اللہ نے ایک مثال بیان کی، ایک غلام ہے جو کسی کی ملکیت ہے، کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ شخص جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق دیا ہے تو وہ اس میں سے پوشیدہ اور کھلم کھلا خرچ کرتا ہے، کیا وہ برابر ہیں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔
En
خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے
اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے دوسرے کی ملکیت کا، جو کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک اور شخص ہے جسے ہم نے اپنے پاس سے معقول روزی دے رکھی ہے، جس میں سے وه چھپے کھلے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ سب برابر ہوسکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے سب تعریف ہے، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پہلی مثال ایک غلام کی ہے جو کسی دوسرے کی غلامی میں ہے جو مال کا مالک ہے نہ دنیا کی کسی چیز کا جبکہ دوسرا ایک آزاد اور دولت مند شخص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مال کی تمام اصناف میں سے بہترین رزق سے نوازا ہے وہ سخی اور بھلائی کو پسند کرنے والا شخص ہے۔ وہ اس مال میں سے کھلے چھپے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ مرد آزاد اور وہ غلام برابر ہو سکتے ہیں؟ حالانکہ یہ دونوں مخلوق ہیں اور ان کے درمیان مساوات محال نہیں ہے۔ پس جب یہ دونوں مخلوق ہوتے ہوئے برابر نہیں ہو سکتے تو ایک مخلوق اور غلام ہستی، جو کسی چیز کی مالک ہے نہ کوئی قدرت اور اختیار رکھتی ہے بلکہ وہ ہر لحاظ سے محتاج ہے، رب تعالیٰ کے برابر کیسے ہو سکتی ہے جو تمام سلطنتوں کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہے؟
بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی اور حمد و ستائش کی تمام انواع سے اپنے آپ کو متصف کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلْحَمْدُلِلّٰهِ﴾”تمام تعریف اللہ کے لیے ہے“ گویا کہ یوں کہا گیا کہ جب معاملہ یہ ہے تو مشرکین نے اپنے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر کیوں ٹھہرا دیا؟ اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلْاَكْثَرُهُمْلَایَعْلَمُوْنَ ﴾”بلکہ ان کے اکثر لوگ علم نہیں رکھتے“ پس اگر انھیں حقیقت کا علم ہوتا تو وہ اس شرک عظیم کے ارتکاب کی کبھی جرأت نہ کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أحدهما: عبدٌ مملوكٌ؛ أي: رقيق لا يملك نفسَه ولا يملكُ من المال والدُّنيا شيئاً، والثاني: حرٌّ غنيٌّ قد رزقه الله منه رزقاً حسناً من جميع أصناف المال، وهو كريمٌ محبٌّ للإحسان؛ فهو ينفِقُ منه سرًّا وجهراً؛ هل يستوي هذا وذاك؟! لا يستويانِ؛ مع أنَّهما مخلوقان، غير محال استواؤُهما؛ فإذا كانا لا يستويان؛ فكيف يستوي المخلوقُ العبدُ الذي ليس له ملكٌ ولا قدرةٌ ولا استطاعةٌ، بل هو فقير من جميع الوجوه، بالربِّ الخالق المالك لجميع الممالك، القادر على كلِّ شيءٍ؟! ولهذا حمد نفسه واختصَّ بالحمدِ بأنواعه، فقال: {الحمدُ لله}: فكأنَّه قيلَ: إذا كان الأمرُ كذلك؛ فلم سوَّى المشركون آلهتهم بالله؟! قال: {بل أكثرُهم لا يعلمونَ}: فلو علموا حقيقة العلم؛ لم يتجرَّؤوا على الشرك العظيم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔