تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 76

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلَیۡنِ اَحَدُہُمَاۤ اَبۡکَمُ لَا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّ ہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوۡلٰىہُ ۙ اَیۡنَمَا یُوَجِّہۡہُّ لَایَاۡتِ بِخَیۡرٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیۡ ہُوَ ۙ وَ مَنۡ یَّاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ ۙ وَ ہُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿٪۷۶﴾
اور اللہ نے ایک مثال بیان کی، دو آدمی ہیں جن میں سے ایک گونگا ہے، کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے، وہ اسے جہاں بھی بھیجتا ہے، کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، کیا یہ اور وہ شخص برابر ہیں جو عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے اور وہ سیدھے راستے پر ہے۔ En
اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟
En
اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے، دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وه اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیجے وه کوئی بھلائی نہیں ﻻتا، کیا یہ اور وه جو عدل کا حکم دیتا ہے اور ہے بھی سیدھی راه پر، برابر ہوسکتے ہیں؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

دوسری مثال یہ ہے ﴿ رَّجُلَیْ٘نِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ دو آدمی ہیں، ایک ان میں سے گونگا ہے جو سن سکتا ہے نہ بول سکتا ہے ﴿ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ جو (قلیل یا کثیر) کسی چیز پر قادر نہیں ﴿ وَّهُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰ٘ىهُ اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے وہ خود اپنی خدمت کرنے پر قادر نہیں بلکہ اس کے برعکس اس کا مالک اس کی خدمت کرتا ہے اور وہ ہر لحاظ سے ناقص ہے۔ ﴿ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَمَنْ یَّ٘اْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَهُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ کیا برابر ہے وہ اور ایک وہ شخص جو انصاف کے ساتھ حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے پس اس کے اقوال عدل پر مبنی اور اس کے افعال درست ہیں تو جس طرح یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے، اسی طرح وہ ہستی جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے درآں حالیکہ وہ اپنے مصالح پر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتی، اللہ تعالیٰ کے برابر کیسے ہو سکتی ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ اس کے مصالح کا انتظام نہ کرے تو وہ ان میں سے کسی چیز پر بھی قادر نہیں۔ ایسا شخص اس شخص کی برابری کر سکتا ہے نہ اس کا ہمسر ہو سکتا ہے جو حق کے سوا کچھ نہیں بولتا اور وہ صرف وہی فعل سرانجام دیتا ہے جو قابل ستائش ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والمثل الثاني: مَثَلُ {رجلين أحدُهما أبكمُ}: لا يسمعُ ولا ينطِقُ، و {لا يقدِرُ على شيءٍ}: لا قليل ولا كثير، {وهو كَلٌّ على مولاه}؛ أي: يخدمه مولاه ولا يستطيع هو أن يخدِمَ نفسه؛ فهو ناقصٌ من كلِّ وجه، فهل يَسْتَوي هذا ومَنْ كان {يأمُرُ بالعدل وهو على صراطٍ مستقيم}: فأقوالُهُ عدلٌ وأفعاله مستقيمةٌ؛ فكما أنهما لا يستويان؛ فلا يستوي مَنْ عُبِدَ من دون الله وهو لا يقدِرُ على شيء من مصالحه؛ فلولا قيامُ الله بها؛ لم يستطعْ شيئاً منها، لا يكون كفواً ولا ندًّا لمن لا يقولُ إلاَّ الحقَّ، ولا يفعلُ إلاَّ ما يُحْمَدُ عليه.