تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 68

وَ اَوۡحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِیۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعۡرِشُوۡنَ ﴿ۙ۶۸﴾
اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ کچھ پہاڑوں میں سے گھر بنا اور کچھ درختوں میں سے اور کچھ اس میں سے جو لوگ چھپر بناتے ہیں۔ En
اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا
En
آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی اونچی اونچی ٹٹیوں میں اپنے گھر (چھتے) بنا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس چھوٹی سی شہد کی مکھی میں بھی غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز طریقے سے راہنمائی کی اور اسے (پھولوں کا رس چوسنے کے لیے) پھلواریاں مہیا کیں، پھر ان گھروں کی طرف واپس لوٹنے کے لیے وحی کی جو اس نے اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے تیار کیے تھے۔ وہ شہد کی اس مکھی کے پیٹ سے نہایت لذیذ شہد نکالتا ہے جو زمین اور پھلواری کے مطابق مختلف رنگوں کا ہوتا ہے۔ شہد میں لوگوں کے لیے متعدد امراض سے شفا رکھ دی گئی ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی لامحدود عنایت اور اپنے بندوں پر اس کے کامل لطف و کرم پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے سوا کسی سے محبت کی جائے نہ اس کے سوا کسی کو پکارا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

في خلق هذه النَّحلة الصغيرة، التي هداها الله هذه الهداية العجيبة، ويَسَّر لها المراعي، ثم الرجوع إلى بيوتها التي أصلحتها بتعليم الله لها وهدايته لها، ثم يخرج من بطونها هذا العسل اللذيذ مختلف الألوان بحسب اختلاف أرضها ومراعيها؛ فيه شفاء للناس من أمراض عديدة؛ فهذا دليلٌ على كمال عناية الله تعالى وتمام لطفه بعباده، وأنَّه الذي لا ينبغي أن يُحَبَّ غيره، ويُدْعى سواه.