تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 54

ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنۡکُمۡ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡکُمۡ بِرَبِّہِمۡ یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾
پھر جب وہ تم سے اس تکلیف کو دور کر دیتا ہے تو اچانک تم میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شریک بنانے لگتے ہیں۔ En
پھر جب وہ تم سے تکلیف کو دور کردیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں سے خدا کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں
En
اور جہاں اس نے وه مصیبت تم سے دفع کر دی تم میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگ جاتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر بہت سے لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ان کو مصیبت سے نجات دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر حمدوثنا بیان کرتے ہیں۔ مگر جب وہ آرام اور خوشحالی کی حالت میں آ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی محتاج مخلوق کو شریک ٹھہرا دیتے ہیں، اسی لیے فرمایا: ﴿ لِیَكْ٘فُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ تاکہ انکار کریں وہ اس چیز کا جو ہم نے ان کو دی یعنی جو کچھ ہم نے انھیں عطا فرمایا۔ کیونکہ ہم ہی نے انھیں سختیوں سے نجات دلائی اور مشقت سے چھڑا یا۔ ﴿ فَتَمَتَّعُوْا پس فائدہ اٹھا لو تم اپنی دنیا میں تھوڑا سا۔ ﴿ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ تمھیں عنقریب اپنے کفر کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكنَّ كثيراً من الناس يظلمون أنفسهم ويجحدون نعمةَ الله عليهم إذا نجَّاهم من الشدَّة - فصاروا في حال الرخاء ـ؛ أشركوا به بعض مخلوقاته الفقيرة، ولهذا قال: {ليكفروا بما آتيناهم}؛ أي: أعطيناهم؛ حيث نَجَّيْنَاهم من الشدة، وخلَّصناهم من المشقَّة. {فتمتَّعوا}: في دُنياكم قليلاً {فسوف تعلمونَ}: عاقبة كفرِكُم.