(آیت53تا55){ وَمَابِكُمْمِّنْنِّعْمَةٍ …:”نِعْمَةٍ“} (نعمت) نکرہ ہونے کی وجہ سے عام تھی، {”مِنْ“} کے ساتھ عموم کی مزید تاکید ہو گئی کہ جو بھی نعمت تمھارے پاس ہے، یعنی تمھارا وجود، صحت، عافیت، مال، غرض چھوٹی یا بڑی جو بھی نعمت ہے، وہ سب اللہ کی عطا کردہ ہے۔ {”تَجْـَٔرُوْنَ“”جَأَرَيَجْأَرُجُؤَارًا“} (ف) مدد طلب کرنے کے لیے اونچی آواز نکالنا، گڑ گڑانا۔ اصل میں یہ لفظ جنگلی جانوروں کے چیخنے چلانے کے لیے آتا ہے، جیسا کہ گائے کی آواز کے لیے {”خُوَارٌ“}، بکری کے لیے {”ثُغَاءٌ“ } اونٹ کے لیے {”رُغَاءٌ“} اور بھیڑیے اور کتے کے لیے {”عُوَاءٌ“} آتا ہے۔ {”فَتَمَتَّعُوْا“} سو تم فائدہ اٹھا لو، یہ امر ڈانٹنے کے لیے ہے۔ ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۲۱ تا ۲۳)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
53۔ 1 جب سب نعمتوں کا دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو پھر عبادت کسی اور کی کیوں؟ 53۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ایک ہونے کا عقیدہ قلب وجدان کی گہرائیوں میں راسخ ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آجاتا ہے جب ہر طرف سے مایوسی کے بادل گہرے ہوجاتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
53۔ تمہیں جو نعمت بھی مل رہی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے [51] چیخ و پکار کرتے ہو
[51] صرف اللہ تعالیٰ کے حاجت روا اور مشکل کشا ہونے کی یہ صریح شہادت تمہارے اپنے اندر موجود ہے۔ سخت مصیبت کے وقت جب ہر قسم کے سہارے ٹوٹتے نظر آتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لیے تمہاری اصل فطرت ابھر آتی ہے تو تم خالصتاً اللہ ہی کو پکارتے اور اسی کے سامنے فریاد کرنے لگتے ہو۔ کیونکہ انسان کی اصل فطرت اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کو مالک ذی اختیار نہیں جانتی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمَابِكُمْمِّنْنِّعْمَةٍ ﴾”اور جو کچھ تمھارے پاس ہے نعمت“ ظاہری اور باطنی ﴿ فَ٘مِنَاللّٰهِ ﴾”پس وہ اللہ کی طرف سے ہے“ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو یہ نعمتیں عطا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہو۔ ﴿ ثُمَّاِذَامَسَّكُمُالضُّ٘رُّ ﴾”پس جب پہنچتی ہے تمھیں کوئی تکلیف“ یعنی محتاجی، بیماری یا کوئی اور مصیبت ﴿ فَاِلَیْهِتَجْـَٔـرُوْنَ﴾”تو تم اسی سے فریاد کرتے ہو۔“ یعنی گڑگڑا کر آہ و زاری کرتے ہوئے دعا کرتے ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ نقصان اور مصیبت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا۔ پس وہ اللہ جو تمھاری پسندیدہ اشیاء عطا کرنے اور ناپسندیدہ امور کو تم سے دور کرنے میں متفرد (یکتا) ہے تو اس اکیلے کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وما بكم من نعمةٍ}: ظاهرةٍ وباطنةٍ {فمِنَ الله}: لا أحد يَشْرَكُه فيها، {ثم إذا مسَّكُم الضُّرُّ}: من فقر ومرض وشدَّة {فإليه تجأرونَ}؛ أي: تضجُّون بالدُّعاء والتضرُّع لعلمكم أنَّه لا يدفعُ الضرَّ والشدَّة إلاَّ هو؛ فالذي انفرد بإعطائكم ما تحبُّون، وصرف ما تكرهون، هو الذي لا تنبغي العبادة إلا له وحده.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔