تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 72

وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ بَنِیۡنَ وَ حَفَدَۃً وَّ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ یُؤۡمِنُوۡنَ وَ بِنِعۡمَتِ اللّٰہِ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿ۙ۷۲﴾
اور اللہ نے تمھارے لیے خود تمہی میں سے بیویاں بنائیں اور تمھارے لیے تمھاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے بنائے اور تمھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا تو کیا وہ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا وہ انکار کرتے ہیں۔ En
اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں
En
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تم میں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں۔ کیا پھر بھی لوگ باطل پر ایمان ﻻئیں گے؟ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اس احسان عظیم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ان کی بیویاں بنائیں تاکہ وہ ان بیویوں کے پاس سکون حاصل کریں اور ان بیویوں سے ان کو اولاد عطا کی تاکہ ان سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، یہ اولاد ان کی خدمت کرے اور ان کی مختلف حوائج پوری کرے اور وہ متعدد پہلوؤوں سے اپنی اولاد سے فائدہ اٹھائیں اور ان کو پاک مطعومات و مشروبات سے نوازا اور دیگر ظاہری نعمتیں عطا کیں جن کو شمار کرنا بندوں کے بس میں نہیں۔ ﴿اَفَبِالْبَاطِلِ۠ یُؤْمِنُوْنَ کیا پس وہ باطل کو مانتے ہیں؟ یعنی کیا یہ لوگ باطل پر ایمان رکھتے ہیں جو کوئی قابل ذکر چیز تھا ہی نہیں؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وجود عطا کیا اور اس کا وجود عدم کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ پس یہ باطل معبود تخلیق، رزق اور تدبیر کسی چیز پر بھی قادر نہیں اور یہ بات ہر اس چیز کو شامل ہے جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے کیونکہ وہ باطل ہے۔ تب مشرکین اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کو معبود کیسے بنا لیتے ہیں؟ ﴿ وَبِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْ٘فُ٘رُوْنَ اور وہ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور کفر میں اس کو استعمال کرتے ہیں۔ کیا یہ سب سے بڑا ظلم، سب سے بڑا گناہ اور سب سے بڑی حماقت نہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن منَّته العظيمة على عباده؛ حيث جعل لهم أزواجاً ليسكنُوا إليها، وجعل لهم من أزواجهم أولاداً تَقَرُّ بهم أعينُهم ويخدِمونهم ويقضونَ حوائِجَهم وينتفعونَ بهم من وجوهٍ كثيرةٍ، ورزَقَهم من الطيبات من المآكل والمشارب والنِّعم الظاهرة التي لا يقدِرُ العبادُ أن يُحْصوها. {أفبالباطلِ يؤمنونَ وبنعمةِ الله هم يكفُرون}؛ أي: أيؤمنون بالباطل الذي لم يكن شيئاً مذكوراً، ثم أوجَدَه الله، وليس له من وجوده سوى العدم؟ فلا تَخْلُقُ ولا تَرْزُقُ ولا تدبِّرُ من الأمور شيئاً، وهذا عامٌّ لكلِّ ما عُبِدَ من دون الله؛ فإنَّها باطلةٌ؛ فكيف يتَّخذها المشركون من دون الله. {وبنعمة الله هم يكفرون}: يجحَدونها، يستعينون بها على معاصي الله والكفر به، هل هذا إلاَّ من أظلم الظُّلم وأفجر الفجور وأسفه السَّفَه؟!