تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 6

وَ لَکُمۡ فِیۡہَا جَمَالٌ حِیۡنَ تُرِیۡحُوۡنَ وَ حِیۡنَ تَسۡرَحُوۡنَ ﴿۪۶﴾
اور تمھارے لیے ان میں ایک جمال ہے، جب تم شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب صبح چرانے کو لے جاتے ہو۔ En
اور جب شام کو انہیں (جنگل سے) لاتے ہو اور جب صبح کو (جنگل) چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے
En
اور ان میں تمہاری رونق بھی ہے جب چرا کر ﻻؤ تب بھی اور جب چرانے لے جاؤ تب بھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَحِیْنَ تَ٘سْرَحُوْنَ اور تمھارے واسطے ان میں خوب صورتی ہے جب شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب چرانے لے جاتے ہو یعنی شام کے وقت ان مویشیوں کے گھر لوٹنے اور آرام کرنے اور صبح کے وقت چرنے کے لیے باہر جانے میں تمھارے لیے خوبصورتی ہے۔ ان چوپایوں کی خوبصورتی کا ان کے لیے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ تم ہی ہو جو ان مویشیوں کو، اپنے لباس، اپنی اولاد اور اپنے مال کو اپنے جمال کا ذریعہ بناتے ہو اور یہ چیزیں تمھیں اچھی لگتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولكُم فيها جمالٌ حين تُريحونَ وحين تَسْرَحون}؛ أي: في وقت رواحها وراحتها وسكونها ووقت حركتها وسرحها، وذلك أنَّ جمالها لا يعود إليها منه شيءٌ؛ فإنَّكم أنتم الذين تتجمَّلون بها كما تتجملون بثيابكم وأولادكم وأموالكم وتُعْجَبون بذلك.