اور اپنی قسموں کو اپنے درمیان فریب کا ذریعہ نہ بناؤ، (ایسا نہ ہو) کہ کوئی قدم اپنے جمنے کے بعد پھسل جائے اور تم برائی کا مزہ چکھو، اس کے بدلے جو تم نے اللہ کی راہ سے روکا اور تمھارے لیے بہت بڑا عذاب ہو۔
En
اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑ کھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے رستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزہ چکھنا پڑے۔ اور بڑا سخت عذاب ملے
اور تم اپنی قسموں کو آپس کی دغابازی کا بہانہ نہ بناؤ۔ پھر تو تمہارے قدم اپنی مضبوطی کے بعد ڈگمگا جائیں گے اور تمہیں سخت سزا برداشت کرنا پڑے گی کیونکہ تم نے اللہ کی راه سے روک دیا اور تمہیں بڑا سخت عذاب ہوگا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَاتَتَّؔخِذُوْۤااَیْمَانَكُمْ﴾”اور نہ ٹھہراؤ تم اپنی قسموں کو“ یعنی اپنے عہد اور میثاق کو ﴿ دَخَلًۢابَیْنَكُمْ﴾”آپس میں دھوکے کا ذریعہ“ یعنی اپنی خواہشات نفس کا تابع نہ بناؤ کہ جب چاہو پورا کر دو اور جب چاہو توڑ دو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو صراط مستقیم پر سے تمھارے قدم پھسل جائیں گے۔ ﴿ وَتَذُوْقُواالسُّوْٓءَ ﴾”اور چکھو گے تم سزا“ یعنی تم ایسے عذاب کا مزا چکھو گے جو بہت برا اور غمزدہ کر دینے والا عذاب ہو گا ﴿ بِمَاصَدَدْتُّمْعَنْسَبِیْلِاللّٰهِ﴾”اس بات پر کہ تم نے اللہ کے راستے سے روکا“ کیونکہ تم خود بھی راہ راست سے بھٹکے اور دوسروں کو بھی بھٹکا دیا۔ ﴿ وَلَكُمْعَذَابٌعَظِیْمٌ﴾”اور تمھارے لیے عذاب ہے بڑا“ یعنی کئی گنا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {ولا تتَّخذوا أيمانكم}: وعهودكم ومواثيقكم تَبَعاً لأهوائِكم، متى شئتُم وفَّيْتُم بها، ومتى شئتُم نَقَضْتُموها؛ فإنَّكم إذا فعلتُم ذلك؛ تَزِلُّ أقدامُكم بعد ثبوتها على الصِّراط المستقيم. {وتذوقوا السُّوء}؛ أي: العذاب الذي يسوؤكم ويَحْزُنكم. {بما صدَدتُم عن سبيل الله}: حيث ضللتُم وأضللتُم غيركم. {ولكم عذابٌ عظيمٌ}: مضاعف.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔