اور بلاشبہ تمھارے لیے چوپائوں میں یقینا بڑی عبرت ہے، ہم ان چیزوں میں سے جو ان کے پیٹوں میں ہیں، گوبر اور خون کے درمیان سے تمھیں خالص دودھ پلانے کے لیے دیتے ہیں، جو پینے والوں کے لیے حلق سے آسانی سے اتر جانے والا ہے۔
En
اور تمہارے لیے چارپایوں میں بھی (مقام) عبرت (وغور) ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس سے ہم تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے
تمہارے لیے تو چوپایوں میں بھی بڑی عبرت ہے کہ ہم تمہیں اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اسی میں سے گوبر اور لہو کے درمیان سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے سہتا پچتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِنَّلَكُمْفِیالْاَنْعَامِ﴾”اور بے شک تمھارے لیے چوپایوں میں “ جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے فوائد کے لیے مسخر کیا ﴿ لَعِبْرَةً﴾”سوچنے کی جگہ ہے“ جس سے تم اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور وسعت احسان پر استدلال کر سکتے ہو کیونکہ اس نے تمھیں ان مویشیوں کے پیٹ سے (دودھ) پلایا جس کا مادہ گوبر اور خون پر مشتمل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گوبر اور خون سے ایسا دودھ نکالا جو ہر قسم کی آلائش سے پاک اور اپنی لذت کی بنا پر پینے والوں کے لیے انتہائی خوش ذائقہ ہے، نیز یہ کہ اس کو پیا جاتا ہے اور اس سے غذا حاصل کی جاتی ہے۔ کیا یہ سب کچھ طبیعی امور کی بجائے قدرت الٰہیہ نہیں ہے؟ اس عالم طبیعیات میں کون سی چیز ہے جو اس چارے کو جسے چوپائے کھاتے ہیں اور اس میٹھے یا کھارے پانی کو جسے یہ چوپائے پیتے ہیں، پینے والوں کے لیے خالص اور لذیذ دودھ میں بدل دیتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {إنَّ لكُم في الأنعام}: التي سخَّرها الله لمنافعكم، {لعبرةً}: تستدلُّون بها على كمال قدرة الله وسعة إحسانه؛ حيث أسقاكم من بطونها المشتملة على الفَرْث والدَّم، فأخرج من بين ذلك لبناً خالصاً من الكدر سائغاً للشاربين للذَّته ولأنه يُسقي ويغذي؛ فهل هذه إلاَّ قدرة إلهيَّة لا أمور طبيعيَّة؟! فأي شيء في الطبيعة يقلب العلف الذي تأكُلُه البهيمة والشراب الذي تشربه من الماء العذب والملح لبناً خالصاً سائغاً للشاربين؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔