اور اللہ نے تمھیں پیدا کیا، پھر وہ تمھیں فوت کرتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جان لینے کے بعد کچھ نہ جانے۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قادر ہے۔
En
اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہیں۔ بےشک خدا (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے
اللہ تعالیٰ نے ہی تم سب کو پیدا کیا ہے وہی پھر تمہیں فوت کرے گا، تم میں ایسے بھی ہیں جو بدترین عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے بوجھنے کے بعد بھی نہ جانیں۔ بیشک اللہ دانا اور توانا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہی ہے جس نے بندوں کو پیدا کیا اور ان کو تخلیق کے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل کیا اور جب وہ اپنی مدت مقررہ پوری کر لیتے میں تو اللہ تعالیٰ ان کو وفات دے دیتا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ طویل عمر عطا کرتا ہے حتیٰ کہ ﴿ یُّرَدُّاِلٰۤىاَرْذَلِالْ٘عُمُرِ ﴾”اس کو بدترین عمر تک پہنچا دیا جاتا ہے“ اس عمر میں انسان ظاہری اور باطنی قوی کی کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے یہاں تک کہ عقل بھی، جو کہ انسان کا جوہر ہے، اس سے متاثر ہوتی ہے، اس کی عقل کی کمزوری میں اضافہ ہوتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ ان تمام چیزوں کو بھول جاتا ہے جو اسے معلوم تھیں، اس کی عقل بچے کی عقل کی مانند ہو جاتی ہے، اس لیے فرمایا: ﴿ لِكَؔیْلَایَعْلَمَبَعْدَعِلْمٍشَیْـًٔؔا١ؕاِنَّاللّٰهَعَلِیْمٌقَدِیْرٌ ﴾”تاکہ سمجھنے کے بعد اب کچھ نہ سمجھے، اللہ تعالیٰ جاننے والا، قدرت والا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ یہ چیز بھی اللہ تعالیٰ کے دست قدرت کے تحت ہی ہے کہ آدمی تخلیق کے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَللّٰهُالَّذِیْخَلَقَكُمْمِّنْضُؔعْفٍثُمَّجَعَلَمِنْۢبَعْدِضُؔعْفٍقُ٘وَّ٘ةًثُمَّجَعَلَمِنْۢبَعْدِقُ٘وَّ٘ةٍضُؔعْفًاوَّشَیْبَةً١ؕیَخْلُ٘قُمَایَشَآءُ١ۚوَهُوَالْعَلِیْمُالْقَدِیْرُ ﴾ (الروم: 30؍54) ”وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمھیں کمزور حالت میں پید کیا پھر کمزوری کے بعد اس نے تمھیں قوت عطا کی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دے دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ علم اور قدرت والا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنه الذي خَلَقَ العباد ونقلهم في الخليقة طوراً بعد طور، ثم بعد أن يستكملوا آجالهم يتوفَّاهم، ومنهم من يُعَمِّرُهُ حتى يُرَدَّ {إلى أرذل العُمُر}؛ أي: أخسّه، الذي يبلغ به الإنسان إلى ضَعْف القوى الظاهرة والباطنة، حتى العقل الذي هو جوهر الإنسان يزيد ضَعْفُهُ، حتى إنَّه ينسى ما كان يعلمه، ويصير عقلُهُ كعقل الطفل، ولهذا قال: {لِكَيْ لا يعلم بعدَ علم شيئاً إنَّ الله عليمٌ قديرٌ}؛ أي: قد أحاط علمه وقدرته بجميع الأشياء، ومن ذلك ما يُنَقِّلُ به الآدميَّ من أطوار الخلقة خلقاً بعد خلقٍ؛ كما قال تعالى: {الله الذي خَلَقَكُم من ضَعْفٍ ثم جعل من بعدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثم جعل من بعد قُوَّةٍ ضعفاً وشيبةً يَخْلُقُ ما يشاء وهو العليم القديرُ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔