تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 67

وَ مِنۡ ثَمَرٰتِ النَّخِیۡلِ وَ الۡاَعۡنَابِ تَتَّخِذُوۡنَ مِنۡہُ سَکَرًا وَّ رِزۡقًا حَسَنًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے بھی، جس سے تم نشہ آور چیز اور اچھا رزق بناتے ہو۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو سمجھتے ہیں۔ En
اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزیں تیار کرتے ہو کہ ان سے شراب بناتے ہو) اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے
En
اور کھجور اور انگور کے درختوں کے پھلوں سے تم شراب بنا لیتے ہو اور عمده روزی بھی۔ جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لیے تو اس میں بہت بڑی نشانی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے کھجور اور انگور پیدا کیے، نیز بندوں کے فوائد کے لیے رزق حسن کی مختلف انواع پیدا کی ہیں جن کو وہ تازہ بتازہ اور ان کے پکنے کے بعد کھاتے ہیں، انھیں ذخیرہ کرتے ہیں، انھیں کھانے پینے کے لیے استعمال میں لاتے ہیں، ان سے رس نچوڑ کر نبیذ اور دیگر نشہ آور مشروبات بناتے ہیں جو اس سے قبل ان کے لیے حلال تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمام نشہ آور چیزوں کو حرام قرار دے دیا اور اس کے عوض انھیں پھلوں سے نچوڑے ہوئے پاک و صاف رس، نبیذ اور مختلف اقسام کے لذیذ اور مباح مشروبات عطا کیے۔ اس لیے جن مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہاں نشہ آور چیزوں سے مراد، لذیذ مطعومات و مشروبات ہیں وہ پہلے قول سے زیادہ قرین صواب ہے۔ ﴿اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں) میں نشانی ہے۔ یعنی اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو اس کی قدرت کاملہ کو خوب سمجھتے ہیں کیونکہ اس نے درختوں پر ایندھن سے مشابہت رکھنے والی چیزیں پیدا کیں جو ایک لذید پھل اور خوش ذائقہ میوہ بن جاتی ہیں۔ اس کی رحمت عام اور بے پایاں ہے جو اس کے تمام بندوں پر سایہ کناں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس رحمت کو سب کے لیے آسان کر دیا… نیز وہ اکیلا ہی معبود برحق ہے کیونکہ ان نعمتوں کو عطا کرنے میں وہ یکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وجعل تعالى لعباده من ثمرات النخيل والأعناب منافع للعباد ومصالح من أنواع الرزق الحسن الذي يأكُلُه العباد طريًّا ونضيجاً وحاضراً ومدَّخراً وطعاماً وشراباً يُتَّخَذُ من عصيرها ونبيذها ومن السَّكَر الذي كان حلالاً قبل ذلك، ثمَّ إن الله نَسَخَ حِلَّ المسكرات وأعاض عنها بالطيِّبات من الأنبذة وأنواع الأشربة اللذيذة المباحة، ولهذا قال من قال: إنَّ المراد بالسَّكَر هنا الطعام والشراب اللذيذ، وهو أولى من القول الأول. {إنَّ في ذلك لآية لقوم يعقلونَ}: عن الله كمال اقتداره؛ حيث أخرجها من أشجارٍ شبيهةٍ بالحطب، فصارت ثمرةً لذيذةً وفاكهةً طيبةً، وعلى شمول رحمته؛ حيث عمَّ بها عباده، ويسَّرها لهم، وأنَّه الإله المعبود وحَده؛ حيثُ إنه المنفردُ بذلك.