تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 95

وَ لَا تَشۡتَرُوۡا بِعَہۡدِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ اِنَّمَا عِنۡدَ اللّٰہِ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۵﴾
اور اللہ کے عہد کے بدلے کم قیمت نہ لو، بے شک وہ چیز جو اللہ کے پاس ہے وہی تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔ En
اور خدا سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو۔ (کیونکہ ایفائے عہد کا) جو صلہ خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لیے بہتر ہے
En
تم اللہ کے عہد کو تھوڑے مول کے بدلے نہ بیچ دیا کرو۔ یاد رکھو اللہ کے پاس کی چیز ہی تمہارے لیے بہتر ہے بشرطیکہ تم میں علم ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو متاع دنیا اور اس کے چند ٹکڑوں کی خاطر عہد اور قسم کو توڑتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَلَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اور نہ لو تم اللہ کے عہد پر تھوڑا سا مول یعنی وہ متاع دنیا جو تم بدعہدی کے ذریعے سے حاصل کرتے ہو۔ ﴿ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ بے شک جو اللہ کے ہاں ہے دنیوی اور اخروی ثواب، اس شخص کے لیے جو اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا اور اس عہد کو پورا کرتا ہے جو اللہ نے اس سے لیا۔ ﴿ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ وہ تمھارے لیے بہتر ہے اور وہ زائل ہو جانے والی دنیا کی متاع سے کہیں بہتر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يحذِّر تعالى عباده من نقض العهود والأيمان لأجل مَتاع الدُّنيا وحطامها، فقال: {ولا تشتروا بعهِد الله ثَمَناً قليلاً}: تنالونه بالنَّقْض وعدم الوفاء. {إنَّما عند الله}: من الثواب العاجل والآجل لمن آثر رضاه وأوفى بما عاهد عليه الله، {هو خيرٌ لكم}: من حطام الدُّنيا الزائلة {إن كنتم تعلمونَ}.