اور آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے پاس ہے اور قیامت کا معاملہ نہیں ہے مگر آنکھ جھپکنے کی طرح، یا وہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
En
اور آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے اور (خدا کے نزدیک) قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے
آسمانوں اور زمین کا غیب صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اور قیامت کا امر تو ایسا ہی ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا، بلکہ اس سے بھی زیاده قریب۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھنے میں منفرد اور یکتا ہے، پس چھپی ہوئی باطن کی باتیں اور اسرارنہاں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، قیامت کی گھڑی کا علم بھی اسی زمرے میں آتا ہے، چنانچہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی۔ جب قیامت کی گھڑی نمایاں ہو کر سامنے آجائے گی تو یہ ﴿ اِلَّاكَ٘لَ٘مْحِالْ٘بَصَرِاَوْهُوَاَ٘قْ٘رَبُ﴾”آنکھ جھپکنے یا اس سے بھی کم وقت میں آ جائے گی۔“ پس لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور محشر کی طرف دوڑیں گے اور جو لوگ مہلت چاہیں گے ان کے لیے مہلت کا وقت ختم ہو جائے گا۔ ﴿ اِنَّاللّٰهَعَلٰىكُ٘لِّشَیْءٍقَدِیْرٌ ﴾”بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے، جو ہر چیز کو شامل ہے، مردوں کو زندہ کرنا کوئی انوکھی بات نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: هو تعالى المنفرد بغيبِ السماوات والأرض؛ فلا يعلم الخفايا والبواطنَ والأسرارَ إلاَّ هو، ومن ذلك علمُ الساعة؛ فلا يدري أحدٌ متى تأتي إلا اللهُ؛ فإذا جاءت وتجلَّت؛ لم تكنْ {إلاَّ كلمح البصرِ أو هو أقربُ}: من ذلك، فيقومُ الناس من قبورِهم إلى يوم بعثِهِم ونُشورِهم، وتفوتُ الفرصُ لمَنْ يريد الإمهال. {إنَّ الله على كلِّ شيءٍ قديرٌ}: فلا يُستغرب على قدرته الشاملة إحياؤه للموتى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔