تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 53

وَ مَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعۡمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فَاِلَیۡہِ تَجۡـَٔرُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾
اور تمھارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، پھر جب تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم گڑگڑاتے ہو۔ En
اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو
En
تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں، اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو اسی کی طرف نالہ وفریاد کرتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ اور جو کچھ تمھارے پاس ہے نعمت ظاہری اور باطنی ﴿ فَ٘مِنَ اللّٰهِ پس وہ اللہ کی طرف سے ہے یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو یہ نعمتیں عطا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہو۔ ﴿ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّ٘رُّ پس جب پہنچتی ہے تمھیں کوئی تکلیف یعنی محتاجی، بیماری یا کوئی اور مصیبت ﴿ فَاِلَیْهِ تَجْـَٔـرُوْنَ تو تم اسی سے فریاد کرتے ہو۔ یعنی گڑگڑا کر آہ و زاری کرتے ہوئے دعا کرتے ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ نقصان اور مصیبت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا۔ پس وہ اللہ جو تمھاری پسندیدہ اشیاء عطا کرنے اور ناپسندیدہ امور کو تم سے دور کرنے میں متفرد (یکتا) ہے تو اس اکیلے کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما بكم من نعمةٍ}: ظاهرةٍ وباطنةٍ {فمِنَ الله}: لا أحد يَشْرَكُه فيها، {ثم إذا مسَّكُم الضُّرُّ}: من فقر ومرض وشدَّة {فإليه تجأرونَ}؛ أي: تضجُّون بالدُّعاء والتضرُّع لعلمكم أنَّه لا يدفعُ الضرَّ والشدَّة إلاَّ هو؛ فالذي انفرد بإعطائكم ما تحبُّون، وصرف ما تكرهون، هو الذي لا تنبغي العبادة إلا له وحده.