اور وہ تمھارے بوجھ اس شہر تک اٹھا کرلے جاتے ہیں جس میں تم کبھی پہنچنے والے نہ تھے، مگر جانوں کی مشقت کے ساتھ، بے شک تمھارا رب یقینا بہت نرمی کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمتِ شاقّہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار نہایت شفقت والا اور مہربان ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَتَحْمِلُاَثْقَالَكُمْ﴾”اور وہ تمھارے بوجھ اٹھاتے ہیں۔“ یعنی یہ چوپائے تمھارے بھاری بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں بلکہ وہ تمھیں بھی اٹھاتے ہیں۔ ﴿اِلٰىبَلَدٍلَّمْتَكُوْنُوْابٰلِغِیْهِاِلَّابِشِقِّالْاَنْ٘فُ٘سِ﴾”ان شہروں تک کہ تم نہ پہنچتے وہاں مگر جان مار کر“ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمھارے مطیع بنا دیا۔ ان میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور بعض جانوروں پر تم جو چاہتے ہو بوجھ لادتے ہو اور دور دراز شہروں اور ملکوں تک لے جاتے ہو۔ ﴿ اِنَّرَبَّكُمْلَرَءُوْفٌرَّحِیْمٌ﴾”بے شک تمھارا رب بڑا شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے“ اس نے تمھارے لیے ان تمام چیزوں کو مسخر کر دیا جن کی تمھیں ضرورت اور جن کی تمھیں حاجت تھی۔ پس ہر قسم کی حمد و ثنا کا وہی مستحق ہے، جیسا کہ اس کے جلال، اس کی عظمت سلطنت اور اس کے بے پایاں جودوکرم کے لائق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وتحملُ أثقالَكم}: من الأحمال الثقيلة، بل وتحملكم أنتم، {إلى بلدٍ لم تكونوا بالغيه إلاَّ بِشِقِّ الأنفس}: ولكن الله ذلَّلها لكم؛ فمنها ما تركبونه، ومنها ما تحملون عليه ما تشاؤون من الأثقال إلى البلدان البعيدة والأقطار الشاسعة. {إنَّ ربَّكم لرءوفٌ رحيمٌ}: إذ سخَّر لكم ما تضطرُّون إليه وتحتاجونه؛ فله الحمدُ كما ينبغي لجلال وجهه وعظيم سلطانه وسعة جوده وبرِّهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔