند تلاش کی لیکن نہ پایا، ڈر تھا کہ کہیں قریشیوں نے کوئی دھوکا نہ کیا ہو۔
لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ تھام کر مجھے لے چلے۔ دروازے پر ایک جانور تھا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے اونچا تھا، مجھے اس پر سوار کیا۔ پھر مجھے بیت المقدس پہنچایا۔
ابراہیم علیہ السلام کو دکھایا، وہ اخلاق میں اور صورت شکل میں بالکل میرے مشابہ تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دکھایا، لانبے قد کے سیدھے بالوں کے ایسے تھے جیسے ازدشنوہ کے قبیلے کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح مجھے عیسٰی علیہ السلام کو بھی دکھایا، درمیانہ قد سفید سرخی مائل رنگ بالکل ایسے جیسے عروہ بن مسعود ثقفی ہیں۔ دجال کو دکھایا، ایک آنکھ اس کی بالکل مٹی ہوئی تھی، ایسا تھا جیسے قطن بن عبد العزی۔
یہ فرما کرفرمایا، اچھا اب میں جاتا ہوں، جو کچھ دیکھا ہے وہ قریش سے بیان کرتا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھام لیا اور عرض کیا، للہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم میں اس خواب کو بیان نہ کریں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہرگز نہ مانیں گے اور اگر بس چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بےادبی کریں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھٹکا مار کر اپنا دامن میرے ہاتھ سے چھڑا لیا اور سیدھے قریش کے مجمع میں پہنچ کر ساری باتیں بیان فرما دیں۔
جبیر من مطعم کہنے لگا، بس آج ہمیں معلوم ہو گیا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہوتے تو ایسی بات ہم میں بیٹھ کر نہ کہتے۔ ایک شخص نے کہا کیوں؟ راستے میں ہمارا فلاں قافلہ بھی ملا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور ان کا ایک اونٹ کھو گیا تھا جس کی تلاش کر رہے تھے۔ کسی نے کہا اور فلاں قبیلے والوں کے اونٹ بھی راستے میں ملے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ بھی ملے تھے، فلاں جگہ تھے۔ ان میں ایک سرخ رنگ اونٹنی تھی جس کا پاؤں ٹوٹ گیا تھا۔ ان کے پاس ایک بڑے پیالے میں پانی تھا۔ جسے میں نے بھی پیا۔ انہوں نے کہا، اچھا ان کے اونٹوں کی گنتی بتاؤ۔ ان میں چرواہے کون کون تھے یہ بھی بتاؤ؟ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے قافلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری گنتی بھی بتادی اور چرواہوں کے نام بھی بتا دئے۔ ایک چرواہا ان میں ابن ابی قحافہ تھا اور یہ بھی فرما دیا کہ کل صبح کو وہ ثنیہ پہنچ جائیں گے۔
چنانچہ اس وقت اکثر لوگ بطور آزمائش ثنیہ جا پہنچے۔ دیکھا کہ واقعی قافلہ آ گیا۔ ان سے پوچھا کہ تمہارا اونٹ گم ہو گیا تھا؟ انہوں نے کہا درست ہے گم ہو گیا تھا۔ دوسرے قافلے والوں سے پوچھا، تمہاری کسی سرخ رنگ اونٹنی کا پاؤں ٹوٹ گیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں یہ بھی صحیح ہے۔ پوچھا، کیا تمہارے پاس بڑا پیالہ پانی کا بھی تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما نے کہا، ہاں اللہ کی قسم اسے تو میں نے خود رکھا تھا اور ان میں سے نہ کسی نے اسے پیا، نہ وہ پانی گرایا گیا۔ بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور اس دن سے ان کا نام صدیق رکھا گیا۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:432/24:ضعیف]
’ فصل ‘ ان تمام احادیث کی واقفیت کے بعد جن میں صحیح بھی ہیں، حسن بھی ہیں، ضعیف بھی ہیں، کم از کم اتنا تو ضرور معلوم ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ شریف سے بیت المقدس تک لے جانا ہوا۔ اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ صرف ایک ہی مرتبہ ہوا ہے۔ گو راویوں کی عبارتیں اس باب میں مختلف الفاظ سے ہیں۔ گو ان میں کمی بیشی بھی ہے، یہ کوئی بات نہیں اور سوائے انبیاء علیہم السلام کے خطا سے پاک ہے کون؟ بعض لوگوں نے ہر ایسی روایت کو ایک الگ واقعہ کہا جاتا ہے اور اس کے قائل ہوئے ہیں کہ یہ واقعہ کئی بار ہوا لیکن یہ لوگ بہت دور نکل گئے اور بالکل انوکھی بات کہی اور نہ جانے کی جگہ چلے گئے اور پھر بھی مطلب حاصل نہ ہوا۔
متاخرین میں سے بعض نے ایک اور ہی توجیہہ پیش کی ہے اور اس پر انہیں بڑا ناز ہے۔ وہ یہ کہ ایک مرتبہ تو آپ کو مکہ سے صرف بیت المقدس تک کی سیر ہوئی۔ ایک مرتبہ مکہ سے آسمانوں پر چڑھائے گئے اور ایک مرتبہ مکہ سے بیت المقدس اور بیت المقدس سے آسمانوں تک۔ لیکن یہ قول بھی بعید از قیاس اور بالکل غریب ہے۔ سلف میں سے تو اس کا کوئی قائل نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی اسے کھول کر بیان فرما دیتے اور راوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے باربار ہونے کی روایت بیان کرتے۔
بقول زہری رحمہ اللہ معراج کا یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے کا ہے۔ عروہ رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں چھ ماہ پہلے کا ہے۔ لہٰذا حق بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جاگتے میں نہ کہ خواب میں مکہ شریف سے بیت المقدس تک کی اسرا کرائی گئی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم براق پر سوار تھے۔ مسجد قدس کے دروازے پر آپ نے براق کو باندھا، وہاں جاکر اس کے قبلہ رخ تحیۃ المسجد کے طور پر دو رکعت نماز ادا کی۔
پھر معراج لائے گئے جو درجوں والی ہے اور بطور سیڑھی کے ہے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسمان دنیا پر چڑھائے گئے۔ پھر ساتوں آسمانوں پر پہنچائے گئے۔ ہر آسمان کے مقربین الٰہی سے ملاقاتیں ہوئیں، انبیاء علیہم السلام سے ان کے منازل و درجات کے مطابق سلام علیک ہوئی۔ چھٹے آسمان میں کلیم اللہ علیہ السلام سے اور ساتویں میں خلیل اللہ علیہ السلام سے ملے۔ پھر ان سے بھی آگے بڑھ گئے۔ (صلی اللہ علیہ وسلم و علی سائر الانبیاء علیہم الصلوۃ و السلام)۔
یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مستوی میں پہنچے جہاں قضاء و قدر کی قلموں کی آوازیں آپ نے سنیں۔ سدرۃ المنتہیٰ کو دیکھا جس پر عظمت ربی چھا رہی تھی۔ سونے کی ٹڈیاں اور طرح طرح کے رنگ وہاں پر نظر آ رہے تھے۔ فرشتے چاروں طرف سے اسے گھیرے ہوئے تھے۔ وہیں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا جن کے چھ سو پر تھے۔ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رف رف سبز رنگ کا دیکھا۔ جس نے آسمان کے کناروں کو ڈھک رکھا تھا۔
بیت المعمور کی زیارت کی جو خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کے زمینی کعبے کے ٹھیک اوپر آسمانوں پر ہے، یہی آسمانی کعبہ ہے۔ خلیل اللہ علیہ السلام اس سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت ربانی کے لیے جاتے ہیں مگر جو آج گئے، پھر ان کی باری قیامت تک نہیں آتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت دوزخ دیکھی۔ یہیں اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم نے پچاس نمازیں فرض کرکے پھر تخفیف کر دی اور پانچ رکھیں جو خاص اس کی رحمت تھی۔ اس سے نماز کی بزرگی اور فضیلت بھی صاف طور پر ظاہر ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس بیت المقدس کی طرف اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تمام انبیاء علیہم السلام بھی اترے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو نماز پڑھائی جب کہ نماز کا وقت ہو گیا۔ ممکن ہے وہ اس دن کی صبح کی نماز ہو۔ ہاں بعض حضرات کا قول ہے کہ امامت انبیاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں میں کی۔ لیکن صحیح روایات سے بظاہر یہ واقعہ بیت المقدس کا معلوم ہوتا ہے۔
گو بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز پڑھائی لیکن ظاہر یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی میں امامت کرائی۔ اس کی ایک دلیل تو یہ ہے کہ جب آسمانوں پر انبیاء علیہم السلام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کی بابت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھتے ہیں کہ یہ کون ہیں؟ اگر بیت المقدس میں ہی ان کی امامت آپ نے کرائی ہوئی ہوتی تو اب چنداں اس سوال کی ضرورت نہیں رہتی۔ دوسرے یہ کہ سب سے پہلے اور سب سے بڑی غرض تو بلندی پر جناب باری تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونا تھا تو بظاہر یہی بات سب پر مقدم تھی۔
جب یہ ہو چکا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر اس رات میں جو فریضہ نماز مقرر ہونا تھا، وہ بھی ہو چکا، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بھائیوں کے ساتھ جمع ہونے کا موقعہ ملا اور ان سب کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت ظاہر کرنے کے لیے جبرائیل علیہ السلام کے اشارے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام بن کر انہیں نماز پڑھائی۔ پھر بیت المقدس سے بذریعہ براق آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس رات کو اندھیرے اور صبح کے کچھ ہی اجالے کے وقت مکہ شریف پہنچ گئے۔ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم» ۔
اب یہ جو مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دودھ اور شہد یا دودھ اور شراب یا دودھ اور پانی پیش کیا گیا یا چاروں ہی چیزیں، اس کی بابت روایتوں میں یہ بھی ہے کہ یہ واقعہ بیت المقدس کا ہے اور یہ بھی کہ یہ واقعہ آسمانوں کا ہو، لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں ہی جگہ یہ چیز آپ کے سامنے پیش ہوئی ہو اس لیے کہ جیسے کسی آنے والے کے سامنے بطور مہمانی کے کچھ چیز رکھی جاتی ہے، اسی طرح یہ تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس کی بڑی دلیل ایک تو یہ ہے کہ اس واقعہ کے بیان فرمانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکیزگی بیان فرمائی ہے۔ اس اسلوب بیان کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے بعد کی بات کوئی بڑی اہم ہے۔ اگر یہ واقعہ خواب کا مانا جائے تو خواب میں ایسی باتیں دیکھ لینا اتنا اہم نہیں کہ اس کو بیان فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ پہلے سے بطور احسان اور بطور اظہار قدرت اپنی تسبیح بیان کرے۔
پھر اگر یہ واقعہ خواب کا ہی تھا تو کفار اس طرح جلدی سے آپ کی تکذیب نہ کرتے، ایک شخص اپنا خواب اور خواب میں دیکھی ہوئی عجیب چیزیں بیان کر رہا ہے یا کرے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بھڑ بھڑا کر آ جائیں اور سنتے ہی سختی سے انکار کرنے لگیں۔ پھر جو لوگ کہ اس سے پہلے آپ پر ایمان لا چکے تھے اور آپ کی رسالت کو قبول کر چکے تھے، کیا وجہ ہے کہ وہ واقعہ معراج کو سن کر اسلام سے پھر جاتے ہیں؟
اس سے بھی ظاہر ہے کہ آپ نے خواب کا قصہ بیان نہیں فرمایا تھا۔ پھر قرآن کے لفظ «بِعَبْدِهِ» پر غور کیجئے۔ عبد کا اطلاق روح اور جسم دونوں کے مجموعے پر آتا ہے۔ پھر «أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا» کا فرمانا اس چیز کو اور صاف کر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندے کو رات کے تھوڑے سے حصے میں لے گیا۔ اس دیکھنے کو لوگوں کی آزمائش کا سبب آیت «وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ» ۱؎ [17-الإسراء:60] میں فرمایا گیا ہے۔ ’ اگر یہ خواب ہی تھا تو اس میں لوگوں کی ایسی بڑی کون سی آزمائش تھی جسے مستقل طور پر بیان فرمایا جاتا؟ ‘
پھر براق کی سواری کا لایا جانا اور اس سفید چمکیلے جانور پر سوار کراکر آپ کو لے جانا بھی اسی کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ جاگنے کا اور جسمانی ہے ورنہ صرف روح کے لیے سواری کی ضرورت نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ معراج صرف روحانی تھی نہ کہ جسمانی۔
چنانچہ محمد بن اسحاق لکھتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا یہ قول مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22032:ضعیف و منقطع]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جسم غائب نہیں ہوا تھا بلکہ روحانی معراج تھی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22033:ضعیف و باطل]
اس قول کا انکار نہیں کیا گیا کیونکہ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ» [17-الإسراء:60] الخ، آیت اتری ہے۔
اور ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی نسبت خبر دی ہے کہ انہوں نے فرمایا، میں نے خواب میں تیرا ذبح کرنا دیکھا ہے۔ اب تو سوچ لے کیا دیکھتا ہے؟ پھر یہی حال رہا۔ پس ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر وحی جاگتے میں بھی آتی ہے اور خواب میں بھی۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ میری آنکھیں سو جاتی ہیں اور دل جاگتا رہتا ہے۔ } «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس میں سے کون سی سچی بات تھی؟ آپ گئے اور آپ نے بہت سی باتیں دیکھیں۔ جس حال میں بھی آپ تھے سوتے یا جاگتے سب حق اور سچ ہے۔ یہ تو تھا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کا قول۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی بہت کچھ تردید کی ہے اور ہر طرح اسے رد کیا ہے اور اسے خلاف ظاہر قرار دیا ہے کہ الفاظ قرآنی کے سراسر خلاف یہ قول ہے۔ پھر اس کے خلاف بہت سی دلیلیں پیش کی ہیں جن میں سے چند ہم نے بھی اوپر بیان کر دی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابوسفیان کی اول سے آخر تک یہی کوشش رہی کہ کسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی اور حقارت اس کے سامنے کرے تاکہ بادشاہ کے دل کا میلان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ ہو۔ وہ خود کہتا ہے کہ میں صرف اس خوف سے غلط باتیں کرنے اور تہمتیں دھرنے سے باز رہا کہ کہیں میرا کوئی جھوٹ اس پر کھل نہ جائے۔ پھر تو یہ میری بات کو جھٹلا دے گا اور بڑی ندامت ہو گی۔
اسی وقت دل میں خیال آ گیا اور میں نے کہا، بادشاہ سلامت سنئے، میں ایک واقعہ بیان کروں جس سے آپ پر یہ بات کھل جائے گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بڑے جھوٹے آدمی ہیں۔ سنئے ایک دن وہ کہنے لگا کہ اس رات وہ مکہ سے چلا اور آپ کی اس مسجد میں یعنی بیت المقدس کی مسجد قدس میں آیا اور پھر واپس صبح سے پہلے مکہ پہنچ گیا۔
اس رات میں دروازے بند کرنے کو کھڑا ہوا۔ سب دروازے اچھی طرح بند کر دئے لیکن ایک دروازہ مجھ سے بند نہ ہو سکا۔ میں نے ہر چند زور لگایا لیکن کواڑ اپنی جگہ سے سرکا بھی نہیں، میں نے اسی وقت اپنے آدمیوں کو آواز دی۔ وہ آئے ہم سب نے مل کر طاقت لگائی لیکن سب کے سب ناکام رہے۔
بس یہ معلوم ہو رہا تھا کہ گویا ہم کسی پہاڑ کو اس کی جگہ سے سرکانا چاہتے ہیں لیکن اس کا پہیہ تک بھی تو نہیں ہلا۔ میں نے بڑھئی بلوائے۔ انہوں نے بہت ترکیبیں کیں، کوششیں کیں لیکن وہ بھی ہار گئے اور کہنے لگے، صبح پر رکھئے۔ چنانچہ وہ دروازہ اس شب یونہی رہا، دونوں کواڑ بالکل کھلے رہے۔
صبح ہی جب میں اسی دروازے کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس کے پاس کونے میں جو چٹان پتھر کی تھی اس میں ایک سوراخ ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں رات کو کسی نے کوئی جانور باندھا ہے۔ اس کے اثر اور نشان موجود تھے۔ میں سمجھ گیا اور میں نے اسی وقت اپنی جماعت سے کہا کہ آج کی رات ہماری یہ مسجد کسی نبی کے لیے کھلی رکھی گئی اور اس نے یہاں ضرور نماز ادا کی ہے۔ ۱؎ [ضعیف] یہ حدیث بہت لمبی ہے۔
سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابوذر، سیدنا مالک بن صعصعہ، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوسعید، سیدنا ابن عباس، سیدنا شداد بن اوس، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا عبدالرحمٰن بن قرظ، سیدنا ابو حبہ، سیدنا ابو لیل، سیدنا عبداللہ بن عمرو، سیدنا جابر، سیدنا حذیفہ، سیدنا بریدہ، سیدنا ابو ایوب، سیدنا ابو امامہ، سیدنا سمرہ بن جندب، سیدنا ابو الحمراء، سیدنا صہیب رومی، سیدہ ام ہانی، سیدہ عائشہ اور سیدہ اسماء وغیرہ سے مروی ہے رضی اللہ عنہم اجمعین۔
ان میں سے بعض نے تو اسے مطول بیان کیا ہے اور بعض نے مختصر۔ گو ان میں سے بعض روایتیں سنداً صحیح نہیں لیکن بالجملہ صحت کے ساتھ واقعہ معراج ثابت ہے اور مسلمان اجماعی طور پر اس کے قائل ہیں۔ ہاں بیشک زندیق اور ملحد لوگ اس کے منکر ہیں۔ «يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّـهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّـهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [61-الصف:8] ’ وہ اللہ تعالیٰ کے نورانی چراغ کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ پوری روشنی کے ساتھ چمکتا ہوا ہی رہے گا، گو کافروں کو برا لگے۔ ‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ينزِّه تعالى نفسه المقدَّسة ويعظِّمها لأنَّ له الأفعال العظيمة والمنن الجسيمة التي من جملتها أنه {أسرى بعبدِهِ}: ورسوله محمد - صلى الله عليه وسلم -، {من المسجد الحرام}: الذي هو أجلُّ المساجد على الإطلاق، {إلى المسجد الأقصى}: الذي هو من المساجد الفاضلة، وهو محلُّ الأنبياء، فأسرى به في ليلة واحدةٍ إلى مسافة بعيدةٍ جدًّا، ورجع في ليلته، وأراه الله من آياته ما ازداد به هدىً وبصيرةً وثباتاً وفرقاناً، وهذا من اعتنائه تعالى به ولطفه؛ حيث يسَّره لليسرى في جميع أموره، وخوَّله نعماً فاق بها الأوَّلين والآخرين. وظاهر الآية أنَّ الإسراء كان في أول الليل، وأنَّه من نفس المسجد الحرام، لكن ثبت في الصحيح أنه أُسْرِيَ به من بيت أم هانئ ؛ فعلى هذا تكون الفضيلة في المسجد الحرام لسائر الحرم؛ فكلُّه تضاعف فيه العبادة كتضاعفها في نفس المسجد، وأنَّ الإسراء بروحه وجسده معاً، وإلاَّ لم يكن في ذلك آيةٌ كبرى ومنقبةٌ عظيمة.
وقد تكاثرت الأحاديث الثابتة عن النبي - صلى الله عليه وسلم - في الإسراء وذكر تفاصيل ما رأى، وأنه أُسْرِيَ به إلى بيت المقدس، ثم عُرِج به من هناك إلى السماوات حتى وصل إلى ما فوق السماوات العُلى، ورأى الجنة والنار، والأنبياء على مراتبهم، وفُرِضَ عليه الصلواتُ خمسين، ثم ما زال يراجِعُ ربَّه بإشارة موسى الكليم حتى صارت خمساً في الفعل وخمسين في الأجر والثواب، وحاز من المفاخر تلك الليلة هو وأمتُه ما لا يعلم مقدارَه إلاَّ الله عز وجل. وذَكَرَهُ هنا وفي مقام الإنزال للقرآن ومقام التحدِّي بصفة العبوديَّة؛ لأنَّه نال هذه المقامات الكبار بتكميله لعبوديَّة ربه.
وقوله: {الذي بارَكْنا حوله}؛ أي: بكثرة الأشجار والأنهار والخصب الدائم، ومن بركته تفضيله على غيره من المساجد سوى المسجد الحرام ومسجد المدينة، وأنه يُطْلَبُ شدُّ الرحل إليه للعبادة والصلاة فيه، وأنَّ الله اختصَّه محلاًّ لكثيرٍ من أنبيائه وأصفيائه.