اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فوقیت بخشی ہے، پس وہ لوگ جنھیں فوقیت دی گئی ہے کسی صورت اپنا رزق ان (غلاموں) پر لوٹانے والے نہیں جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں کہ وہ اس میں برابر ہو جائیں، تو کیا وہ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔
En
اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے تو جن لوگوں کو فضیلت دی ہے وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہیں نہیں کہ سب اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہیٰ کے منکر ہیں
اللہ تعالیٰ ہی نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر روزی میں زیادتی دے رکھی ہے، پس جنہیں زیادتی دی گئی ہے وه اپنی روزی اپنے ماتحت غلاموں کو نہیں دیتے کہ وه اور یہ اس میں برابر ہو جائیں، تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہو رہے ہیں؟
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل اور شرک کی قباحت پر برہان ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سب اس بات میں مشترک ہو کہ تم مخلوق اور مرزوق ہو ﴿ فَضَّلَبَعْضَكُمْعَلٰىبَعْضٍفِیالرِّزْقِ﴾” (البتہ اللہ تعالیٰ نے) رزق کے معاملے میں تمھیں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے“ تم میں سے بعض کو آزاد بنایا، ان کو مال و دولت اور ثروت سے نوازا اور تم میں بعض کو ان کا غلام بنا دیا، وہ دنیا میں کسی چیز کے مالک نہیں ہیں اور جس طرح ان غلاموں کے وہ آقا جن کو اللہ تعالیٰ نے رزق میں فضیلت عطا کی ہے۔ ﴿ بِرَآدِّیْرِزْقِهِمْعَلٰىمَامَلَكَتْاَیْمَانُهُمْفَهُمْفِیْهِسَوَؔآءٌ ﴾”وہ روزی پہنچانے والے نہیں ان کو جن کے ان کے دائیں ہاتھ مالک ہوئے کہ وہ سب اس میں برابر ہو جائیں “ اور وہ اس امر کو محال سمجھتے ہیں۔ اسی طرح وہ ہستیاں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا رکھا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے غلام ہیں وہ کسی ذرہ بھر چیز کے مالک نہیں ہیں … پھر تم ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک کیسے ٹھہراتے ہو؟ کیا یہ سب سے بڑا ظلم اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار نہیں؟ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَبِنِعْمَةِاللّٰهِیَجْحَدُوْنَ ﴾”کیا پس وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں؟“ اگر انھوں نے ان نعمتوں کا اقرار کیا ہوتا اور ان کو اس ہستی کی طرف منسوب کیا ہوتا جو اس کی مستحق ہے تو یہ کبھی شرک نہ کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا من أدلة توحيده وقبح الشرك به؛ يقول تعالى: كما أنكم مشتركون بأنَّكم مخلوقون مرزوقون؛ إلاَّ أنَّه تعالى {فضَّلَ بعضَكم على بعض في الرزق}: فجعل منكم أحراراً لهم مالٌ وثروةٌ، ومنكم أرقَّاء لهم لا يملكونَ شيئاً من الدنيا؛ فكما أن سادتهم الذين فضَّلهم الله عليهم بالرزق ليسوا {برادِّي رزقِهِم على ما مَلَكَتْ أيمانُهم فهم فيه سواءٌ}: ويرون هذا من الأمور الممتنعة؛ فكذلك مَنْ أشركتُم بها مع الله؛ فإنَّها عبيدٌ ليس لها من الملك مثقال ذَرَّةٍ؛ فكيف تجعلونها شركاء لله تعالى؟! هل هذا إلاَّ مِنْ أعظم الظُّلم والجحود لنعم الله، ولهذا قال: {أفبنعمةِ الله يَجْحَدُونَ}؛ فلو أقرُّوا بالنعمة ونسبوها إلى مَنْ أولاها؛ لما أشركوا به أحداً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔