تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 92

وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّتِیۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَہَا مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ اَنۡکَاثًا ؕ تَتَّخِذُوۡنَ اَیۡمَانَکُمۡ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمۡ اَنۡ تَکُوۡنَ اُمَّۃٌ ہِیَ اَرۡبٰی مِنۡ اُمَّۃٍ ؕ اِنَّمَا یَبۡلُوۡکُمُ اللّٰہُ بِہٖ ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ مَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۹۲﴾
اور اس عورت کی طرح نہ ہو جائو جس نے اپنا سوت مضبوط کرنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈالا، تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان فریب کا ذریعہ بناتے ہو، اس لیے کہ ایک جماعت دوسری جماعت سے بڑھی ہوئی ہو، اللہ تو تمھیں اس کے ساتھ صرف آزماتا ہے اور یقینا قیامت کے دن وہ تمھارے لیے ضرور واضح کرے گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔ En
اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا
En
اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈاﻻ، کہ تم اپنی قسموں کو آپس کے مکر کا باعﺚ ٹھراؤ، اس لیے کہ ایک گروه دوسرے گروه سے بڑھا چڑھا ہوجائے۔ بات صرف یہی ہے کہ اس عہد سے اللہ تمہیں آزما رہا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے لیے قیامت کے دن ہر اس چیز کو کھول کر بیان کر دے گا جس میں تم اختلاف کر رہے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَا تَكُوْنُوْا اپنے عہد توڑنے میں بدترین مثال نہ بنو جو بدعہدی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے والوں کی صفت پر دلالت کرتی ہے ﴿ كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَ٘زْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُ٘وَّ٘ةٍ اَنْكَاثًا اس عورت کی مانند، جس نے مضبوطی سے سوت کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔ یعنی پہلے اس نے محنت سے سوت کاتا، جب وہ مضبوط اور اس کی خواہش کے مطابق ہوگیا تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا، گویا اس نے پہلے کاتنے کی محنت کی، پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں محنت کی۔ پس ناکامی، تھکاوٹ، حماقت اور عقل کی کمی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ اسی طرح جو کوئی عہد کو توڑتا ہے وہ ظالم، جاہل اور احمق ہے، اس کے دین اور مروت میں نقص ہے۔
﴿ تَتَّؔخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ کہ ٹھہراؤ اپنی قسموں کو دخل دینے کا بہانہ آپس میں، اس واسطے کہ ایک فرقہ ہو چڑھا ہوا دوسرے سے یعنی تمھاری یہ حالت نہیں ہونی چاہیے کہ موکد اور پختہ قسمیں اٹھاؤ، پھر موقع اور حالات کی تلاش میں رہو۔ پس ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اگر معاہدہ کرنے والا کمزور ہو اور مخالف فریق پر قدرت نہ رکھتا ہو تو معاہدے کو پورا کرے مگر قسم اور معاہدے کی حرمت اور تعظیم کی خاطر نہیں بلکہ اپنی بے بسی کی بنا پر اور اگر معاہدہ کرنے والا طاقتور ہو اور معاہدہ توڑنے میں اسے کوئی دنیاوی مصلحت نظر آتی ہو تو اسے توڑ ڈالے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے عہد کی پروا نہ کرے۔ یہ سب کچھ خواہشات نفس کے تابع ہو اور اسے اللہ تعالیٰ کی مراد، مروت انسانی اور اخلاق فاضلہ پر مقدم رکھا گیا ہو اور یہ اس لیے کہ ایک قوم عدد اور طاقت کے لحاظ سے دوسری قوم سے بڑی ہے۔ ﴿ اِنَّمَا یَبْلُوْؔكُمُ اللّٰهُ بِهٖ یہ تو اللہ پرکھتا ہے تم کو اس کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمھارا امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمانے کے لیے مصیبتوں کے اسباب مقرر کرتا ہے جس سے سچا اور وفادار شخص بدعہد اور بدبخت شخص سے ممتاز ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَلَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ اور آئندہ کھول دے گا اللہ تمھارے لیے قیامت کے دن جس بات میں تم جھگڑتے تھے پس وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزا دے گا اور بدعہدی کرنے والے کو رسوا کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولا تكونوا}: في نقضِكُم للعهودِ بأسوأ الأمثال وأقبحها وأدلِّها على سفه متعاطيها، وذلك {كالتي} تَغْزِلُ غزلاً قويًّا؛ فإذا استحكم وتمَّ ما أريد منه؛ نَقَضَتْه فجعلتْه {أنْكاثاً}: فتعبت على الغزل، ثم على النقض، ولم تستفدْ سوى الخيبة والعناء وسفاهة العقل ونقص الرأي؛ فكذلك مَنْ نَقَضَ ما عاهد عليه؛ فهو ظالمٌ جاهلٌ سفيهٌ ناقص الدين والمروءة. وقوله: {تتَّخذون أيمانكم دَخَلاً بينَكم أن تكونَ أمَّةٌ هي أربى من أمَّةٍ}؛ أي: لا تنبغي هذه الحالة منكم؛ تعقدون الأيمان المؤكَّدة، وتنتظِرون فيها الفرصَ: فإذا كان العاقدُ لها ضعيفاً غير قادرٍ على الآخر؛ أتمَّها لا لتعظيم العقد واليمين، بل لعجزِهِ. وإن كان قويًّا يرى مصلحتَهَ الدنيويَّة في نقضِها؛ نَقَضَها غيرَ مبالٍ بعهدِ الله ويمينِه، كلُّ ذلك دَوَراناً مع أهوية النفوس وتقديماً لها على مراد الله منكم وعلى المروءة الإنسانيَّة والأخلاق المرضيَّة؛ لأجل أن تكون أمة أكثر عدداً وقوَّة من الأخرى. وهذا ابتلاء من الله وامتحان يبتليكم [الله] به؛ حيث قيَّضَ من أسباب المِحَنِ الذي يُمْتَحَنُ به الصادق الوفيُّ من الفاجر الشقيِّ. {وليبيِّننَّ لكم يومَ القيامةِ ما كنتُم فيه تختلفونَ}: فيجازي كلًّا بعمله ، ويخزي الغادرَ.