اور اگر اللہ چاہتا تو یقینا تمھیں ایک ہی امت بنا دیتا اور لیکن وہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور یقینا تم اس کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے جو تم کیا کرتے تھے۔
En
اور اگر خدا چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی جماعت بنا دیتا۔ لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اُس دن) اُن کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا
اگر اللہ چاہتا تم سب کو ایک ہی گروه بنا دیتا لیکن وه جسے چاہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، یقیناً تم جو کچھ کر رہے ہو اس کے بارے میں باز پرس کی جانے والی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَوْشَآءَاللّٰهُ﴾”اور اگر اللہ چاہے“ تو تمام لوگوں کو ہدایت پر جمع کر دے اور ﴿ لَجَعَلَكُمْاُمَّةًوَّاحِدَةً ﴾”تم کو ایک امت بنا دے۔“ مگر اللہ تعالیٰ ہدایت دینے اور گمراہ کرنے میں یکتا ہے اور اس کا ہدایت دینا اور گمراہ کرنا اس کے ایسے افعال ہیں جو اس کے علم و حکمت کے تابع ہیں، وہ اپنے فضل و کرم سے ایسے شخص کو ہدایت سے نوازتا ہے جو اس کا مستحق ہے اور اپنے عدل کی بنا پر ایسے شخص کو ہدایت سے محروم کر دیتا ہے جو اس کا مستحق نہیں۔ ﴿ وَلَ٘تُ٘سْئَلُنَّعَمَّاكُنْتُمْتَعْمَلُوْنَ ﴾”اور جو عمل تم کرتے ہو ان کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔“ یعنی تمھارے اچھے برے اعمال کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ عدل کے ساتھ تمھیں اسکی پوری پوری جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {لو شاء الله} لجَمَعَ الناس على الهدى، وجعلهم {أمَّةً واحدةً}: ولكنَّه تعالى المنفرد بالهداية والإضلال، وهدايتُهُ وإضلالُهُ من أفعاله التابعة لعلمِهِ وحكمتِهِ، يعطي الهداية من يستحقُّها فضلاً، ويمنعُها مَنْ لا يستحقُّها عدلاً {ولَتُسْألُنَّ عما كُنتم تعملونَ}: من خيرٍ وشرٍّ، فيجازيكم عليها أتمَّ الجزاء وأعدله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔